نیشنل بینک میں تقرریوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی سفارش

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2020

ای میل

نیشنل بینک میں تقرریوں کا آڈٹ تھرڈ پارٹی سے کرانے کی سفارش کی گئی ہے— فائل فوٹو: ڈان نیوز
نیشنل بینک میں تقرریوں کا آڈٹ تھرڈ پارٹی سے کرانے کی سفارش کی گئی ہے— فائل فوٹو: ڈان نیوز

کراچی: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصول کو پیر کے روز کراچی کے دورے کے دوران حکومت نے نیشنل بینک آف پاکستان میں تقرریوں پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کی سفارش کی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی باڈی نے مزید ہدایت دی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے موجودہ پینل سے آڈٹ فرم کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: نیشنل بینک کے سابق صدر کی عہدے پر بحالی کی درخواست مسترد

رکن قومی اسمبلی فیض اللہ کاموکا کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس اسٹیٹ بینک میں ہوا، کمیٹی کو اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے بینکنگ سروسز کارپوریشن ایکٹ سے متعلق ترمیم کے بارے میں تفصیلات بتائیں جو مرکزی بینک کو مطلوب تھے، انہوں نے وضاحت کی کہ بینکنگ سروسز کارپوریشن کی آسانی سے کارروائیوں کو یقینی بنانے کے لیے ان ترامیم کی ضرورت ہے۔

نیشنل بینک سے متعلق ایک اور ایجنڈے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے گورنر اور ڈپٹی گورنر بینکنگ جمیل احمد نے کمیٹی کو نیشنل بینک آف پاکستان کے موجودہ صدر کے ’فٹ ہونے اور مناسب جانچ‘ کے بارے میں بتایا، بعدازاں باقر، جمیل احمد اور اسٹیٹ بینک بینکنگ کارپوریشن آف پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد اشرف خان نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔

تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر بینکاری خدمات ترمیمی بل 2020 منظور کیا تاہم کمیٹی ممبران نے مذکورہ پوزیشن کے لیے درکار قابلیت اور صدر نیشنل بینک آف پاکستان کی ڈگری (قابلیت) میں اختلافات پر تشویش کا اظہار کیا۔

جمیل احمد نے وضاحت کی کہ نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر عارف عثمانی کی خدمات کی سفارش کی گئی کیونکہ بینکنگ کے شعبے میں ان کا ساڑھے تین دہائیوں کا وسیع تجربہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیشنل بینک کیلئے گنیز ورلڈ ریکارڈز کا اعزاز

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کا مؤقف تھا کہ حکومت کو اس وقت عارف عثمانی کے پچھلے ٹریک ریکارڈ پر عائد الزامات کو ختم کرنا پڑا جب انہیں نیشنل بینک کا صدر مقرر کیا گیا تھا۔

اس موقع پر نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر نے کمیٹی کو بینک سے ملازمین کی خدمات حاصل کرنے کی حیثیت سے 2019 سے لے کر 2020 تک آگاہ کیا، عارف عثمانی نے کہا کہ کسی بھی تنظیم کا سب سے اہم عنصر اس کے لوگ تھے اور یہ خاص طور پر بینک جیسی خدمات فراہم کرنے والے کسی آرگنائزیشن کے لیے انتہائی ضروری ہے، متعدد شعبوں میں نیشنل بینک آف پاکستان کے سینئر وسائل کے معیار کی نشاندہی ایک سنگین خلا کے طور پر کی گئی ہے جہاں آڈٹ تبصروں میں واضح ہوتا ہے کہ اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ اسے حل کرنے کی خواہش کی کمی تھی اور اس کے نتیجے میں ساکھ کو نقصان پہنچا اور عوامی اعتماد مجروح ہوا۔

نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر نے مزید کہا کہ بھرتی کا عمل موجودہ بورڈ کی منظور شدہ پالیسیوں اور بیرونی بھرتیوں کے لیے رائج عمل کو استعمال کرکے کیا گیا، انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ اس کے مطابق تمام سینئر عہدوں کا داخلی طور پر (بینک کے اندر) اشتہار دیا گیا تھا، انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ داخلی اُمیدواروں کا اندازہ کیا گیا تھا اور اہل اُمیدواروں کو انٹرویو میں شارٹ لسٹ کیا گیا تاہم ان میں سے کوئی بھی مقررہ معیار کے مطابق نہیں پایا گیا۔

عارف عثمانی نے مزید کہا کہ جن نئے افراد کو بھرتی کیا گیا وہ اپنے شعبوں میں بہت تجربہ کار تھے، ان میں مہارت اور اعلیٰ تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ٹریک ریکارڈ رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: نیشنل بینک پاکستان کو برطانیہ سے 19 کروڑ پاؤنڈز موصول

نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر نے سب جگہ شروع کیے گئے احتساب کی جانب بھی کمیٹی کی توجہ مبذول کرائی، جس میں دو سینئر ایگزیکٹو نائب صدور اور پانچ ای وی پی کو برطرف کیا گیا تاکہ نیشنل بینک آف پاکستان کو ترقی کی حامل تنظیم بنائے جاسکے، ان کا کہنا تھا کہ شکایات کا موجودہ سلسلہ دراصل انضباطی کارکردگی کے اقدامات کا ایک رد عمل تھا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اراکین نے بینک میں سینئر افسران کی بھرتی کے لیے لاگو تعلیمی معیار پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، کمیٹی کے کچھ اراکین نے نوٹ کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ اقدام بینک کی بھرتی کی پالیسیوں کے منافی ہے۔