ڈان کے سابق ایڈیٹر اور سینئر صحافی سلیم عاصمی انتقال کرگئے

اپ ڈیٹ 31 اکتوبر 2020

ای میل

سلیم عاصمی ڈان کے سابق ایڈیٹر تھے —فائل فوٹو: امتیاز علی
سلیم عاصمی ڈان کے سابق ایڈیٹر تھے —فائل فوٹو: امتیاز علی

سینئر صحافی اور ڈان کے سابق ایڈیٹر سلیم عاصمی کراچی میں انتقال کرگئے۔

ان کے اہل خانہ اور دوستوں کی جانب سے ان کے انتقال کی تصدیق کی گئی۔

ڈان اور خلیج ٹائمز میں نیوز ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دینے والے سلیم عاصمی نیوز سائڈ سے ڈان کے پہلے ایڈیٹر تھے اور انہیں کے دور میں ڈان کا اسلام آباد ایڈیشن شروع کیا گیا۔

انہوں نے ڈان میں گزارے گئے اپنے وقت میں آرٹ کو کور کرنے میں خصوصی توجہ دی، وہ اپنے پیچھے 2 میگزین چھوڑ کر گئے ہیں جس میں ایک دی گیلری ہے جو اپنے نام سے ہی واضح ہے کہ یہ آرٹ سے متعلق ہے جبکہ دوسرا بکس اینڈ آتھرز ہے۔

مزید پڑھیں: سینئر صحافی احفاظ الرحمٰن طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے

سلیم عاصمی نے بحیثیت ایڈیٹر حامد میر کی جانب سے کیے گئے اسامہ بن لادن کے انٹرویو کو شائع کرنے کا فیصلہ کیا، حالانکہ وہ اسٹاف کا حصہ نہیں تھے جبکہ انٹرویو میں جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق خبریں تھیں۔

ڈان میں ان کے گزارے گئے وقت کے دوران ان کے ساتھی نظام الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ سلیم عاصمی میگزینز متعارف کرواکر اور قومی خبروں پر زیادہ توجہ دے کر اخبار میں اہم تبدیلیاں لائے تھے۔

سلیم عاصمی کراچی پریس کلب (کے پی سی) کے صدر بھی رہے۔

سیکریٹری کے پی سی ارمان صابر کے مطابق سینئر صحافی کی نمازے جنازہ کا فیصلہ ان کے 2 بچوں کے بیرون ملک سے آنے کے بعد کیا جائے گا۔

اظہار تعزیت

کراچی پریس کلب کے سابق صدر کے انتقال پر ان کے ساتھی اور دوستوں کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ سلیم عاصمی نے ایک غیرمعمولی ہمت کو اپنے پاس رکھا لیکن اس پر کبھی بات نہیں کی بلکہ ضرورت کے وقت اس کا استعمال کیا۔

ڈان میگزینز کے ایڈیٹر حسن زیدی نے سینئر صحافی کو ’زبردست انسان‘ قرار دیا۔

سینئر صحافی حامد میر نے لکھا کہ سلیم عاصمی ہم میں نہیں رہے، جب میں نے نومبر 2001 میں اسامہ بن لادن کا انٹرویو کیا تھا تب میرا اخبار اسے شائع کرنے سے گریزاں تھا تو میں نے اسے اشاعت کے لیے ڈان کو دیا تھا۔

انہوں نے لکھا کہ مشرف حکومت نے اسے روکنے کی کوشش کی تو ڈان کے ایڈیٹر سلیم عاصمی نے مجھے کہا کہ اپنا موبائل بند کردو اور غائب ہوجاؤ، میں سنبھال لوں گا، اگلے دن یہ شائع ہوا تھا۔

انگریزی روزنامہ دی ایکسپریس ٹریبیون کے لیے کام کرنے والے صحافی بلال فاروقی نے سلیم عاصمی کے انتقال پر کہا کہ وہ صحافتی معیار اور طریقوں کو سمجھنے کے لیے بہت سے لوگوں کے لیے مشعل راہ تھے۔

ادھر ڈان کے نمائندے ناصر جمال نے لکھا کہ سلیم عاصمی کے انتقال پر جذبات کا اظہار کرنے کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

انہوں نے سلیم عاصمی کے بارے میں لکھا کہ ایک زبردست صحافی اور بہترین ایڈیٹر اور اس سے بڑھ کر ایک عظیم انسان، مجھے ان کے ماتحت کام کرنے پر فخر ہے۔

ڈان کی ایک اور نمائندہ شازیہ حسن نے یہ یاد کرتے ہوئے لکھا کہ سلیم عاصمی نے انہیں موقع دیا تھا اور بطور 19 سالہ طالبعلم انہیں رکھا تھا، وہ اکثر میری رپورٹس کے بعد مجھے کال کرتے تھے اور کہتے تھے کہ مختصر انٹرو لکھا کرو۔

یہ بھی پڑھیں: ڈان اخبار کے سینئر صحافی حسن منصور انتقال کرگئے

شازیہ حسن نے لکھا کہ حال ہی میں ہم کے پی سی میں ملے تھے اور میں نے ان کے سامنے کسی کو کہا تھا کہ ایڈیٹرز آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن ’سلیم عاصمی صاحب میرے ایڈیٹر ہیں کیونکہ انہوں نے مجھے رکھا تھا‘۔

انہوں نے یاد کرتے ہوئے لکھا کہ سلیم عاصمی (صاحب) نے جواب دیا کہ اگر وہ اب بھی ایڈیٹر ہوتے تو وہ میری نیوز رپورٹ کے طویل انٹرو کی وجہ سے مجھے برطرف کردیتے۔

علاوہ ازیں صحافی اویس توحید نے لکھا کہ سینئر صحافی ایک چٹان کی طرح کے مضبوط ایڈیٹر تھے اور وہ ایک پینٹر بھی تھے جو لبرل اقدار پر یقین رکھتے تھے اور انسانی حقوق کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔