عظمت سعید پر مشتمل ایک رکنی کمیشن براڈ شیٹ کی تحقیقات کرےگا، شبلی فراز

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2021

ای میل

انہوں نے کہا کہ یہ وہ تبدیلی ہے جو نیا پاکستان کا مظہر ہیں—فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ یہ وہ تبدیلی ہے جو نیا پاکستان کا مظہر ہیں—فوٹو: ڈان نیوز

حکومت نے سپریم کورٹ کے سابق جج شیخ عظمت سعید پر مشتمل ایک رکنی کمیشن بنانے کا اعلان کیا جو براڈ شیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کرے گا۔

اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد پریس بریفنگ کے دوران وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ کمیشن اب انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک رکنی کمیشن کا مقصد ہر پہلو کو دیکھنا ہے اور ’ان لوگوں کو بے نقاب کرنا ہے جن کے لیے براڈ شیٹ معاہدہ ہوا تھا‘۔

مزید پڑھیں: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدے کی تحقیقات کا حکم

قبل ازیں وفاقی کابینہ نے براڈشیٹ معاملے کی تحقیقات اور اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کے تعین کے لیے 5 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے بارے میٰں کہا گیا تھا کہ کمیٹی میں ’ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ایک سابق جج، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، اٹارنی جنرل کے دفتر سے ایک سینئر افسر، ایک سینئر وکیل اور وزیر اعظم کے نامزد کردہ افسر شامل ہوں گے‘۔

تاہم وفاقی وزیر نے اس فیصلے میں تبدیلی کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

سینیٹر شبلی فراز نے مزید کہا کہ ایسی صورتحال میں حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اس اسکینڈل اور واقعات کی تحقیقات کرے جس کی ادائیگی قوم کے پیسوں سے ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ غلطیوں کے ذمہ دار افراد کی وجہ سے پاکستان سے چوری کی گئی رقم ملک واپس نہیں آئی اور اس کے بجائے معاہدے کی وجہ سے حکومت کو ادائیگی کرنی پڑی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سب کے بارے میں معلوم کریں کہ ملک کی معاشی بربادی اور قرضوں کے جال میں کس نے کیا کردار ادا کیا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام مبینہ بدعنوانیوں کی تحقیقات 45 دن بعد ہی منظر عام پر آجائے گی جب کمیشن اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے براڈ شیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے جسٹس (ر) عظمت سعید کا تقرر مسترد کردیا تھا۔

اپوزیشن کا کہنا تھا کہ جسٹس (ر) عظمت سعید متنازع شخصیت اور معاہدہ کرنے والوں میں شامل تھے، بدنام زمانہ براڈ شیٹ کے ساتھ نیب کے معاہدے پر دستخط کے وقت شیخ عظمت سعید ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب اور سینئر قانونی عہدے پر فائز تھے۔

مزید پڑھیں: کاوے موسوی نے اپنی توپوں کا رخ موجودہ حکومت کی جانب موڑ دیا

شبلی فراز نے افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں بدعنوان عناصر نے سیاسی مہم جوئی کی وجہ سے ملک کا اخلاقی جنازہ نکلا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم آج کل اس کلچر میں رہ رہے ہیں جہاں بدعنوانی کوئی بڑی بات نہیں ہے اور پاکستان تحریک انصاف نے اس کلچر کے خلاف چیلنج قبول کیا ہے'۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے سابق جج عظمت سعید شیخ کو اگر ان کی تقرری پر کوئی اعتراض ہوتا تو اب تک وہ اس بات کا اظہار کردیتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ہمیں ان پر اعتماد ہے اور وہ اپنے نام اور اہلیت کی وجہ سے مشہور ہیں، مجھے لگتا ہے کہ وہ یہ ذمہ داری نبھانے کے لیے بہترین شخص ہیں‘۔

’سینیٹ میں اوپن بیلٹ کے معاملے میں ضرورت پڑی تو پارلیمنٹ بھی جائیں گے‘

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ سینیٹ کی نشست خریدنے والوں کی حوصلہ شکنی کے لیے وزیراعظم عمران خان نے اوپن بلیٹ کی حمایت اور اپوزیشن جماعتیں جو پہلے اسی بات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں آج اس کے خلاف تقریریں کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس آئینی معاملے میں ضرورت پڑی تو پارلیمنٹ بھی جا سکتے ہیں اور دیکھیں گے کہ اس کی مخالفت کون کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: سینیٹ انتخابات پر صدارتی ریفرنس: حکومت سندھ کی اوپن بیلٹ کی مخالفت

شبلی فراز نے کہا کہ اوپن بیلٹ کی مخالفت کرنے والوں کو قوم کو بتانا پڑے گا کہ کیوں مخالفت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ تبدیلی ہے جو نیا پاکستان کا مظہر ہے اور تبدیلی کسی ایونٹ کا نام نہیں بلکہ اداروں کی سطح پر ہونے والے بہتر کاموں کا عمل ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ الیکشن ٹھیک ہوئے یا نہیں، ووٹ خریدے گئے یا بیچے گئے، اس بحث سے باہر ہونے کا حل سینیٹ میں اوپن بیلٹ ہی ہے۔

انہوں نے کہا سکوک بانڈ کا عمل 2018 سے جاری ہے، سود پر مبنی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اقدامات تو لینے پڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات صدارتی ریفرنس: اسپیکر قومی اسمبلی کی اوپن بیلٹ کی حمایت

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اسلامک بینکنگ کو فروغ دینا ہے، اسلامک بینکنگ 15 سال سے موجود ہے اور رقوم بھی آجاتی ہے لیکن سود کی وجہ سے حدبندیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامک بینکنگ کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے ایف نائن پارک ٹرانزیکشن ہورہی ہے جو اسلامی بینکنگ کو فروغ دے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایف نائن پارک گروی نہیں رکھا گیا یا اس پر کسی کا چارج ہوگا ورنہ تو حکومت پاکستان اپنی گارنٹی بھی دے سکتی ہے۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے کہا کہ اس طرح کے معاملے میں اسلام آباد کلب یا کسی بھی بلڈنگ کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: چیئرمین سینیٹ نے بھی ایوان بالا کے انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کی حمایت کردی

شبلی فراز نے اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن عوام کو گمراہ کررہی ہے، سابقہ حکومت نے ڈالر کو مصنوعی سطح پر رکھا جس کی وجہ سے قرضے کم نظر آئے، درآمدات سستی نظر آتی تھیں جس سے کاروبار تباہ ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام معاشی اشاریے مثبت جارہے ہیں، برآمدات بڑھ رہی ہیں جبکہ درآمدات تھوڑی بڑھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر میں نمایاں فرق آیا ہے۔

شبلی فراز نے زرعی شعبے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ کپاس کے علاوہ تمام دیگر اجزا کی پیداوار بہت بہتر ہوئی ہے۔

وفاقی کابینہ نے 5 فروری کو 'یوم یکجہتی کشمیر' بھرپور طریقے سے منانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

کابینہ اجلاس کو بریفنگ اور منظوریاں

ویراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹنگ کے حوالے سے آئینی ترمیم پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وفاقی کابینہ کا براڈشیٹ معاملے پر تحقیقات کے حوالے سے کمیٹی کے بجائے کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت کمیشن کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا۔

مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات و کفایت شعاری کی جانب سے وفاقی کابینہ کو حکومت کی ٹاسک فورس برائے کفایت شعاری و تنظیم نو کی جانب سے وزارتوں اور ڈویژنز میں 70 ہزار خالی آسامیاں ختم کرنے، وفاقی حکومت کے اداروں کی تعداد 441 سے کم کرکے 324 تک رکھنے کے حوالے سے ادراہ جاتی اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ پچھلے 2 سالوں میں وزارتوں اور اداروں کے اخراجات نہیں بڑھائے گئے۔

کابینہ کو مزید بتایا گیا کہ 7 اداروں کی ری اسٹرکچرنگ کے حوالے سے اصلاحات پر مبنی سفارشات متعلقہ وزارتوں کو عمل درآمد کے لیے دے دی گئی ہیں۔

ان اصلاحات پر عمل درآمد پر پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیا جارہا ہے۔

کابینہ کو وزارتوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری اور ای فائلنگ کے حوالے سے اہداف کی تکمیل میں پیشرفت، اخراجات میں کمی، مونیٹائزیشن کے حوالے سے اصلاحات اور ڈویژنز کو پی ایس ڈی پی اسکیمز کی مد میں فنڈز کی ریلیز کی حد میں اضافے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

ان اصلاحات پر عمل درآمد اور متوقع نتائج کے حوالے سے روڈ میپ پر بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔

وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی جانب سے کابینہ کو جولائی تا دسمبر 2020 میں اقتصادی و معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

شرکا کو بتایا گیا کہ پچھلے 6 ماہ کے دوران برآمدات میں کئی سالوں کی نسبت اضافہ دیکھا گیا جبکہ ترسیلات زر میں 2.8 ارب ڈالرز کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

صرف دسمبر کے مہینے میں ٹیکس محصولات میں 7.9 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت فنڈز کا استعمال پچھلے سال سے 7.4 فیصد زیادہ رہا۔

پچھلے 8 سالوں کے دوران پہلے 6 ماہ میں پی ایس ڈی پی فنڈز کا استعمال سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ محصولات اخراجات سے زیادہ رہے جبکہ زراعت کے شعبے میں چاول کی پیداوار میں 10 فیصد، گنے کی پیداوار میں 13 فیصد اور مکئی کی پیداوار میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے علاوہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی خوش آئند اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس سال لارج اسکیل مینوفیکچرنگ 7.4 فیصد بڑھی، صرف دسمبر کے مہینے میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 14.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ 12 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔

افراط زر کے حوالے سے کابینہ کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال افراط زر کی شرح اوسطاً 11.1 فیصد رہی جبکہ موجودہ سال کے 6 ماہ میں یہ شرح 8.6 فیصد ہے جبکہ صرف دسمبر کی مہینے میں افراط زر کی شرح 6.4 فیصد رہی اور آئندہ مہینوں میں افراط زر کی شرح میں مزید کمی متوقع ہے۔

شرکا کو بتایا گیا کہ ایکسچینج ریٹ مستحکم ہے جبکہ اپریل 2018 کے بعد اسٹاک مارکیٹ بلند سطح پر ہے۔

کابینہ نے نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کو وزارت برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کے زیر انتظام لانے اور ادارے کے مستقبل کے تنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے تشکیل شدہ کابینہ کی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی۔

وفاقی کابینہ نے پاکستان کی International Network on Bamboo and Rattan ممبر شپ کے حوالے سے الحاق کے دستاویزک ی منظوری دی۔

کابینہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ڈیلی ویجرز اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے حوالے سے کمیٹی کی تشکیل نو کی منظوری دی۔

وفاقی کابینہ نے نیشنل انسٹیٹوشنل فسلیٹیشن ٹیکنالوجیز کے زیر انتظام تمام درجوں کی ملازمت پر پاکستان اسینشل سروسز (مینٹیننس) ایکٹ 1952 کے اطلاق میں 6 ماہ تک توسیع کی منظوری دی۔

وفاقی کابینہ نے پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن اور سکیورٹی پیپرز لمیٹڈ کراچی کے ملازمین پر پاکستان اسینشل سروسز (مینٹیننس) ایکٹ 1952 کے اطلاق میں 6 ماہ تک توسیع کی منظوری دی۔

وفاقی کابینہ نے نادراکے مالی سال 20-2019 کے اکاؤنٹس کے آڈٹ کے لیے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم کے تقرر کی منظوری دی۔

وفاقی کابینہ نے کورونا ویکسین کی درآمد کے حوالے سے وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن کی جانب سے سفارشات کی منظوری دی۔

وفاقی کابینہ نے ورکرز ویلفیئر فنڈ ہاؤسنگ الاٹمنٹ پالیسی 2020 کے مسودے اور اس پالیسی کے تحت ورکرز ویلفیئر فنڈ اور نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی منظوری دی۔

وفاقی کابینہ نے کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے 7 جنوری 2021 اور 14 جنوری 2021 کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔

وفاقی کابینہ نے کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی کے 18 جنوری 2021 اور 21 جنوری 2021 کو منعقد ہونے والے اجلاسوں میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 20 جنوری 2021 کو منعقد ہونے والے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی چند ہدایات کی روشنی میں توثیق کی۔

وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے ریاستی ملکیتی اداروں کے 20 جنوری 2021 کو منعقد ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی، سیکریٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ کی تعیناتی کی منظوری بھی دی گئی۔

کابینہ نے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے انتخابات کے حوالے سے نامزدگیوں، جن میں سید خالد سراج، ظفر مسعود، محم ریاض خان، شمامہ تل امبر ارباب، جہانزیب درانی، اکبر ایوب خان شامل ہیں، کی منظوری دی۔