کراچی: 3 افراد کے قتل پر کالعدم تنظیم کے حملہ آور کو سزائے موت سنا دی گئی

اپ ڈیٹ 17 جنوری 2021

ای میل

عدالت نے ملزم پر جرمانہ بھی عائد کیا — فائل فوٹو: رائٹرز
عدالت نے ملزم پر جرمانہ بھی عائد کیا — فائل فوٹو: رائٹرز

کراچی: انسداد دہشت گردی عدالت نے ایک مزار پر حملے کے دوران 3 افراد کو قتل کرنے والے ایک حملہ آور کو سزائے موت سنادی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا کالعدم لشکر جھنگوی سے تعلق تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق محمد اسحٰق عرف بوبی 23 اگست 2014 کو کورنگی میں نذر علی شاہ کے مزار کے متولی ظاہر حسین شاہ، ان کے دوست محمد یونس اور مزار کے ایک ملازم محمد نواز کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کا مرتکب قرار پایا۔

اے ٹی سی-16 کے جج کی جانب سے مذکورہ فیصلہ سنایا گیا، ساتھ ہی جج نے مجرم کو حکم دیا کہ وہ ہر متاثرہ فرد کے قانونی وارث کو 2 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرے، اس کے علاوہ سزایافتہ شخص کو ریاست کو بھی 2 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

مزید پڑھیں: کراچی: وکیل قتل کیس میں کالعدم تنظیم کے 2 کارکنوں کو سزائے موت

مزید برآن جج نے دہشت گردی کے لیے مذکورہ شخص کو 10 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی، اس کے علاوہ عدالت نے مجرم کی جائیدادیں بھی ضبط کرنے کا حکم دیا۔

تاہم تمام سزاؤں کی سندھ ہائی کورٹ سے توثیق ہونی ہے اور ان پر بیک وقت عمل درآمد ہوگا۔

علاوہ ازیں استغاثہ کے مطابق واقعے کے دن 2 نوجوان لڑکے مزار گئے تھے اور وہاں ایک ملازم سے مزار کے متولی سید زاہد حسین سے متعلق معلومات حاصل کی تھی، بعد ازاں 10 منٹ بعد دونوں افراد واپس آئے اور فائرنگ کرکے 3 افراد کو قتل کردیا تھا اور فرار ہوگئے تھے۔

ابتدائی طور پر تفتیشی افسر نے اے کلاس رپورٹ جمع کروائی تھی جس میں ملزمان کو نامعلوم قرار دیا تھا۔

بعد ازاں ملزم اسحٰق عرف بوبی کو ایک دوسرے کیس سے تعلق پر گرفتار کیا گیا تھا اور دوران تفتیش اس نے تہرے قتل کیس میں اپنے ملوث ہونے کا بتایا۔

اسٹیٹ پراسیکیوٹر محمد رضا کاٹھور اور غلام مرتضیٰ میتلو نے مؤقف اپنایا کہ عینی شاہد محمد عامر نے متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے کی گئی شناختی پریڈ میں ملزم کو واضح طور پر شناخت کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ کیس میں ملزم کے کردار کو جرم سے جوڑنے کے لیے کافی حالاتی اور فرانزک ثبوت موجود ہیں جبکہ اس کی فرقہ ورانہ قتل میں ملوث ہونے کی تاریخ بھی ہے، اس کے علاوہ وہ امام بارگاہ میں دھماکے اور فرقہ ورانہ بنیاد پر ایڈووکیٹ سید وقار شاہ کے قتل کے کیس میں بھی سزایافتہ ہے۔

پراسیکیوٹرز نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ قانون کے مطابق ملزم کو سخت سزا دے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم تنظیم کے 2 دہشت گرد گرفتار

دوسری جانب ملزم نے کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) کی دفعہ 342 کے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کیا اور اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا۔

وکیل دفاع حشمت خالد کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کی مبینہ شناختی پریڈ میں غلطی ہوئی ہے جبکہ استغاثہ کے کیس میں دیگر تضادات بھی ہیں۔

انہوں نے اعتراض کیا کہ ان کے مؤکل کو مذکورہ کیس میں غلط پھنسایا گیا ہے لہٰذا انہیں بری کیا جائے۔


یہ خبر 17 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی