وہ خاتون جو ہر 24 گھنٹے بعد 26 سال پہلے کے 'عہد' میں پہنچ جاتی ہے

29 نومبر 2020

ای میل

مچل فلپوٹس — فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ
مچل فلپوٹس — فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ

تصور کریں ہر صبح آپ کی آنکھ کھلتے گزرے دن کی تمام یادیں ذہن سے مٹ جائیں بلکہ آپ کو لگے کہ یہ 2020 نہیں بلکہ 1994 ہے، تو پھر؟

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے لیے یہ 26 سال سے حقیقت ہے جس کے ہر دن کی یاد مٹ جاتی ہے بالکل 2004 کی ایک فلم '50 فرسٹ ڈیٹس کی طرح۔

لنکن شائر سے تعلق رکھنے والی مچل فلپوٹس کے لیے یہ روزانہ کی زندگی کا حصہ ہے جو نسیان کی ایک ایسی قسم کا شکار ہیں، جو کروڑوں افراد میں سے کسی ایک میں ہی نظر آتی ہے۔

مزید پڑھیں : 8 چہروں والا وہ شخص جس نے لاکھوں ذہن گھما کر رکھ دیئے

ایسا 2 ٹریفک حادثات کے باعث ہوا، جن میں پہلا حادثہ 1985 میں ہوا، جب وہ ایک موٹرسائیکل پر سفر کررہی تھیں۔

اس کے 5 سال بعد یعنی 1990 میں دوسرا حادثہ ہوا اور دونوں بار حادثے کے دوران ان کے سر پر ہی چوٹ لگی تھی۔

4 سال بعد 1994 میں ڈاکٹروں نے مچل میں مرگی کی تشخیص کی جو کہ سر کی چوٹوں کا نتیجہ تھا اور وہاں سے حالات بدتر ہونے لگے۔

مچل کو اکثر seizures کا سامنا ہوا اور باتیں بھولنا شروع ہوگیں اور اس کی وجہ سے ملازمت سے بھی فارغ کردیا گیا، کیونکہ ایک دن انہوں نے ایک ہی دستاویز کی بار بار فوٹوکاپی بنائی، کیونکہ ان کو یاد ہی نہیں رہتا تھا کہ وہ پہلے بھی ایسا کرچکی ہیں۔

اب 26 سال بعد بھی وہ 1994 میں ہی پھنسی ہوئی ہیں اور یادیں اس سال سے آگے بڑھ ہی نہیں سکیں۔

یعنی ہر صبح جب وہ بیدار ہوتی ہیں تو خود کو 56 سال کی بجائے 26 سال کم عمر تصور کرتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ فورسٹ گمپ ایک نئی فلم ہے جو 1994 میں ریلیز ہوئی تھی۔

ویسے تو ہر گزرے دن کی کوئی یاد ان کے ذہن میں نہیں رہتی مگر اکثر اوقات وہ کسی نئی یاد بننے کے چند منٹ بعد ہی اسے بھول جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : آسکر ایوارڈ جیتنے والی واحد ہارر فلم جو اب بھی لوگوں کو دہشت زدہ کرتی ہے

مثال کے طور پر وہ کسی سے ملتی ہیں اور ممکن ہے کہ چند سیکنڈ بعد وہ یہ بھول جایں کہ وہ کس سے بات کررہی ہیں، بلکہ کیوں کررہی ہیں۔

چیزیں یاد رکھنے کے لیے وہ کاغذ کے ٹکڑوں کا سہارا لیتی ہیں۔

فوٹو بشکریہ مرر ڈاٹ یوکے
فوٹو بشکریہ مرر ڈاٹ یوکے

کرسٹوفر نولان کی فلم ممنٹو میں تو مرکزی کردار نے اپنے جسم میں بھی بہت کچھ لکھوایا ہوا تھا مگر مچل کی جانب سے پورے گھر میں نوٹ لگائے ہوئے ہیں جبکہ اپنے فون پر کیلنڈر کو بھی اسی مقصد کے لیے استعمال کرتی ہیں، حالانکہ اکثر وہ الجھن کا شکار ہوجاتی ہیں کہ موبائل فونز ہوتے کیا ہیں کیونکہ 1994 میں وہ عام نہیں تھے۔

اس طرح وہ ان مقامات کو یاد رکھتی ہیں جہاں ان کو جانا ہے یا ان لوگوں جن سےان کو ملنا ہوتا ہے۔

2010 میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ ہر صبح بیدار ہوکر یہ سوچتی ہیں کہ یہ 1994 چل رہا ہے، یہ وہ آخری سال ہے جو ان کو مکمل طور پر یاد ہے۔

انہوں نے بتایا 'شروع میں یہ بہت حوصلہ شکن تھا، میں جانتی ہوں کہ میں مختلف ہوں، مگر میں مختلف نہیں بننا چاہتی'۔

مگر مچل کا یہ عارضہ زندگی کو مسلسل جدوجہد بنادیتا ہے، خاص طور پر ان کے شوہر آئن فلپوٹس کے لیے۔

فوٹو بشکریہ shared ڈاٹ کام
فوٹو بشکریہ shared ڈاٹ کام

آئن اور مچل کی شادی 1997 میں ہوئی تھی اور وہ ہر روز بیوی کے بیدار ہونے پر انہیں شادی کی تصاویر دکھا کر ثابت کرتے کہ وہ شادی شدہ ہیں۔

یہ بھی دیکھیں : وہ فلم جو 10 سال بعد بھی دیکھنے والوں کے لیے الجھن کا باعث بنی ہوئی ہے

ان کے بول 'یہ میرے لیے بہت زیادہ جھنجھلا دینے والا ہوسکتا تھا مگر میں تحمل سے کام لیتا ہوں اور پرسکون رہتا ہوں، کیونکہ مجھے مچل سے محبت ہے، میں خوش قسمت ہوں کہ ہم دونوں ی ملاقات اس کے حادثات سے قبل ہوئی تھی، جو اسے یاد ہے، اسی طرح ہماری متعدد تصاویر اسے ہمارے رشتے کو یاد رکھنے میں مدد دیتی ہیں، ورنہ وہ سب کچھ بھول چکی ہوتی'۔

مچل کے مطابق انہیں روزانہ ہر چیز کو بار بار یاد کرنا یا سیکھنا پڑتا ہے 'مجھے ایسٹ اینڈرز پسند ہے مگر مجھے کوئی کردار یا کہانی یاد نہیں رہتی، یہ کچھ ایسا ہے جیسے میں ایک ہی دن میں زندگی گزار رہی ہوں'۔

فلم میں کیا دکھایا گیا؟

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اس سے متاثر فلم بنیادی طور پر کامیڈی اور رومانوی تھی جس میں مچل جیسی مشکلات کو نہیں دکھایا گیا تھا۔

فلم میں ایڈم سینڈلر اور ڈریو بیری مور نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔

یہ بھی جانیں : دھڑکنوں کو تیز کردینے والی یہ تھرلر فلم اب تک لوگ بھول نہیں پائے

ہنری روتھ کی ملاقات لوی وائٹ مور سے ہوتی ہے اور ہنری کو معلوم ہوتا ہے کہ اس لڑکی کو اگلے دن چھ بھی یاد نہیں رہتا۔

تو ہنری روزانہ اپنی محبت کا نئے طریقے سے اظہار کرتا اور امید کرتا کہ وہ بھی جواب میں ایسا ہی کرے گی۔

آگے فلم میں کیا ہوتا ہے وہ کافی دلچسپ ہے اور دیکھ کر ہی زیادہ لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔