مغرب کو سمجھانا پڑے گا کہ توہین رسالت اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 30 اکتوبر 2020

ای میل

وزیراعظم عمران خان کا سیرت کانفرنس سے خطاب—تصویر: ڈان نیوز
وزیراعظم عمران خان کا سیرت کانفرنس سے خطاب—تصویر: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے گزشتہ 30 سال میں دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں کی کتنی بڑی تعداد قتل ہوئی ہمیں اس کی تکلیف ہے لیکن کوئی تکلیف اس تکلیف کا مقابلہ نہیں کرسکتی کہ جو ہمیں ہمارے نبی ﷺ کی بے حرمتی سے پہنچتی ہے اور یہ دنیا کو سمجھانا پڑے گا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔

عید میلاد النبی ﷺ کی مناسبت سے منعقدہ رحمت للعالمین قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انشا اللہ پاکستان اس معاملے میں رہنمائی کرے گا میں خود مسلمان رہنماؤں سے بات کروں گا اور مجھے یقین ہیں کہ ہم یہ کرسکیں گے کیوں کہ جو لاکھوں مسلمان مغربی ممالک میں رہ رہے ہیں اس طرح کے واقعات پر ان کی زندگی عذاب میں آجاتی ہے چنانچہ ضروری ہے مسلمان سربراہانِ مملکت مغربی اداروں کو سمجھائیں گے کہ کارٹون بنانا اظہار رائے کی آزادی نہیں مسلمانوں کو تکلیف پہنچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے نوجوانوں کو بھی پوری طرح نبی اکرم ﷺ کی شخصیت اور عظمت کا ادراک نہیں ہے اور میں خود اس عمر میں بھی ان کے بارے میں نئی چیزیں سیکھتا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اللہ پاک نے قرآن میں رسول اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کا حکم ہمارے لیے دیا تھا کیوں کہ اس سے ہمیں فائدہ ہونا ہے، اس لیے ہمیں کہا گیا کہ نبی ﷺ کی زندگی سے سیکھو کیوں کہ دنیا میں ان سے نہ کوئی عظیم انسان آیا ہے نہ آسکتا ہے جو انہوں نے حاصل کیا وہ کسی نے نہیں پایا۔

انہوں نے کہا کہ چاہے آپ مسلمان ہوں یا نہیں آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ جو کچھ نبی اکرم ﷺ نے کیا وہ دنیا میں نہ کسی نے کیا نہ کرسکتا ہے اور اس پر مغرب میں بھی کتابیں لکھی گئیں، دنیا کے 100 بڑے انسانوں میں سب پہلا نمبر پیغمر اسلام کو اس لیے دیا گیا کہ جو انہوں نے کیا وہ دنیا کی تاریخ کا حصہ ہے اور جتنا ہم ان کی زندگی کے بارے میں پڑھیں گے آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کا کتنا بڑا مقام تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک فرمان ہے کہ آخری دنیا کے لیے ایسے رہو جیسا ابھی مرنا ہے اور اِس دنیا میں ایسے رہو کہ جیسے 1000 سال زندہ رہنا ہے، اس کی گہرائی میں جائیں گے تو اندازہ ہوگا کہ آج دنیا کے متعدد مسئلے اسی وجہ سے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اب یہ جو موسمیاتی تبدیلیاں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان دنیا میں اپنی آئندہ نسلوں کے بارے میں سوچتے ہوئے نہیں رہ رہا، گلوبل وارمنگ کے بہت خطرناک اثرات ہیں، اگر ایسا ہی چلتا رہا تو گلیشیئر پگھلتے رہنے سے ایسا وقت آئے کہ دریاؤں میں پانی بہت کم ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ملک بھر میں جشن ولادت رسول ﷺ عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جارہا ہے

انہوں نے کہا کہ نبی آخرالزماں کی زندگی کا جتنا مطالعہ کیا جائے اس سے اندازہ ہوگا کہ ایک انسان نے ساری دنیا کو کس طرح تبدیل کیا، ان میں کیا خصوصیات تھیں کہ انہیں دیکھ دیکھ کر لوگ رہنما بن گئے۔

وزیراعظم نے ایک انگریزی کتاب ’دی عرب کونکوئیسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ اتنے وقت میں اتنے عظیم انسان اس دنیا میں نہیں آئے، جو اٹھتا تھا عظیم انسان بن جاتا تھا کیوں کہ وہ رسول اکرم ﷺ کو دیکھ کر ہی رہنما بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ کی زندگی سے سیکھنا چاہیئے کہ ان کا باقی مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ، خواتین کے ساتھ، غلاموں کے ساتھ کیسا رویہ تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج اقوامِ متحدہ کا چارٹر دیکھ لیں رسول اکرم ﷺ کے آخری خطبے سے ملتا ہے کیوں کہ ان کی باتیں ہمیشہ کے لیے تھیں، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پورے ملک میں 7، 8، 9 جماعت میں بچوں کو نبی کریم ﷺ کی زندگی کے بارے میں پڑھانے کے لیے قانون منظور کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے بچے نبی کریم ﷺ کی زندگی سے سیکھیں کیوں کہ ہمارے بچے پڑھتے ہیں بل گیٹس اور اسٹیو جاب کیسے کامیاب انسان بنے لیکن رسول کریم ﷺ سے زیادہ کامیاب انسان تو کوئی دنیا میں ہوا ہی نہیں نہ ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے یونیورسٹی گریجویٹس کو بھی سیرت النبی ﷺ کی اتنی سمجھ نہیں ہے لیکن جب وہ اس بارے میں پڑھتے جائیں گے انہیں سمجھیں گے اس طرح ان کے اندر سے تبدیلی آئے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب تک ہمارے بچوں کو رسول اکرم ﷺ کی خصوصیات کی پوری طرح سمجھ نہیں آئے گی وہ باہر جا کر ٹیکنالوجی ترقی دیکھ کر متاثر ہوجائیں گے۔

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کے اجلاس میں بھی یہی بات کی تھی کہ مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر جب تک مسلمان سربراہان مملکت مل کر اقدام نہیں اٹھائیں گے اس میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اس کا سب سے بڑا نقصان ان ممالک میں اقلیت میں رہنے والے مسلمانوں کو ہوگا۔

انہوں نے کہا اگر ہم اسلاموفوبیا کو حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے تو یہ بیماری بڑھتی جائے گی اور جو فرانس میں ہورہا ہے یہ وہی ہے جو ہمیں لگ رہا تھا کہ ہونے والا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مغرب کے لوگ ہمارے نبی کریم ﷺ سے رشتے کو نہیں سمجھتے انہیں سمجھ آ بھی نہیں سکتی کیوں کہ مسیحی برادی کا حضرت عیسیٰ اور یہودیوں کا جو پیمبروں سے تعلق ہے اور وہ جس طرح ان کے بارے میں بات کرتے ہیں اس میں ہماری طرح ادب شامل نہیں ہوتا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے ہم تمام پیغمبروں کا نام انتہائی ادب سے لیتے ہیں لیکن مغرب میں ایسا نہیں ہے، وہاں پیغمبروں پر مزاحیہ فلمیں بنائی جاتی ہیں، جس میں پیغمبروں کی بے حرمتی ہوتی ہے اور یہ اسے برا نہیں سمجھتے وہاں اس طرح ردِ عمل نہ آتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ مغرب کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ ہم مسلمان کا عقیدہ اور سوچ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سلمان رشدی نے گستاخانہ کتاب لکھی تو مسلمانوں کا رد عمل آیا، خود سلمان رشدی ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا تھا تو اسے معلوم تھا کہ ردِ عمل آئے گا لیکن مغرب کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے۔

وزیراعظم نے کہا مغرب دنیا کا تاثر یکسر مختلف ہے دین پر وہ مختلف سوچتے ہیں اور ان کی اکثریت لادین بن چکے ہیں، اس لیے انہوں نے یہ بیانہ شروع کردیا کہ مسلمان آزادی اظہار کے خلاف ہیں، تنگ نظر ہیں، یہ ہماری اقدار، جمہوریت کو نہیں سمجھتے اور اس پر پوری مہم چلائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ مغرب میں ایک طبقہ ہے جو اسلام مخالف ہے، اسے برا دکھانا چاہتا ہے اور اس کے لیے پروپیگنڈا کرتا ہے، انہوں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھایا، لیکن اس وقت ہونا چاہیے تھا کہ مسلمان رہنما متحد ہوتے اور پوری دنیا کو بتاتے کے نبی اکرم ﷺ کی بے حرمتی سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت کا 31 اکتوبر سے 'ہفتہ عشقِ رسول ﷺ' منانے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ جب تک ہم مسلمان رہنما انہیں نہیں بتائیں گے وہ طبقہ اسے استعمال کرتے رہیں گے اور اس سے مسلمان مخالف مہم چلیں گی کیوں کہ وہ مسلمانوں کو برا دکھانا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جنگ عظیم دوم کے دوران یہودیوں کا قتل عام ہوا، وہ تعداد میں کم ہیں لیکن طاقتور متحد اور میڈیا پر قابض ہیں اس لیے انہوں نے ایسا کام کردیا کہ مغرب میں کسی کی جرات نہیں کہ ہولوکاسٹ پر بات کرسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی انسانی برادری سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے تواس پر بات نہیں کرنی چاہیے، مغرب میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ہولوکاسٹ کا مذاق اڑا سکے حالانکہ یہودی کم ہیں لیکن متحد ہیں۔

وزیراعظم نے کہ ہم سوا ارب لوگ یہ کیوں نہیں کرسکے، مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ اس کی بڑی وجہ مسلمانوں کی قیادت ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں مسلم دنیا کے رہنماؤں سے رابطے کروں گا اور کوشش کریں گے کہ مغرب کو اپنا یہ مؤقف سمجھایا جائے۔

فرانسیسی صدر کا رویہ نفاق پیدا کرنے والا ہے، صدر مملکت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر جو رویہ اختیار کیا وہ خود اپنے ملک میں نفاق پیدا کرنے جیسا ہے۔

صدر مملکت  کے مطابق ہمیں انسانیت کا درس دینے والے مغربی ممالک 100 مہاجرین کو بھی قبول کرنے سے انکاری ہیں —تصویر: ڈان نیوز
صدر مملکت کے مطابق ہمیں انسانیت کا درس دینے والے مغربی ممالک 100 مہاجرین کو بھی قبول کرنے سے انکاری ہیں —تصویر: ڈان نیوز

عید میلاد النبی ﷺ کی مناسبت سے منعقدہ رحمت للعالمین قومی کانفرنس کے موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں انسانیت کا درس دینے والے مغربی ممالک کا طرز عمل یہ ہے کہ 100 مہاجرین کو بھی برداشت کرنے سے انکاری ہیں اور انہیں سمندر میں ڈوبنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جانب ایک مسلمان کا کردار یہ ہے کہ 35 لاکھ مہاجرین کو قبول کرنے پر آج تک کسی سیاسی رہنما نے یہ نہیں کہا کہ انہیں واپس بھیجا جائے اور وہ ہمیں انسانیت سکھانے آتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’حرمت رسول ﷺ کے تحفظ کیلئے مسلم رہنما عالمی اداروں سے متفقہ مطالبہ کریں‘

انہوں نے کہا کہ یورپ کے 16 ممالک میں خدا یا نبی کے انکار سے بڑا یہ قانون بنایا گیا کہ ہولوکاسٹ (یہودیوں کے قتل عام) کا انکار کرنے پر تو فوجداری مقدمہ چلایا جائے گا اور سزا ہوگی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے یہودیوں کو قتل کیا گیا اس لیے اگر کوئی انکار کرے تو انہیں تکلیف پہنچتی ہے، ہم مانتے ہیں اس بات کو، لیکن مسلمانوں کی تکلیف کا تمہیں احساس نہیں جبکہ ریاست کی بنیاد پر یہ کام ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں مذمت کرتا ہوں کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر جو رویہ اپنایا اس سے وہ خود اپنے ملک میں نفاق پیدا کررہے ہیں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ دنیا بدل گئی ہے اب دنیا کا حال یہ ہے کہ عالمی فورمز میں اخلاقیات اور انسانی اقدار پر نہیں بلکہ تجارت اور پیسے کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں جیسا کہ کشمیر کے معاملے پر ہوا جن ممالک کے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات تھے ان کا جھکاؤ اسی کی طرف تھا اس میں اسلامی دنیا کے ممالک بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیائے اسلام ایک قیادت کی تلاش میں ہے اور عمران خان نے پہلی مرتبہ اقوامِ متحدہ میں ناموس رسالت کے حوالے سے تقریر کر کے یہ واضح کیا کہ گستاخانہ حرکات مسلمانوں کے لیے تکلیف دہ ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ مسلمان ایک ابھرتی ہوئی اور آگے بڑھنے والی قوم ہے لیکن اس کا کردار ائمہ، منبر اور محراب کے بغیر ممکن نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نبی ﷺ کے اس راستے پر چلنے کی کوشش کریں جس کا تعین خود رسول اکرم ﷺ نے کیا اور مسجد میں بیٹھ کر تمام مسائل حل کیے جاتے تھے۔

صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ مسجد منبر اور محراب ایسی چیزیں ہیں جو رسول ﷺ کے زمانے میں مرکز تھے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس میں پاکستانیوں نے کیا کیا جبکہ بھارت، جہاں ہمارے جیسے لوگ ہی بستے ہیں ان کے مقابلے کورونا کو شکست دی اور دنیا اب کہتی ہیں کہ پاکستان سے سیکھو۔

انہوں نے کہا کہ میرے مطابق علمائے کرام کے ساتھ مل کر ہم نے جو طے کیا تھا کہ مساجد کھلی رکھی جائیں گی، اللہ سے لو لگائے رکھیں گے، معافی مانگتے رہیں گے، نماز تراویح کی ادائیگی جاری رکھی شاید اس لیے اللہ پاک کو ہم پر رحم آیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ نبی ﷺ نے جس قدر غریب کی فکر کی وہ اشرافیہ والے اور قانونی کے اعتبار سے خواتین اور کمزوروں کے استحصال والے عرب معاشرے میں سب سے بڑی تبدیلی تھی، انہوں نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لوگوں کو اپنے گھر کا کھانا دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ غریب کا احساس معاشرے میں سب سے بڑی تبدیلی ہے جو نبی ﷺ لے کر آئے اور کورونا کے دوران پاکستانیوں نے بھی اس پر عمل کیا، مخیر حضرات کے علاوہ حکومت نے بھی احساس پروگرام کے تحت غریبوں کی فکر کی تو اللہ پاک نے ہماری فکر کی اور دنیا نے پھر یہ منظر ملاحظہ کیا۔