القاعدہ کا نیا اڈا ایران ہے، مائیک پومپیو کا الزام

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2021

ای میل

واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے متنازع بیان دیا — فائل فوٹو: اے پی
واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے متنازع بیان دیا — فائل فوٹو: اے پی

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے الزام عائد کیا ہے کہ عالمی دہشت گرد تنظیم 'القاعدہ' کا نیا اڈا ایران ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی ساتھی مائیک پومپیو نے ایران پر لگائے جانے والے الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: ایران کو جوہری معاہدے میں امریکا کی واپسی کیلئے جلدی نہیں، خامنہ ای

واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے یہ متنازع بیان دیا۔

امریکی عہدیدار کی جانب سے مذکورہ بیان سامنے آنے کے فوراً بعد ہی تہران نے مائیک پومپیو کے بیان کو مسترد کردیا۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ القاعدہ نے تہران کے اندر اپنی قیادت کو مرکزی شکل دے دی ہے اور اس وقت ایمن الظواہری کے نائبین وہاں موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران نے امریکا اور برطانیہ سے کووڈ 19 ویکسین کی درآمد پر پابندی لگادی

اس طرح کے دعوے انٹیلی جنس اداروں اور کانگریس کے اندر شکوک و شبہات سے دوچار رہتے ہیں۔

مائیک پومپیو نے نیشنل پریس کلب میں تقریر کے دوران کہا کہ القاعدہ کے پاس ایک نیا ہوم بیس ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں کہوں گا کہ واقعتاً ایران نیا افغانستان ہے اور یہ القاعدہ کے اہم جغرافیائی مرکز کے طور پر ہے ،لیکن یہ حقیقت میں بدتر ہے‘۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ افغانستان کے برعکس القاعدہ پہاڑوں میں روپوش تھی لیکن القاعدہ آج ایرانی حکومت کے تحفظ کے تحت کام کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا سے کشیدگی، ایران نے زیر زمین جوہری تنصیبات کی تعمیر شروع کردی

خیال رہے کہ سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو 20 جنوری کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت ختم ہونے کے ساتھ ہی عہدے سے رخصت ہوجائیں گے۔

انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری تہران پر دباؤ ڈالے اور فوجی کارروائی کا مطالبہ کرنے سے گریز کرے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کے متنازع بیان کو مسترد کردیا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایک ٹوئٹ میں مائیک پومپیو کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ ’جنگجی جنون جھوٹ‘ پر مبنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب کوئی بے وقوف نہیں بنے گا جبکہ تمام القاعدہ کے اراکین مائیک پومپیو کے پسندیدہ ’ایم ای‘ سے آئے تھے اور کوئی بھی ایران سے نہیں تھا۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے مابین جوہری معاہدے کے معاملے میں کشیدگی جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبرداری اور ایران پر پابندی کے فیصلے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی میں شدت آگئی تھی۔

مزید پڑھیں: امریکا پابندیاں اٹھا لے تو جوہری معاہدے کی پاسداری کریں گے، ایران

امریکا میں 3 نومبر 2020 کو ہوئے صدارتی انتخاب میں فتح حاصل کرنے والے جو بائیڈن نے جوہری معاہدے میں واپسی کے اشارے دیے ہیں جو 20 جنوری کو امریکا کے صدر کی حیثیت سے منصب سنبھال لیں گے۔

امریکا کے نومنتخب صدر نے عندیہ دیا تھا کہ وہ معاہدے میں واپسی کے بعد ایران کے ساتھ واضح انداز میں بات کرنا چاہتے ہیں جس میں خاص کر میزائل اور مشرق وسطیٰ سمیت خطے میں اثر و رسوخ شامل ہے۔