پمز کو تدریسی ادارے میں تبدیل کرنے کے حکومتی منصوبے کے خلاف ملازمین سراپا احتجاج

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2020

ای میل

پمز کو تدریسی ادارے میں تبدیل کرنے کے خلاف ملازمین سراپا احتجاج ہیں— فائل فوٹو: محمد عاصم
پمز کو تدریسی ادارے میں تبدیل کرنے کے خلاف ملازمین سراپا احتجاج ہیں— فائل فوٹو: محمد عاصم

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کو میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ (ایم ٹی آئی) میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے خلاف ہسپتال کے ملازمین نے احتجاج کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اعلان کیا کہ حال ہی میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے جاری کردہ ایم ٹی آئی آرڈیننس کے واپس لینے تک احتجاج جاری رہے گا۔

ملازمین کی جانب سے ہسپتال کے مرکزی حصے سے مدر اینڈ چلڈرن ہسپتال تک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی۔

ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر اسفندیار خان کا کہنا تھا کہ پمز کے تمام ملازمین حکومت اقدام کے خلاف متحد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’ملازمتوں کے مستقل ہونے میں بیوروکریسی رکاوٹ ڈال رہی ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر پمز ہسپتال کو ایم ٹی آئی میں تبدیل کیا گیا تو ہم اپنے تمام حقوق اور مراعات کھو دیں گے، ہم اس آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور سابق سیکریٹری صحت ڈاکٹر اللہ بخش ملک کی جانب سے تسلیم کیے گئے ہمارے مطالبات کو آرڈیننس نافذ کرتے ہوئے نظرانداز کیا گیا‘۔

اس موقع پر شرکا سے خطاب میں گرینڈ ہیلتھ الائنس (جی ایچ اے) کے ترجمان ڈاکٹر حیدر عباسی کا کہنا تھا کہ ملازمین اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت صحت کے ساتھ مل کر گزشتہ سال یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ آرڈینینس کے تحت سرکاری ملازمین کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جائے گا، مزید یہ کہ ہسپتال ملازمین کی جانب سے پیش کی گئی دیگر تجاویز پر غور نہیں کیا گیا۔

جی ایچ اے کے نائب چیئرمین ریاض گجر نے بتایا کہ پمز ہسپتال کے تمام ملازمین نے آرڈیننس کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں سیکیورٹی خدشات، پمز ہسپتال میں ہائی الرٹ جاری

اے جی اے کے ایک اور رہنما تنویر نوشاہی کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس آرڈیننس کو اس وقت نافذ کیا جب ملازمین کووڈ-19 کا مقابلہ کرنے میں مصروف تھے۔

تنویر نوشاہی کا کہنا تھا کہ 'آرڈیننس کے مطابق پمز ہسپتال کو بورڈ آف گورنرز کے ذریعے چلایا جائے گا اور ہمیں ڈر ہے کہ بورڈ آف گورنرز میں کاروباری حضرات کو تعینات کیا جائے گا کیونکہ ہسپتال کو آمدنی پیدا کرنا ہوگی'۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر محبوب، ڈاکٹر فیض اچکزئی، محمد حنیف، ارشد خان، صداقت اعوان، چوہدری انس، جواد خان، سعید اللہ مروت، طارق مٹو سمیت دیگر جی ایچ اے رہنماؤں نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔

واضح رہے کہ کہ طبی تدریسی ادارے میں تبدیل ہونے کے بعد پمز ہسپتال کے تمام امور بورڈ آف گورنرز کی جانب سے نمٹائے جائیں گے، اراکین کی سرچ اینڈ نومی نیشن کونسل کی سفارش پر وزارت قومی صحت کی جانب سے اراکین کا تقرر اور نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا اور وہ 3 سال تک عہدہ رکھ سکیں گے جبکہ دوبارہ تقرر کے بھی اہل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: دارالحکومت میں کورونا کیسز میں اضافہ، پمز ہسپتال میں شیڈول سرجریز ملتوی

ہسپتال کو ایم ٹی آئی قرار دیے جانے سے ہسپتال کو خودمختاری مل جائے گی، بورڈ آف گورنرز کا ہسپتال کے کاموں پر مجموعی طور پر نگرانی اور کنٹرول ہوگا جبکہ کوئی بھی سرکاری ملازم یا حکومتی افسر بورڈ آف گورنرز کا رکن نہیں بن سکے گا۔

مزید یہ کہ چیئرپرسن کا انتخاب اراکین آپس میں ووٹنگ کے ذریعے کریں گے اور ان کی غیر موجودگی میں چیئرپرسن بورڈ کے کسی بھی رکن کو نائب کی حیثیت سے نامزد کرسکتا ہے یا اگر چیئرمین نے ایسا نہیں کیا ہوگا تو موجودہ اراکین اجلاس کے لیے قائم مقام چیئرپرسن کا انتخاب کریں گے۔

بورڈ آف گورنرز ڈینز، ہسپتال، میڈیکل، نرسنگ اور فنانس ڈائریکٹرز کو تعینات کریں گے۔

ڈینز، ہسپتال، میڈیکل، نرسنگ اور فنانس ڈائریکٹرز کے علاوہ تمام ملازمین کو کسی بھی جرمانے، سرزنش یا برطرفی کے خلاف بورڈ آف گورنرز کو اپیل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔