پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ کیس: عمران خان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

26 اکتوبر 2020

ای میل

وزیر اعظم کی درخواست پر 29 اکتوبر کو فیصلہ سنایا جائے گا — فائل فوٹو / اے ایف پی
وزیر اعظم کی درخواست پر 29 اکتوبر کو فیصلہ سنایا جائے گا — فائل فوٹو / اے ایف پی

انسداد دہشت گردی عدالت نے وزیر اعظم عمران خان کی پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس میں بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

عبداللہ بابر اعوان ایڈووکیٹ نے عمران خان کی جانب سے بریت کی درخواست کے ساتھ تحریری دلائل انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرائے۔

وکیل نے کہا کہ کسی گواہ نے عمران خان کے مقدمے میں ملوث ہونا کا بیان نہیں دیا اور ان کے خلاف پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ کیس کا کوئی ثبوت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ کیس سیاسی مقدمہ تھا جس میں سزا کا کوئی امکان نہیں اور عمران خان کو جھوٹے اور بےبنیاد مقدمے میں پھنسایا گیا، لہٰذا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265 ’کے‘ کے تحت انہیں بری کیا جائے۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو 29 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ حملہ کیس کا فیصلہ 29 اکتوبر کو سنائے جانے کا امکان

یاد رہے کہ مئی 2018 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر تشدد کے کیس سے عمران خان کو بری کردیا تھا۔

پولیس نے دھرنے کے دوران تشدد کو ہوا دینے کے الزام میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان، اور رہنماؤں ڈاکٹر عارف علوی،اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود، اعجاز چوہدری اور دیگر کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ لاگو کیا تھا۔

پروسیکیوشن کے پرانے مؤقف کے مطابق 3 افراد ہلاک، 26 زخمی ہوئے تھے جبکہ 60 کو گرفتار کیا گیا تھا، اس کیس کو برقرار رکھنے کے لیے پروسیکیوشن نے 65 تصاویر، لاٹھیاں اور کٹر وغیرہ بھی عدالت میں پیش کیے تھے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی دھرنا کیس: تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت حاضری سے مستثنیٰ قرار

پروسیکیوشن کا مؤقف یہ تھا کہ احتجاج پر امن نہیں تھا۔

خیال رہے کہ 31 اگست 2014 کو پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیراعظم ہاؤس کی جانب مارچ کیا تھا اور اس دوران شاہراہ دستور پر ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی۔