سپریم کورٹ نے بلین ٹری سونامی منصوبے کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2020

ای میل

چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

سپریم کورٹ نے دریاؤں، نہروں کے کناروں پر شجر کاری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بلین ٹری سونامی منصوبے کا نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے تمام ریکارڈ طلب کرلیا۔

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے دریاؤں، نہروں کے کناروں پر شجرکاری سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران وفاقی و صوبائی سیکریٹریز جنگلات، ایڈووکیٹ جنرل اور عدالت کے طلب کرنے پر سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران عدالت نے 10 ارب درخت لگانے سے متعلق حکومت کے بلین ٹری سونامی منصوبے کا نوٹس لیتے ہوئے منصوبے سے متعلق تمام تفصیلات طلب کرلیں۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملک میں جنگلات کی بحالی کے لیے 5 سال کے عرصے میں 10 ارب درخت لگانے کے منصوبے کا آغاز کیا تھا۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت شروع ہوئی تو مذکورہ معاملے پر سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی کو فوری طور پر طلب کیا گیا اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی 10 ارب درخت منصوبے کا سارا ریکارڈ لے کر آئیں۔

سارے درخت بنی گالا میں لگائے ہوں گے، چیف جسٹس

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ماحولیات سے پوچھا کہ اسلام آباد میں 5 لاکھ درخت کہاں لگائے گئے ہیں، اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں، آپ نے سارے درخت بنی گالہ میں ہی لگائے ہوں گے، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ اس معاملے پر ‏تمام تفصیلات عدالت میں جمع کرادی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: 'بلین ٹری سونامی' کی نگرانی کیلئے 3 غیر سرکاری تنظیمیں مقرر

ان کی بات پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ بڑی مغرور ہے، اگر توہین عدالت کا نوٹس ملا تو ساری جمع پونجی ختم ہوجائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں درخت کٹ رہے ہیں، کشمیر ہائی وے پر بے ترتیب درخت لگے ہیں، ‏درخت خوبصورتی کے بجائے بدصورتی پیدا کررہے ہیں، درخت قوم کی دولت اور اثاثہ ہیں لیکن ‏اسلام آباد سے کراچی تک جائیں، دریا کنارے کوئی جنگل نہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ خیبرپختونخوا کا بلین ٹری سونامی کہاں ہے، صوبے میں لاکھوں درخت کاٹے جاتے ہیں، نتھیا گلی میں درخت کٹ رہے ہیں، ناران کاغان کچرا بن گیا ہے، کمراٹ، مالم جبہ، پشاور کہیں درخت نہیں؟ جس پر ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے بتایاکہ مجموعی طور پر 73 لاکھ درخت لگائے ہیں اور 3 کروڑ 90 لاکھ لگانے کا پلان ہے۔

اس منصوبے کے تحت 10 ارب درخت لگانے کا عزم کیا گیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
اس منصوبے کے تحت 10 ارب درخت لگانے کا عزم کیا گیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اس موقع پر عدالت نے سندھ حکومت کی جانب سے جھیلوں اور شاہراوں کے اطراف درخت لگانے سے متعلق رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ سندھ کے افسران جیل بھی جائیں گے اور نوکری سے بھی جائیں گے، عدالتی حکم عدولی پر سندھ کے افسران کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے۔

ساتھ ہی پنجاب کا معاملہ آیا تو سیکریٹری آبپاشی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں کینال کے 25 ہزار رقبے پر درخت لگائے ہیں، اس علاقے میں 3 لاکھ درخت لگائے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 25 ہزار میل کینال روڈ کے علاقے میں 3 لاکھ درخت کچھ بھی نہیں، ساتھ ہی سیکریٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کام نہیں کریں گے تو جیل بھی جائیں گے اور نوکری سے بھی۔

کاغذوں میں آدھا پاکستان جنگل ہے، اصل میں کہیں جنگل نہیں، جسٹس اعجاز

اسی دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ‏کاغذوں میں آدھا پاکستان جنگل ہے، اصل میں جنگل کہیں نہیں۔

سماعت کے دوران کوئٹہ شہر سے متعلق چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں کبھی کوئٹہ کے پہاڑوں پر درخت ہوا کرتے تھے، جس پر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ کوئٹہ کے پہاڑوں پر درخت نہیں لگتے، اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کوئٹہ شہر کے پہاڑ چٹانیں ہیں؟

اس موقع پر کیس کی سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کیا گیا۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی عدالت میں پیش ہوئے، جس پر چیف جسٹس نے بلین ٹری سونامی سے متعلق پوچھا۔

یہ بھی پڑھیں: بلین ٹری سونامی: نیب نے 4 انویسٹی گیشنز، 6 انکوائریز کی منظوری دے دی

اس پر جواب دیتے ہوئے سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے بتایا کہ 430 ملین (43 کروڑ) درخت ملک بھر میں لگائے جاچکے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ 430 ملین درخت کہاں لگے ہیں۔

430 ملین درختوں کا لگنا ناقابل فہم لگتا ہے، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 430 ملین درختوں کا لگنا ناقابل فہم لگتا ہے، اگر 430 ملین درخت لگ چکے ہوتے تو پاکستان کی تقدیر بدل جاتی، اتنے درخت لگنے سے ہمارا موسم بالکل تبدیل ہوجاتا۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ 430 ملین درخت کہاں سے لائے گئے؟ جس پر سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے جواب دیا کہ اپنے ملک کی نرسریوں سے تمام درخت منگوائے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عجیب بات ہے اتنے زیادہ درخت نرسریوں میں کیسے پڑے ہوئے تھے۔

ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پنجاب، سندھ اور دیگر صوبوں کے مختلف شہروں میں سانس لینا مشکل ہے، اتنی گندگی ہے ملک میں کہ بندہ سانس نہیں لے سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پورے ملک میں مجسٹریٹ بھجوا کر 430 ملین درخت لگنے کی تحقیقیات کروائیں گے۔

عدالت میں پیش ہونے والے سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ گزشتہ برس سے 10 بلین ٹری سونامی پر کام کا آغاز کیا، دو برسوں کے دوران 430 ملین درخت ملک کے مختلف شہروں میں لگا چکے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ درخت کتنے رقبے پر لگے ہیں۔

اس کے جواب میں سیکریٹری نے کہا کہ ایک ملین (10 لاکھ) ہیکٹرز پر درخت لگائے گئے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جنگلات سے متعلق اختیارات تو صوبوں کے پاس ہیں، وفاق کی تو کوئی سنتا ہی نہیں، جس پر سیکریٹری نے کہا کہ بلین ٹری سونامی میں صوبوں کے ساتھ 50 فیصد شراکت داری وفاقی کی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری جنگلات پنجاب اور سندھ بتائیں کہ 430 ملین درخت کہاں لگے ہیں، جس پر پنجاب کے سیکریٹری جنگلات آئے اور انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں 4 برسوں میں 46 کروڑ درخت لگائیں گے جبکہ اب تک 9 کروڑ درخت لگا چکے ہیں۔

کلر کہار کی پہاڑیوں پر تعمیرات روکنے کا حکم

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 9 کروڑ درخت اتنے بڑے پنجاب میں تو نہ ہونے کے برابر ہیں، چھانگا مانگا کا حال ہم دیکھ چکے ہیں، کلر کہار کی پہاڑیوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز بن رہی ہیں۔

عدالتی ریمارکس پر سیکریٹری جنگلات پنجاب نے کہا کہ کلر کہار میں کچھ نجی پہاڑیوں پر تعمیرات ہوئی ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کلر کہار میں مزید تعمیرات آج سے بند کر رہے ہیں۔

ساتھ ہی عدالت نے کلر کہار کی پہاڑیوں پر تعمیرات روکنے کا حکم دے دیا۔

اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں درخت لگائے جانے ہیں—فائل فوٹو: عاصم علی
اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں درخت لگائے جانے ہیں—فائل فوٹو: عاصم علی

سپریم کورٹ نے کہا کہ کلر کہار میں ہاؤسنگ سوسائٹیز سمیت کوئی تعمیرات نہ کی جائیں، ان پہاڑیوں پر درخت لگائے جائیں۔

عدالت نے کہا کہ کلر کہار میں نجی و سرکاری تمام علاقے پر تعمیرات نہیں ہوں گی۔

دوران سماعت سندھ کا معاملہ بھی زیر غور آیا تو جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں جو بھی فنڈز جاتے ہیں دبا لیے جاتے ہیں، ساتھ ہی چیف جسٹس نے یہ کہا کہ سندھ میں جتنا بھی فنڈ چلا جائے لگتا کچھ نہیں۔

سندھ میں انسانوں کا جینا مشکل ہے تو درخت کیسے رہیں گے، عدالت

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں انسانوں کا جینا مشکل ہے تو درخت کیسے رہیں گے، سندھ میں ڈاکو پکڑنے کے نام پر لاڑکانہ کے قریب جنگل کاٹا گیا، سندھ پولیس ڈاکو تو کیا ایک تتلی بھی نہیں پکڑ سکی، پورے پورے جنگل صاف ہوگئے لیکن پکڑا کوئی نہیں گیا۔

اس پر سیکریٹری محکمہ جنگلات نے بتایا کہ سندھ میں 50 لاکھ درخت لگائے گئے ہیں، حکومت سندھ کی جانب سے فنڈز جاری نہیں ہورہے۔

ان کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ نہروں اور دریاؤں کے اطراف درخت عدالت نے لگوائے، بلین ٹری سونامی منصوبے کے درخت کہاں گئے؟ اس پر وفاقی سیکریٹری نے کہا کہ بلین ٹری منصوبے پر عمل صوبائی حکومتیں کر رہی ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے آپ کی بات سنتے ہی کہاں ہیں، بلوچستان میں تو بلین ٹری منصوبے کا وجود ہی نہیں۔

منصوبے کی تمام تفصیلات طلب

بعد ازاں عدالت نے بلین ٹری سونامی منصوبے کی تمام تفصیلات طلب کرلیں۔

عدالت نے کہا کہ آگاہ کیا جائے منصوبے پر اب تک کتنے فنڈز خرچ ہوئے، فنڈز خرچ ہونے کا جواز بھی بمعہ ریکارڈ پیش کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے کتنے درخت کہاں لگے، کون تصدیق کرتا ہے تمام تفصیلات تصاویر سمیت فراہم کرنے کا حکم بھی دیا اور وزارت موسمیاتی تبدیلی سے سیٹلائٹ تصاویر بھی منگوالیں۔

مزید پڑھیں: 'بلین ٹری سونامی میں کرپشن'، پیپلز پارٹی کا نیب سے رجوع کرنے کا فیصلہ

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ رپورٹ جمع کروائی جائے کہ درختوں کی دیکھ بھال اور تحقیقات کون کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد-پشاور موٹروے پر درختوں کا وجود ہی نہیں، ملک کے کسی ہائی وے کے اطراف درخت موجود نہیں، بلین ٹری منصوبے کے حوالے سے دعوے کے شواہد فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں زمین پر لگے درخت نظر آنے چاہئیں، شہروں میں گندگی ہونے کے باعث زیادہ درخت لگائے جائیں، ہماری آئندہ نسل کے لیے سانس لینا دشوار ہوگا، ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کیلئے کچھ کرنا ہے، ہم اس ملک میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکریٹری پلاننگ، چاروں صوبائی سیکریٹریز جنگلات کو بھی طلب کرلیا اور کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔