وہ مجرم جو حقیقی معنوں میں ہوا میں غائب ہوکر اب تک معمہ بنا ہوا ہے

اپ ڈیٹ 08 دسمبر 2020

ای میل

یہ وہ طیارہ ہے جس کو ہائی جیک کیا گیا اور تصویر میں سیئٹل ایئرپورٹ پر کھڑا ہے — اے پی فوٹو
یہ وہ طیارہ ہے جس کو ہائی جیک کیا گیا اور تصویر میں سیئٹل ایئرپورٹ پر کھڑا ہے — اے پی فوٹو

ہوا بازی کی تاریخ میں ہائی جیکنگ کا ایک ہی کیس ہے جو لگ بھگ 50 سال بعد بھی اب تک معمہ بنا ہوا ہے۔

24 نومبر 1971 کی سہ پہر کو امریکی شہر پورٹ لینڈ سے سیئٹل کے لیے ایک پرواز روانہ ہوئی جس میں سوار ایک شخص نے بم کو پھاڑنے کی دھمکی دے کر بھاری تاوان حاصل کیا۔

رقم ملنے کے بعد ہائی جیکر نے تمام مسافروں کو رہا کردیا اور طیارے کو میکسیکو کی جانب اڑانے کی ہدایت کی اور راستے میں پیسوں کے ساتھ پیراشوٹ کو پہن کر چھلانگ لگائی اور فرار ہوگئے۔

اس شخص کا نام بھی کسی کو معلوم نہیں بلکہ اسے فرضی نام ڈی بی کوپر کے طور پر جانا جاتا ہے، جس کی شناخت کے لیے ایف بی آئی نے 45 سال تک کوشش کرکے ہار مان لی۔

طیارے کی ٹکٹ پر تو اس کا نام ڈان کوپر درج تھا مگر خبروں میں غلطی فہمی کے باعث یہ ڈی بی کوپر کے نام سے مشہور ہوا۔

بورڈنگ پاس کی کاپی — فوٹو بشکریہ سیئٹل پائی ڈاٹ کام
بورڈنگ پاس کی کاپی — فوٹو بشکریہ سیئٹل پائی ڈاٹ کام

49 سال بعد بھی اس شخص کی شناخت، جائے وقوع اور مقصد کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

کسی کو نہیں معلوم کہ طیارے سے چھلانگ لگا کر وہ شخص بچ گیا تھا یا نہیں۔

ہائی جیکنگ میں کب کیا ہوا

ایف بی آئی کی جانب سے جاری خاکے — فوٹو بشکریہ ایف بی آئی
ایف بی آئی کی جانب سے جاری خاکے — فوٹو بشکریہ ایف بی آئی

ڈی بی کوپر نارتھ ویسٹ اورینٹ ایئرلائنز کی پرواز 305 پر سوار ہوا اور طیارے کے پچھلے حصے کی نشست پر بیٹھ گیا۔

اس نے سیگریٹ جلائی اور مشروبات طلب کیے اور اس دوران 23 سالہ ایئرپوسٹس ٹیناکو ایک نوٹ دیا جس پر لکھا تھا 'میرے بریف کیس میں ایک بم ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم میرے برابر میں بیٹھ جاؤ'۔

ایئرہوسٹس نے ہدایات کے مطابق عمل کیا اور ڈی بی کوپر نے اسے اپنے باقی مطالبات یعنی 2 لاکھ ڈالرز اور 4 پیراشوٹس کے بارے میں بتایا، جو سیئٹل ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد دیئے جانا تھا۔

پولیس اور فضائی عملے کی جانب سے ایئرپورٹ پر رقم اور پیراشوٹس کو اکٹھا کیا جارہا تھا اور دوسری جانب پائلٹ طیارے کو ایئرپورٹ کے گرد چکر دے رہا تھا۔

اس موقع پر مسافروں کو کچھ نہیں بتایا گیا کہ ایک معمولی مسئلے کی وجہ سے طیارے کا ایندھن جلایا جارہا ہے۔

ساڑھے 3 گھنٹے تک ہوا میں رہنے کے بعد طیارہ لینڈ ہوا، جس کے بعد ہائی جیکر کو رقم اور پیراشوٹس دیئے گئے۔

ڈی بی کوپر نے تمام 36 مسافروں اور عملے کے 6 میں سے 2 افراد کو چھوڑ دیا گیا، جبکہ طیارے میں ایندھن دوبارہ بھرا گیا اور وہ میکسیکو کے لیے روانہ ہوئے۔

اس وقت تک رات ہوچکی تھی اور موسم کافی خراب تھا، مگر ڈی بی کوپر نے پیراشوٹ پہنا اور اوریگن کے مشکل مقام پر چھلانگ لگادی۔

اس کے بعد سے یہ حل طلب کیس ہے اور بالکل کسی فلمی کہانی کی طرح محسوس ہوتا ہے، جس پر حال ہی میں ایک ڈاکومینٹری بھی ریلیز ہوئی ہے۔

ایف بی آئی کا ریکارڈ

ہائی جیکر سے بات کرنے والی ایئرہوسٹس دیگر عملے کے ساتھ — اے پی فوٹو
ہائی جیکر سے بات کرنے والی ایئرہوسٹس دیگر عملے کے ساتھ — اے پی فوٹو

1971 سے 2016 تک ایف بی آئی نے ڈی بی کوپر کا سراغ لگانے کی پوری کوشش کی اور ریکارڈ کے مطاب یہ ایک سفید فام شخص تھا، جس کا قد 6 فٹ ایک انچ اور وزن 77 سے 80 کلوگرام، عمر چالیس سے 50 سال کے درمیان، بھوری آنکھیں، سیاہ بال قابل ذکر تھے۔

ایف بی آئی نے سراغ لگانے کے لیے ہزاروں افراد سے پوچھ گچھ کی اور واقعے کے 5 سال بعد تک 800 سے زائد افراد کو مشتبہ قرار دیا، مگر کوئی بھی مجرم ثابت نہیں ہوسکا۔

طیارے میں ڈی بی کوپر نے بہت کم سراغ چھوڑے تھے جن میں سیگریکٹ چند ٹکڑے، نشست پر ایک بال اور ٹائی، مگر کسی بھی شے پر فنگرپرنٹ نہیں مل سکے۔

آغاز میں یہ مانا جارہا تھا کہ یہ ہائی جیکر ایک ماہر پیرا ٹروپر ہے، مگر مزید تحقیقات میں دریافت کیا گیا کہ وہ ماہر نہیں تھا۔

ایف بی آئی کے اسپیشل ایجنٹ لیری کرر نے 2007 میں کہا تھا 'پیرا شوٹ سے چھلانگ لگانے کا کوئی بھی ماہر تاریک رات اور بارش میں چھلانگ نہیں لگاتا، جب 200 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے تھپیڑے چہرے پر پڑرہے ہوتے، اور وہ بھی بھاری کوٹ کو پہن کر'۔

واقعے کے بعد علاقے میں شواہد کی تلاش — اے پی فوٹو
واقعے کے بعد علاقے میں شواہد کی تلاش — اے پی فوٹو

تفتیش کاروں کا یہ بھی خیال تھا کہ ڈی بی کوپر نے یہ کام تنہا کیا، کیونکہ اگر وہ کسی گروہ کا حصہ ہوتا تو میکسیکو کی بجائے کسی مخصوص فضائی روٹ پر جانے کا مطالبہ کرتا اور کبھی مشکل حالات میں چھلانگ نہیں لگاتا۔

1980 میں ایک بچے نے کچھ ایسا دریافت کیا جس کے بعد اس معمے کے بارے میں دلچسپی ایک بار پھر بڑھ گئی۔

آٹھ سال برائن انگرام واشنگٹں کے دریائے کولمبیا کے کنارے پر کھیل کے لیے کھدائی کررہا تھا جب اس نے 20 ڈالرز کے نوٹوں کا ایک بنڈل دریافت کیا جو کہ مجموعی طور پر 5 ہزار 8 سو ڈالرز تھے۔

جب بچے کے والدین نے پولیس سے رابطہ کیا تو انہیں علم ہوا کہ ان نوٹوں کے سیریل نمبر اس رقم کے ہیں جو ڈی بی کوپر کو دی گئی تھی، طیارے میں کچھ اشیا کے علاوہ یہ واحد ثبوت تھا جو ہائی جیکر کا ملا۔

نوٹ دریافت کرنے کے 6 سال بعد برائن انگرام کو اس رقم میں سے 2 ہزار 760 ڈالرز دیئے گئے۔

برائن نے 2008 میں 20 ڈالر کا نوٹ 37 لاکھ ڈالرز میں نیلام کیا۔

فوٹو بشکریہ این بی سی نیوز
فوٹو بشکریہ این بی سی نیوز

اس واقعے کے بعد امریکی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بوئنگ 727 میں کوپر وینز لگانے کی ہدایت کی۔

یہ کوپر وین درحقیقت طیاروں کے پچھلے حصے کی سیڑھوں کے باہر لگایا جانے والی چٹخنی تھی تاکہ کوئی بھی پرواز کے دوران انہیں کھول کر باہر چھلانگ نہ لگا سکے جیسا ڈی بی کوپر نے کیا اور پھر ہمیشہ کے لیے غائب ہوگیا۔

ویسے تو ایف بی آئی نے اپنی تحقیقات 2016 میں ختم کردی تھی مگر ادارے کی جانب سے درخواست کی گئی تھی کہ اس حوالے سے کسی کے پاس معلومات ہو تو جمع کرائے۔

واقعے کے اثرات

رچرڈ میکوئے — اے پی فوٹو
رچرڈ میکوئے — اے پی فوٹو

اپریل 1972 میں ایک شخص نیوآرک سے لاس اینجلس جانے والی پرواز میں فرضی نام سے سوار ہوا اور پرواز کے دوران ایئرپوسٹس کو ایک نوٹ دیا۔

اس نوٹ میں 5 لاکھ ڈالرز اور 4 پیراشوٹس کا مطالبہ کیا گیا تھا اور ایسا نہ کرنے پر طیارے کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

پرواز نے لینڈ کیا اور ایندھن بھرا گیا اور ہائی جیکر نے مسافروں کے بدلے میں رقم اور پیراشوٹس حاصل کیے اور اگلی منزل کی جانب پرواز کرگیا، اس کے بعد پچھلی سیڑھیوں سے چھلانگ لگا دی۔

یعنی بالکل ڈی بی کوپر کی طرح کا یہ واقعہ اصل واقعے کے 5 ماہ بعد پیش آیا اور کچھ حلقوں نے خیال ظاہر کیا کہ یہ وہی شخص ہوسکتا ہے۔

تاہم اپریل والی ہائی جیکنگ میں ملوث شخص کو گرفتار کرلیا گیا تھا جس کا نام رچرڈ میکوئے جونیئر سے ہوئی اور 45 سال قید کی سزا سنائی گئی، مگر اگست 1974 میں وہ فرار ہوگیا اور بعد ازاں مقابلے میں مارا گیا۔