تعلقات کی بحالی کے بعد اسرائیل کا پہلا وفد سوڈان روانہ

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2020

ای میل

سوڈان اور اسرائیل نے گزشتہ ماہ تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا تھا — فوٹو : اے پی
سوڈان اور اسرائیل نے گزشتہ ماہ تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا تھا — فوٹو : اے پی

یروشلم: اسرائیل نے پیر کو ایک وفد سوڈان روانہ کیا جو گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے اعلان کے بعد پہلا وفد ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یروشلم میں کئی دنوں سے یہ افواہیں چل رہی ہیں کہ 23 ​​اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ معاہدے کے تناظر میں ایک وفد خرطوم کا دورہ کرے گا۔

مزید پڑھیں: سوڈان اور اسرائیل کا تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق

اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے پیر کو اطلاع دی کہ یہ سفر جاری ہے۔

اسرائیلی عہدیدار نے اس رپورٹ کی تصدیق کی لیکن یہ بتانے سے انکار کیا کہ وفد میں کون کون شامل ہے۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد سوڈان اس سال اسرائیل کے ساتھ معاہدے کا اعلان کرنے والا تیسرا عرب ملک ہے، اسرائیل سوڈان معاہدے پر باضابطہ طور پر دستخط ہونا ابھی باقی ہے۔

اگرچہ اسرائیل نے ان معاہدوں کو تاریخی سفارتی معاہدے قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی ہے لیکن فلسطینیوں نے ان کی مذمت کی ہے اور عرب ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس وقت تک ثابت قدم رہیں جب تک کہ اسرائیل فلسطینی سرزمین پر اپنا قبضہ ختم نہیں کردے اور فلسطینی ریاست کے قیام پر راضی ہوجائے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے فروری میں یوگنڈا میں سوڈان کی حکمران خودمختار کونسل کے سربراہ عبدالفتح البرہان سے ملاقات کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سوڈان: عمرالبشیر کی برطرفی کے بعد اصلاحات میں تیزی کیلئے عوامی احتجاج

اگست میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے تل ابیب سے خرطوم کے لیے پہلی براہ راست سرکاری پرواز میں سفر کیا تھا۔

تعلقات معمول پر لانے کا معاہدہ صدر عمر البشیر کے اقتدار کے خاتمے کے ایک سال بعد ہوا جہاں سوڈان میں عبوری حکومت کے حکام کی امریکا سے قربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کے بعد سنہ 1998 میں القاعدہ کے ذریعے کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارتخانوں پر ہونے والے بم دھماکوں کے متاثرین کے لواحقین اور لواحقین کو معاوضہ فراہم کرنے کے لیے خصوصی اکاؤنٹ میں 335 ملین (33 کروڑ 50 لاکھ) ڈالر جمع کرائے گئے۔

ان حملوں کا عمر البشیر نے خیرمقدم کیا تھا جس میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: سوڈان: مظاہرین کا فوجی حکمران سے انتقال اقتدار کا معاہدہ طے پاگیا

رقم جمع ہونے کے بعد ٹرمپ نے خود باضابطہ طور پر سوڈان کو دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کردیا تھا۔

2 نومبر کو مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ دارفور میں تنازع کے سبب سوڈان پر عائد اقوام متحدہ کی پابندیوں کو امریکا ختم کرنے کی کوشش کرے گا کیونکہ نئی خرطوم حکومت سابق باغیوں کے ساتھ صلح اور امن کی بات کر رہی ہے۔

یہ وعدہ اس بات کی ایک اور علامت تھا کہ امریکا اسرائیل کو تسلیم کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد سوڈان کو انعام دینے کے لیے بے چین ہے۔

سوڈان نے اپریل 2019 میں خود مختار عمر البشیر کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد مشترکہ سویلین-ملٹری انتظامیہ کے تحت اقتدار کی منتقلی کے عمل کا آغاز کیا ہے جس کے نتیجے میں تاریخ نے کئی دہائیوں کے بعد ایک نیا موڑ لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سوڈان کے سابق صدر عمرالبشیر کو کرپشن پر 2 سال کی سزا

لیکن انہیں سوڈانی پاؤنڈ کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر اور آسمان کی بلندیوں پر پہنچتی اشیا کی قیمتوں سمیت شدید معاشی پریشانیوں کا سامنا کیا ہے۔

اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے اعلان کے دو دن بعد ہی کہا گیا کہ اسرائیل سوڈان کو 50 لاکھ ڈالر کی گندم بھیج رہا ہے۔

نیتن یاہو کے دفتر نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ ہم پُرسکون امن کے منتظر ہیں اور سوڈان میں اپنے نئے دوستوں کو فوری طور پر 50 لاکھ ڈالر مالیت کی گندم بھیج رہے ہیں۔