'بغیر علامت والے متاثرہ افراد سب سے زیادہ وائرس پھیلانے کا سبب بنتے ہیں'

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2020

ای میل

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ نے ماسک کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی—فائل فوٹو: رائڑز
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ نے ماسک کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی—فائل فوٹو: رائڑز

واشنگٹن: امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے نئی ہدایات میں کہا ہے کہ کورونا وائرس زیادہ تر وہ افراد پھیلاتے ہیں جن میں اس کی کوئی علامت نہیں پائی جاتی اس لیے ماسک اس کے خلاف واحد دستیاب تحفظ ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ انتباہ کووڈ 19 کی دوسری لہر کے پیشِ نظر جاری کیا گیا، جو غیر معمولی طور پر تیزی سے پھیل رہا ہے اور اب تک عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اس حوالے سے 5 کروڑ 56 لاکھ مصدقہ کیسز اور 13 لاکھ 40 ہزار اموات ریکارڈ کرچکا ہے۔

امریکا اس وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جس میں ایک کروڑ 18 لاکھ مصدقہ کیسز سامنے آئے اور 2 لاکھ 52 ہزار سے زائد مریض انتقال کر گئے، بھارت دوسرا متاثرہ ملک ہے جس میں 90 لاکھ سے زائد کیسز موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا فیس ماسک کا استعمال کورونا وائرس سے سو فیصد تحفظ فراہم کرتا ہے؟

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ نے ماسک کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی اور بہت سے امریکی ماہرین صحت اس رویے کو امریکا میں وائرس کے سبب ہونے والی تباہی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

تاہم آنے والے جو بائیڈن کی حکومت نے عوام میں ماسک کے استعمال اور دیگر احتیاطی تدابیر کو فروغ دینے کا عہد کیا ہے۔

سی ڈی سی کی جانب سے ہفتے کے اختتام پر جاری کردہ نئی ہدایات کے مطابق 'ایسے مریض جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتی یا جلد ظاہر ہوجاتی ہیں، جو اپنے آپ کو صحت مند سمجھتے ہیں یا اپنے وائرس سے متاثر ہونے سے لاعلم ہوں وہ اندازاً اس وبا کی 50 فیصد ترسیل کے ذمہ دار ہیں۔

سی ڈی سی کا کہنا تھا کہ متعدد بین الاقوامی اداروں کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ 40 سے 45 فیصد متاثر افراد میں کبھی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

مزید پڑھیں: چند روپے کے فیس ماسک کس حد تک کورونا سے بچاسکتے ہیں؟

امریکی ادارے کا کہنا تھا کہ بیماری کی علامات والے متاثرہ افراد میں علامت کے آغاز سے ٹھیک ایک روز پہلے اور اس کے بعد چند روز تک بیماری کی ترسیل کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے، انفکیشن کے پھیلاؤ کی تعداد میں اس وقت عروج پر ہوتی ہے جب وائرس کی سطح عروج پر ہو۔

ادارے کا کہنا تھا کہ ماسک اس کے پھیلاؤ کو روک سکتا ہے۔

ماسک کس طرح بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ہوسکتا ہے کی وضاحت کرتے ہوئے سی ڈی دی سے کہا کہ چہرہ ڈھکا ہوا ہو تو وائرس سے بھرے آبی قطروں کا داخلہ کم ہوجاتا ہے اور خصوصاً علامت نہ رکھنے والے مریضوں سے انفیکشن ہونے سے روکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا سے بچاؤ کیلئے کپڑے کے ماسک کا استعمال اس احتیاط کے بغیر نہ کریں

ادارے کا مزید کہنا تھا کہ ماسک پہننے والوں کو اس کے آبی قطرے سانس کے ذریعے اندر لینے سے روکتا ہے جو ذاتی تحفظ کے لیے فلٹریشن کہلاتا ہے۔

چنانچہ کورونا وائرس کے لیے ماسک پہننے سے عوام کا فائدہ ان اثرات کے امتزاج سے ہے کہ مستقل اور درست طور پر ماسک کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ انفرادی ترسیل میں رکاوٹ آجاتی ہے۔