کراچی: عدالت نے چائلڈ پورنوگرافی کے ملزم کو جیل بھیج دیا

اپ ڈیٹ 28 جنوری 2021

ای میل

ایف آئی اے نے رواں ماہ کے اوائل میں ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا— فوٹو: کریٹو کامنز
ایف آئی اے نے رواں ماہ کے اوائل میں ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا— فوٹو: کریٹو کامنز

کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ نے مبینہ طور پر 13 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنے اور چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث زیرحراست قاری کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے دعویٰ کیا تھا کہ مبینہ طور پر 13 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنے اور چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث قاری کو گرفتار کر لیا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی:کم عمر طالبہ کو بلیک میل کرنے والا 'قاری' ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار

تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ ملزم نے 13 سالہ لڑکی کی قابل اعتراض تصاویر بنائیں اور انہیں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملزم ایک قاری ہے جو مذکورہ لڑکی کو پڑھانے کے لیے ان کے گھر جاتا تھا اور اس دوران مبینہ طور پر جنسی طور ہراساں کرنے میں ملوث ہوا۔

تفتیشی افسر نے نشان دہی کی کہ ملزم کورونا وبا کے دوران لڑکی کو آن لائن پڑھاتا تھا اور اسی دوران انہوں نے قابل اعتراض تصاویر حاصل کیں۔

انہوں نے کہا کہ ملزم نے تصاویر لڑکی کی والدہ کو بھیجیں، انہیں بلیک میل کرتے ہوئے ان سے پیسوں کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: 'چائلڈ پورنوگرافی' کیس میں مدرسے کے استاد کا جوڈیشل ریمانڈ

یاد رہے کہ ایف آئی اے نے رواں ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ اس نے چائلڈ پورنوگرافی اور کم عمر طالبہ کو ہراساں کرنے کے الزامات کے تحت 'قاری' کو گرفتار کیا ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر فیض اللہ کوریجو کا کہنا تھا کہ کم عمر طالبہ نے اپنی والدہ کو یہ شکایت بھی کی کہ ملزم کے پاس ان کی 'قابل اعتراض' تصاویر بھی ہیں اور اس کی بنیاد پر وہ انہیں ہراساں اور بلیک میل کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے بعد ازاں بچی کی تصاویر اس کی ماں کو واٹس ایپ کے ذریعے بھیج دیں اور 'ملزم خاندان کو دھمکا رہا تھا کہ اگر ان کے غیر اخلاقی مطالبے پورے نہیں کیے گئے تو سوشل میڈیا پر ان تصاویر کو وائرل کردیں گے'۔

انہوں نے کہا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے نے ان کے قبضے سے موبائل فون بھی برآمد کرلیا۔

ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ 'قبضے میں لیے گئے موبائل کا تکنیکی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور کم سن لڑکی کی قابل اعتراض تصاویر بھی دستیاب ہوئی ہیں جس کی بنیاد پر وہ انہیں بلیک میل، ہراساں اور دھمکا رہا تھا'۔

ملزم کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے سیکشن 22 اور 24 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی: 12 سالہ لڑکی کے ریپ کے مجرم کو سزائے موت

بعد ازاں مقامی عدالت نے مبینہ چائلڈ پورنوگرافی کے کیس میں قاری کا جوڈیشل ریمانڈ دے دیا تھا جہاں تفتیشی افسر نے کہا تھا کہ ملزم سے تحقیقات مکمل ہوگئی ہے اس لیے انہیں اس کی مزید تحویل کی ضرورت نہیں ہے اور عدالت سے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

جج نے تفتیشی افسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم کا جوڈیشل ریمانڈ دے دیا اور تفتیشی افسر کو اگلی سماعت میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔