لاہور: عمار علی جان ‘امن کیلئے خطرہ’، گرفتار کیا جائے، ڈی سی کا حکم

اپ ڈیٹ 27 نومبر 2020

ای میل

عمار علی جان نے طلبہ احتجاج میں شرکت کی—فوٹو: عمران گبول
عمار علی جان نے طلبہ احتجاج میں شرکت کی—فوٹو: عمران گبول

لاہور کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) نے سماجی کارکن عمار علی جان کو ‘امن کے لیے خطرہ’ قرار دیتے ہوئے گرفتار کرنے کا حکم جاری کردیا جو کراسنگ چیئرمیں طلبہ احتجاج میں شرکت سے واپسی پر گرفتاری سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

پولیس نے عمار علی جان کو گرفتار کرنے کے لیے ان کی گاڑی کا پیچھا کیا جو طلبہ کے احتجاج میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے اور انہیں گلبرک مین بلیوارڈ میں روک لیا اور انہیں پولیس چیک پوسٹ لے جایا گیا۔

مزید پڑھیں: طلبہ یکجہتی مارچ کے منتظمین اور شرکا کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج

عمار علی جان اور ان کے دوستوں کو پولیس نے مذاکرات کے بعد اس شرط پر واپس جانے کی اجازت دی کہ وہ دو گھنٹوں کے اندر سول لائنز پولیس اسٹیشن میں پیش ہوں گے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے عمار علی جان نے کہا کہ ان کی طرف سے وکیل پیش ہوں گے اور کارکنان پیر کو ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔

ڈی سی لاہور کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق امن و عامہ سے متعلق قانون کے سیکشن 3 کے تحت عمار علی جان کی گرفتاری کا حکم 26 نومبر کو جاری کیا گیا تھا۔

ڈی سی کے احکامات میں عمار علی جان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ ‘امن عامہ کے لیے سنجیدہ خطرہ ہیں اور شہر میں امن برقرار رکھنے کے لیے انہیں گرفتار کرنا ضروری ہے’۔

الزامات کے تحت انہیں 30 روز تک بدستور گرفتار رکھا جائے گا۔

ڈی سی کے حکم کے مطابق ‘مصدقہ اطلاعات ہیں کہ عمار اور ان کے ساتھی لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کریں گے اور عام لوگوں کو ہراساں کرنے کا باعث ہوں گے’۔

انتظامیہ نے صرف عمار علی جان کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بغاوت کے کیس میں گرفتار عالمگیر وزیر کا ضمانت کیلئے عدالت سے رجوع

خیال رہے کہ لاہور سے تعلق رکھنے والے ماہر تعلیم نے پاکستان میں طلبہ کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ہوئے احتجاج میں شرکت کی تھی۔

طلبہ کی جانب سے ہر سال ملک بھر میں طلبہ اور سماجی کارکنوں کی جانب سے 'یکجہتی طلبہ مارچ' کیا جاتا ہے لیکن رواں برس کووڈ-19 کے باعث احتجاج کیا گیا۔

پولیس نے گزشتہ برس طلبہ یکجہتی مارچ کے منتظمین اور شرکا کے خلاف بغاوت کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمات درج کرلیے تھے اور مارچ میں شریک عالمگیر وزیر کو گرفتار کرلیا تھا۔

سول لائن پولیس نے ریاست کی مدعیت میں مارچ کے منتظمین عمار علی جان، فاروق طارق، اقبال لالا (مشال خان کے والد)، عالمگیر وزیر (پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور ایم این اے علی وزیر کے بھتیجے)، محمد شبیر اور کامل کے علاوہ 250 سے 300 نامعلوم شرکا کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تھا۔