’صدارتی آرڈیننسز کے خلاف درخواست کے التوا کے دوران 18 آرڈیننس جاری کیے گئے‘

اپ ڈیٹ 17 جنوری 2021

ای میل

محسن نواز رانجھا نے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
محسن نواز رانجھا نے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک قانون ساز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ ’ضرورت سے زیادہ‘ صدارتی آرڈیننسز کے خلاف ان کی درخواست کے زیر التوا کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے 18 آرڈیننس نافذ کردیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق رکن قومی اسمبلی محسن نواز رانجھا نے بیرسٹر عمر گیلانی کے توسط سے دائر درخواست میں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کرنے کے بجائے حکومتی امور چلانے کے آرڈیننسز جاری کرنے کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کے اختیارات کو چیلنج کیا تھا، ابتدائی طور پر اس میں 8 آرڈیننس چیلنج کیے گئے تھے۔

درخواست گزار کا کیس یہ ہے کہ آرڈیینس کا اختیار ایک ہنگامی طریقہ کار ہے اور یہ معمول کی قانون سازی کے لیے نہیں ہے، مزید یہ کہ یہ آئین کے آرٹیکل 89 سے واضح ہے جس میں آرڈیننس بنانے کے اختیار پر سخت شرائط لاگو کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: آرڈیننس کے نفاذ کا صدارتی اختیار محدود کرنے کا بل سینیٹ میں جمع

اس کا استعمال صرف اس وقت ہوتا ہے جب کسی ایسی ہنگامی صورتحال (جیسے جنگ، قحط، وبا یا بغاوت) کے لیے ردعمل دینا ضروری ہو جو پارلیمنٹ کے ایک اجلاس کے بعد پیدا ہوئی ہو اور دوسرے اجلاس کے لیے انتظار پاکستان کے عوام کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن رہا ہو۔

درخواست میں کہا گیا کہ اس حوالے سے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بدقسمتی سے آرڈیننس کے استعمال کی طاقت کو یکے بعد دیگرے حکومتوں کی جانب سے مسلسل غلط استعمال کیا گیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1947 کے بعد سے پاکستان کے صدور نے 2 ہزار 500 سے زائد آرڈیننس نافذ کیے۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یہ عمل جو ایگزیکٹو کی جانب سے مقننہ کے دائرہ کار میں مداخلت کے مترادف ہے پاکستان میں جاری ہے۔

درخواست گزار نے 30 اکتوبر 2019 کو صدر کی جانب سے جاری 8 آرڈیننس کو چیلنج کیا اور 13 نومبر 2019 کے جاری حکم میں درخواست کو منظور کرتے ہوئے نوٹسز جاری کیے گئے، جس کے بعد سے مختلف تاریخ پر اس کیس کی کئی سماعتیں ہوچکی ہیں۔

درخواست کے مطابق حکومت درخواست کے زیر التوا ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے اور یہ عام قانون سازی کے معاملے سے متعلق نئے آرڈیننس جاری کر رہی ہے جبکہ پارلیمنٹ کو سائڈ لائن کر رہی ہے۔

اس درخواست کے زیر التوا کے دوران جن آرڈیننس کو نافذ کیا گیا ان میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی آرڈیننس 2020، فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ آرڈیننس 2020، پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2020، انٹرنیشنل کورڈ آف جسٹس (ریویو اینڈ ری کنسڈریشن) آرڈیننس 2020، کمپنیز (ترمیم) آرڈیننس 2020، کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنیز (ترمیم) آرڈیننس 2020، کمپنیز (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2020م پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (ترمیم) آرڈیننس 2020، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیم) آرڈیننس 2020 شامل ہے۔

اسی طرح کووڈ 19 (ذخیرہ اندوزی کی روک تھا) آرڈیننس 2020، ٹیکس لاز (ترمیم) آرڈیننس 2020، کووڈ 19 (اسمگلنگ کی روک تھام) آرڈیننس 2020 ( III آف 2020)، فنانشل انسٹی ٹیوشن (سیکیورڈ ٹرانسزیکشنز) (ترمیم) آرڈیننس 2020 (IV آف 2020)، پاکستان پینل کوڈ (ترمیم) آرڈیننس 2019 (نمبر 25 آف 2019)، ٹیکس لاز (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2019، انفارسمنٹ آف وومن پراپرٹی رائٹس (ترمیم) آرڈیننس 2019، نیشنل اکاؤنٹیبلٹی (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2019، چین پاکستان اقتصادی راہ داری اتھارٹی آرڈینن 2019 بھی انہیں آرڈیینس میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت نے جزائر سے متعلق وفاقی حکومت کا صدارتی آرڈیننس مسترد کردیا

اس میں کہا گیا کہ یہ تمام آرڈیننس ہنگامی قانون سازی کے طور پر تصور نہیں کیے جاسکتے۔

درخواست میں کہا گیا کہ صدر کو آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت آرڈیننس نافذ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جو عارضی قانون سازی کی شکل ہے اور اس میں 2 شرائط واضح ہیں کہ آیا سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہورہا ہو اور ایسی صورتحال ہو جس پر فوری کارروائی کی ضرورت ہو۔

علاوہ ازیں مذکورہ معاملے پر سینیٹر رضا ربانی نے رپورٹ میں کہا کہ پارلیمنٹ کے سیشن میں نہ ہونے کے دوران آرڈیننس صدر کی جانب سے عارضی قانون سازی ہے اور اسے آئین سے متصادم پانے پر ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔