کیا دوران حمل ماں کا تناؤ بچوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے؟

12 جنوری 2021

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

دوران حمل ماں کا تناؤ کا شکار رہنا بچوں میں مختلف امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات پر اثرانداز ہوتا ہے، بلکہ بچے کی پوری زندگی میں اس کا اثر ہوتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سنسناٹی یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ دوران حمل ماں کا تناؤ بچوں کے مائی ٹو کانڈریا ڈی این اے میں تبدیلیاں لاتا ہے اور مختلف امراض کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسی متعدد بیماریاں جیسے دمہ، موٹاپا، توجہ مرکوز نہ کرپانا اور آٹزم ہیں، جن کا آغاز بچپن میں ہوجاتا ہے اور ان کا تعلق مائی ٹو کانڈریا پر مرتب منفی اثرات سے ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق دوران حمل اور بچپن کے دور ایسا وقت ہوتا ہے جب ماحولیاتی عناصر سے متاثر ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، ایسا نہیں کہ ہم ایک دن بیدار ہوتے ہیں اور دمہ یا کسی اور بیماری کا شکشار ہوجاتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ دوران حمل ہی ایسے اثرات مرتب ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بچوں میں مختلف امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

اس تحقیق کے لیے 2013 سے 218 کے دوران بچوں کی پیدائش کے وقت ماؤں کے آنول کے نمونوں کو حاصل کرکے مائی ٹو کانڈریا جینوم کا سیکونس بناکر ان میں میوٹیشنز کو شناخت کیا۔

محققین نے ایک ماڈل کو استعمال کرکے ماں کے تناؤ اور بچوں کے جینز میں تبدیلیوں کے درمیان تعلق کا بھی جائزہ لیا۔

انہوں نے دریاافت کیا کہ جن خواتین کو نفسیاتی تناؤ کا زیادہ سامنا ہوتا ہے، ان کے آنول کے مائی ٹو کانڈریا میں زندگی بھر میوٹیشنز کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

جس کا منفی اثر ان کے بچوں کی صحت پر مرتب ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے بائیولوجیکل سائیکاٹری میں شائع ہوئے۔