او آئی سی اجلاس میں شرکت کیلئے وزیر خارجہ نائجر کا دو دوزہ دورہ کریں گے

اپ ڈیٹ 25 نومبر 2020

ای میل

او آئی سی کے وزرائے خارجہ کونسل کے 47ویں اجلاس میں ممبر ممالک کے وفود کے سربراہوں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، دفتر خارجہ - فائل فوٹو:اے ایف پی
او آئی سی کے وزرائے خارجہ کونسل کے 47ویں اجلاس میں ممبر ممالک کے وفود کے سربراہوں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، دفتر خارجہ - فائل فوٹو:اے ایف پی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے 47ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نائجر کا دو روزہ دورہ کریں گے۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیوں اور اس کے نتیجے میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے اقدامات اور مقبوضہ علاقے میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانی صورتحال کو اجاگر کریں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ 'شاہ محمود قریشی اسلامو فوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے بڑھتے ہوئے واقعات کو بھی اجاگر کریں گے اور اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے عالم اسلام کے اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیں گے'۔

مزید پڑھیں: او آئی سی، کشمیر پر اجلاس بلانے میں پس و پیش سے کام لینا بند کرے، شاہ محمود

اس موقع پر وزیر خارجہ اپنے ہم منصب/ممبر ممالک کے وفود کے سربراہوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

او آئی سی رکن ممالک اور 5 مبصر ملکوں کے نمائندوں کی اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔

دو روزہ اجلاس کے دوران اسلامو فوبیا کے خاتمے اور مذاہب کی توہین سمیت فلسطین، جموں و کشمیر تنازع، غیر مسلم ریاستوں میں مسلم معاشروں اور اقلیتوں کی صورتحال، او آئی سی 2025 کا ایکشن پروگرام اور تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی مکالمے کے فروغ سے متعلق مختلف امور زیر بحث آئیں گے۔

اس حوالے سے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نائجر میں ایک سہ روزہ او آئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس ہے اور مجھے پاکستان کی نمائندگی کا شرف حاصل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جن اہم مسائل کا امہ کو سامنا ہے ان پر اپنے ہم منصبوں سے تبادلہ خیال کےلیے مجھے ایک منفرد موقع ملے گا اور میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کروں گا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مختلف پیش رفت ہیں، امریکا میں ایک نئی حکومت آرہی ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں بھی مختلف پیش رفت ہوئی ہیں اس پر تبادلہ خیال کا موقع ملے گا۔

اسلاموفوبیا سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پاکستان کا ایک واضح مؤقف ہے جس پر مجھے بات کرنے کا موقع ملے گا اور میں وزیراعظم اور پاکستان کے عوام کا نقطہ نظر او آئی سی اجلاس میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کے 'دورے' کے ایک روز بعد ہی اسرائیل نے سعودیہ کو قرنطینہ ممالک کی فہرست سے نکال دیا

واضح رہے کہ او آئی سی امت مسلمہ کی اجتماعی آواز ہے۔

یہ اقوام متحدہ کے بعد دوسرا سب سے بڑا بین الاقوامی ادارہ ہے، 57 ممبران اور پانچ مبصرین کے ساتھ او آئی سی کی رکنیت چار براعظموں میں پھیلی ہوئی ہے۔

اس تنظیم نے اپنے وجود کے 50 سال پورے کرلیے ہیں۔

پاکستان او آئی سی کے بانی ممبران میں سے ایک ہے اور اس نے او آئی سی کے مقاصد اور اہداف میں فعال طور پر حصہ لیا ہے۔

وزرا خارجہ کی کونسل کا اجلاس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ چند روز قبل ہی میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا تھا اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے شمالی سعودی شہر نیوم میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے لیے ایک خفیہ دورہ کیا تھا، اس الزام کی سعودی عرب نے تردید کردی تھی۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں معاہدہ کیا گیا تھا۔

جہاں اسرائیل نے معاہدے کو تاریخی سفارتی کامیابی کی حیثیت سے سراہا ہے وہیں فلسطین نے اس کی مذمت کی ہے اور عرب ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس وقت تک ثابت قدم رہیں جب تک کہ اسرائیل فلسطینی سرزمین پر اپنا قبضہ ختم نہ کردے اور فلسطینی ریاست کے قیام پر راضی ہوجائے۔

دوسری طرف، پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی اسرائیل کی پالیسی پر نظرثانی نہیں کررہا ہے اور کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے 'اس تناظر میں بیانات واضح واضح ہیں'۔