پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان کا ’جلد‘ مردم شماری کرانے پر اتفاق

اپ ڈیٹ 17 جنوری 2021

ای میل

ملک میں 2017 میں مردم شماری کی گئی تھی—فائل فوٹو: فہیم صدیقی/ وائٹ اسٹار
ملک میں 2017 میں مردم شماری کی گئی تھی—فائل فوٹو: فہیم صدیقی/ وائٹ اسٹار

کراچی: متنازع مردم شماری 2017 کی منظوری کے خلاف تقریباً ہر بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں آبادی کی جلد گنتی کروانے کی ضرورت پر اتفاق ہوگیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 22 دسمبر 2020 کو کابینہ اجلاس میں مردم شماری کے نتائج منظور کرنے پر پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان شدید تنقید کی زد میں آئی تھیں، اگرچہ ایم کیو ایم پاکستان نے اختلافی نوٹ لکھا تھا لیکن اس منظوری میں اسے بڑے پیمانے پر ملوث سمجھا جاتا ہے۔

بعد ازاں ہفتے کو وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اور خصوصی اقدامات اسد عمر اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کی سربراہی میں پی ٹی آئی کا وفد بہادرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی دفتر پہنچا، جہاں انہوں نے پارٹی کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور دیگر سے ملاقات کی۔

مزید پڑھیں: کابینہ نے 3 سال بعد مردم شماری کے نتائج کی منظوری دے دی

واضح رہے کہ یہ 2 ہفتوں کے دوران پی ٹی آئی کا دوسرا دورہ تھا جبکہ اس سے قبل 31 دسمبر 2020 کو پی ٹی آئی کی مقامی قیادت نے اپنے اتحادیوں سے ملاقات کی تھی۔

تاہم یہ ملاقات سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ایم کیو ایم پاکستان کے دفتر کے دورے کے ایک روز بعد سامنے آئی تھی، پی پی پی نے ایم کیو ایم پاکستان سے کہا تھا کہ قومی مردم شماری 2017 کی منظوری کے وفاقی قدم کے خلاف متحد راستہ اپنایا جائے۔

علاوہ ازیں گزشتہ روز ہونے والی پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان کی ملاقات کی توجہ مردم شماری پر ہی مرکوز رہی چونکہ دونوں جماعتیں 2017 کے نتائج کو تسلیم کرنے کے سیاسی نتائج سے متعلق فکر مند تھیں۔

اگرچہ ملک میں مردم شماری ہر 10 سال بعد کی جاتی ہے تاہم آخری مردم شماری 17 سال بعد کی گئی تھی۔

کابینہ کمیٹی تشکیل

دوسری جانب اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے آئی ٹی اور ٹیلی کام کے وزیر امین الحق کی سربراہی میں ایک کابینہ کمیٹی بنائی گئی ہے جو جلد مردم شماری کرنے کے لیے کابینہ کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک تکنیکی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو مؤثر نظام بنانے کے لیے دنیا بھر کے مردم شماری کے عمل کا جائزہ لے گی۔

ویڈیو دیکھیں: 'مردم شماری کو صحیح کروانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے'

اسد عمر کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے نتائج کے خلاف احتجاج کرنے والی جماعتوں کو پشاور بھی جانا چاہیے اور وہاں بھی احتجاج کرنا چاہیے کیونکہ مردم شماری صرف کراچی کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں پورے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے اور ہم مردم شماری کے لیے بہترین نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں‘۔

اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں جماعتیں وقت سے پہلے نئی مردم شماری کرانے پر راضی ہوگئی ہیں کیونکہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کو چھٹی مردم شماری کے نتائج پر شدید تحفظات تھے۔