ایاز صادق کا بیان پی ڈی ایم کا بیانیہ ہے، شبلی فراز

اپ ڈیٹ 31 اکتوبر 2020

ای میل

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا — فوٹو: ڈان نیوز
وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا — فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے کسی رہنما نے ایاز صادق کے بیان کی مذمت یا تردید نہیں کی اس کا مطلب ہے کہ یہ پی ڈی ایم کا بیانیہ ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کا پہلا قدم ہوتا ہے کہ ناامیدی پھیلائی جائے، ملک کے عوام کو یہ تاثر دیا جائے کہ کوئی بھی چیز اچھی نہیں ہے اور مختلف چیزیں کی جاتی ہیں تاکہ معاشرے میں نفسیاتی یا حقیقی طور پر ناامیدی پیدا ہو۔

مزید پڑھیں: ابھی نندن سے متعلق بیان کو بھارتی میڈیا توڑ مروڑ کر پیش کررہا ہے، ایاز صادق

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے برسر اقتدار آنے کے بعد پہلا قدم یہ اٹھایا کہ عدم استحکام کا شکار معیشت کو مستحکم کیا جائے اور اس میں پہلا ہدف تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کیا جائے اور ہم نے ناصرف اسے زیرو کردیا بلکہ مثبت چلے گئے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کورونا جیسی مہلک وبا کے باوجود ہم نے اس وبا کو چلتا رہنے دیا جس سے لوگوں کے جان و مال کا تحفظ ہو سکا جبکہ ہم نے اپنی برآمدات کو بڑھایا اور کووڈ کے بعد خطے کے تمام ممالک کے مقابلے میں ہماری برآمدات کی بہتر کارکردگی رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں ایاز صادق نے ایک ایسی تقریر کی جس سے ناصرف پاکستان میں ایک بحث چھڑ گئی اور عوام نے شدید ردعمل دیا اور پھر سینیٹ میں مولانا عطاالرحمٰن کی تقریر نے ایک بیانیہ بنانے کی کوشش کی تاکہ اس ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا جا سکے۔

شبلی فراز نے کہا کہ کسی بھی سیاسی رہنما نے نہ اس کی مذمت کی نہ تردید، ظاہر یہ ہوا یہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا بیانیہ ہے، اس میں کچھ ایسے لیڈر بھی شامل ہوں گے جو اس کا حصہ نہیں بننا چاہتے، حالت کی مجبوری میں وہ بھی خاموش ہیں لیکن ان کی خاموشی بھی ان کو اس الزام سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایاز صادق اور سینیٹر مولانا عطاالرحمٰن نے اپی بات کا دفاع بھی کیا ہے، ابھی وہ پریس کانفرنس کر رہے تھے، انہیں کوئی ندامت نہیں ہے، نہ وہ اس کی معافی مانگنا چاہتے ہیں نہ اس کی تردید کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سیاسی بدمعاشوں کو ملک کے تشخص کو مسخ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے گی، ہم ان کے اس قسم کے بیانات کا احتساب کریں گے اور ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

شبلی فراز نے کہا کہ ان لوگوں نے پاکستان کی سیاست کو اپنے ذاتی مفاد کا محور بنا دیا ہے، عمران خان کے آنے کے بعد یہ تبدیل ہو گا اور اب سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفادات پر سیاست ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: 'کیا آپ پوری پی ڈی ایم کو جیل میں ڈال سکتے ہیں؟'

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے رہنماؤں کا بیانیہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے، وہ ہم نے ایف اے ٹی ایف میں بھی دیکھ لیا تھا اور نام نہاد سیاسی ایونٹس میں بھی دیکھ لیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اپوزیشن ملکی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کا تحفظ کرنا چاہ رہی ہے، قانون کے سامنے پیش ہو کر اثاثوں کی وضاحت دینے کے بجائے خود کو ایک انقلابی اپوزیشن بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وقت کے ساتھ لوگوں کو استعمال کیا ہے، مسلم لیگ (ن) کس نظام کی مرہون منت ہے پورے پاکستان کو پتہ ہے کہ کس طرح سے ان کی سیاست شروع ہوئی اور یہ کہاں تک پہنچے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کوئی سیاسی جدوجہد نہیں کی۔

وزیر اطلاعات نے اپوزیشن کی جانب سے معروف شاعر احمد فراز کا حوالہ دیے جانے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ احمد فراز نے نہیں کہا تھا کہ کرپٹ لیڈروں کا ساتھ دینا اور بہادر رہنما کے ساتھ مت کھڑے ہونا، (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی بتائیں کہ انہوں نے احمد فراز کے ساتھ کیا کیا، یہ منافقت نہ کریں۔

مزید پڑھیں: پی ڈی ایم کی صورت میں ملک کے خلاف سازش کی جارہی ہے، وزیر خارجہ

انہوں نے کہا کہ جو بیانیہ پی ڈی ایم لے کر چل رہی ہے وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں، 40 سے 50 سال انہوں نے حکومت کی اور یہ گلگت بلتستان جا کر یہ کہتے ہیں کہ ہم گلگت بلتستان کو جنت بنا دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں گلگت کے عوام کو کہتا ہوں کہ وہ جا کر کراچی اور سندھ کے حالات دیکھیں کہ پیپلز پارٹی نے اسے دوزخ بنا دیا ہے اور اب آپ سے وعدے کرنے آئے ہیں کہ اس کو جنت بنائیں گے۔