سینیٹ انتخابات ریفرنس: انتخابی اتحاد خفیہ نہیں ہوتے، سپریم کورٹ

اپ ڈیٹ 22 فروری 2021

ای میل

عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی بینچ نے سماعت کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی بینچ نے سماعت کی—فائل فوٹو: اے ایف پی

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس میں جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس سامنے آئے ہیں کہ انتحابی اتحاد کبھی خفیہ نہیں ہوتے، جہاں کسی انفردای شخص سے اتحاد ہو وہاں خفیہ رکھا جاتا ہے جبکہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ پارٹی سسٹم مضبوط ہو، جب تک ہم عرصہ دراز سے جاری طریقہ کار میں تبدیلی نہیں لائیں گے جمہوریت کی مضبوطی خواب رہے گی۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی، جہاں حکومتی نمائندوں، معاملے میں شامل مختلف فریقین کے وکلا و دیگر شریک ہوئے۔

سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے وکیل رضا ربانی نے کہا کہ جمعہ کو میں نے اپنے دلائل میں سینیٹ کی تشکیل پر دلائل دیے تھے، میں آج آرٹیکل 226 پر دلائل دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 226 پر دوبارہ اسمبلی کے ایجنڈے پر آچکا ہے، ایوان میں آرٹیکل 226 میں ترمیم کا بل زیر التوا ہے جبکہ آرٹیکل 226 کے سینیٹ پر اطلاق نہ ہونے کا آرڈینس بھی آچکا ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ 1962 کا آئین صدارتی نظام کے حوالے سے تھا، 1962 کے آئین میں بھی خفیہ ووٹنگ کی شق شامل تھی۔

رضا ربانی نے کہا کہ یہ آرٹیکل 3 مختلف فورم پر زیر بحث لایا گیا، اسمبلی میں بل کے ذریعے اس میں ترمیم کا کہا گیا، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا دوبارہ بل بھیجا؟ اس کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ جی، دوبارہ بل بھیجا گیا۔

مزید پڑھیں: صدارتی ریفرنس: کسی جماعت کو اتحاد کرنا ہے تو کھلے عام کرے، سپریم کورٹ

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سپریم کورٹ میں بھارتی قوانین نظیریں دی گئیں، بھارت کے آئین و قانون پاکستانی آئین کے آرٹیکل 226 کی حدود کا تعین نہیں کرسکتے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کا دفتر لیڈر آف دی ہاؤس (قائد ایوان) سمجھا جاتا ہے۔

دوران سماعت رضا ربانی کا کہنا تھا کہ خفیہ انتخابات کی کہاں شرط ہے، خفیہ انتخابات ایک مختلف معاملہ ہے، انتخابات کے مختلف سیٹ ہوتے ہیں، ایک سیٹ وزیراعظم و وزرائے اعلیٰ کا انتخاب ہے، ایک سیٹ چیئرمین سینٹ و اسپیکرز کے انتخابات سے متعلق ہے، ان انتخابات کے لیے خفیہ کا طریقہ کار موجود ہے۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں پارٹی پالیسی سے بالاتر بھی ووٹ ڈالا جاتا ہے، اس لیے آئین نے آرٹیکل 226 کے تحت تحفظ دیا ہے چونکہ سینیٹ وفاق کا ہاؤس ہے، یہ وفاقی یونٹس کا تحفظ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ سیاسی جماعتوں کی نہیں بلکہ وفاق کی نمائندگی کرتا ہے، سیاسی جماعتوں کے فورم محتلف ہیں، قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلیاں براہ راست سیاسی جماعتوں کے فورم ہیں، سینیٹ کا تصور یکسر مختلف ہے۔

عدالت میں اپنے دلائل دیتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ قومی اسمبلی آبادی کی اکثریت کی نمائندہ ہوتی ہے، سینیٹ میں وفاقی یونٹس کی متناسب نمائندگی ہوتی ہے، سینیٹ وفاقی یونٹس کے حقوق کا محافظ ہے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں رکن اسمبلی کی نااہلی سے متعلق 63 (اے) کی کوئی بار نہیں، سینیٹ سے متعلق حفیظ پیرزادہ کی متناسب نمائندگی سے متعلق تقریر قومی اسمبلی سے متعلق ہے، سینیٹ سے متعلق متناسب نمائندگی کی نہیں بلکہ قومی اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کی نمایندگی کی بات کی۔

ان کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی دلیل یہ ہے کہ متناسب نمائندگی صرف ووٹ گننے سے متعلق ہے، اگر سیاسی پارٹیاں تقسیم ہیں تو صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کی سینیٹ میں کیسے نمائندگی ہوگی، اس پر رضا ربانی نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ کسی پارٹی کی آپ کو صحیح متناسب نمائندگی نظر آئے۔

رضا ربانی نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی بڑی سیاسی جماعت ہے، مجھے صحیح تعداد کا اندازہ نہیں لیکن شاید 5 یا 6 نشتیں زیادہ ہوں، اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پنجاب میں اتحاد بھی کیا ہے۔

اسی دوران رضا ربانی نے کہا کہ اسپیکر اور چیئرمین سینٹ کے الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہوتے ہیں، اسپیکر اور چیرمین سینٹ کے عہدے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوتے ہیں، سیاسی وابستگی سے بالاتر عہدے کے لیے ووٹنگ کا عمل خفیہ رکھا گیا، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سیاسی اتحاد خفیہ نہیں ہوتے، جہاں کسی انفردای شخص سے اتحاد ہو وہاں خفیہ رکھا جاتا ہے، ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی اے کی 6 نشستیں بنتی ہیں اور اسے 2 ملتی ہیں تو تب قانون کا اطلاق کہاں ہوتا ہے۔پھر متناسب نمائندگی کہاں گئی۔

انہوں نے کہا کہ آئین بنانے والوں کی متناسب نمائندگی سے متعلق دانشمندی کہاں گئی۔

عدالتی ریمارکس پر رضا ربانی نے کہا کہ یہ ریاضی کا سوال نہیں اور نہ یہ اے، بی یا پھر سی کی بات ہے، یہ سینیٹ ہے، یہ وفاق کا معاملہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدارتی ریفرنس: الیکشن کمیشن سے انتخابات میں شفافیت سے متعلق تجاویز طلب

ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات سیاسی اتحاد خفیہ بھی ہوتے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیوایم اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہدہ ہوا ہے، پی ٹی آئی کراچی میں جلد مردم شماری کے لیے فنڈز دے گی، بدلے میں ایم کیو ایم سینیٹ کے لیے پی ٹی آئی کو ووٹ دے گی، کیا عدالت اس عمل کو کرپشن قرار دے گی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دییے کہ تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیں گیے، سیاسی اتحاد خفیہ نہیں رکھے جائیں۔

سماعت کے دوران رضا ربانی نے کہا کہ ہم جاگیردارانہ اور بدصورت سرمایہ دارانہ معاشرے میں رہ رہے ہیں، کسی بھی بات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر نہیں دیکھا جاسکتا۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ریاست تو اپنے 20 ریٹرننگ افسران کو تحفظ تک نہیں دے سکی، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دنیا کی تاریخ اختلاف رائے کرنے والوں سے بھری پڑی ہے، اختلاف رائے کرنے والے نتائج کی پرواہ نہیں کرتے، ڈکٹیٹر کے خلاف بھی لوگوں نے کھل کر اختلاف رائے کیا، آئین میں اختلاف رائے پر کوئی نااہلی نہیں ہوتی۔

ان کی بات پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایسا کوئی معاملہ عدالت کے سامنے نہیں ہے، بیلٹ پیپر پولنگ اسٹیشن پر ہی سیل کیے جاتے ہیں، جس پر رضا ربانی نے کہا کہ سیل کیے جانے کے باوجود ڈیپ اسٹیٹ کی ان تک رسائی ہوتی ہے یہ آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، اس بنا پر بھی ووٹ قابلِ شناخت نہیں ہونا چاہیے۔

اس پر رضا ربانی نے کہا کہ آئین میں تو آرٹیکل 10 اے بھی ہے، شفاف ٹرائل ہوتا تو لاپتا افراد کا مسئلہ نہ ہوتا، عدالتوں کی کوشش کے باوجود لاپتا افراد کا مسئلہ جوں کا توں ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ آئین پرعمل نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا یہ آئین شکنی 1973 میں ہی شروع نہیں ہو گئی تھی؟ جس پر رضا ربانی نے کہا کہ کسی مخصوص دور کی بات نہیں کرنا چاہتا۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو 10 نشتیں ملنا تھی تو نہ ملی تو ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوگی، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کم از کم تحقیقات تو ہونی چاہیے کہ ہارس ٹریڈنگ ہوئی یا نہیں ہوئی، آج تک ہارس ٹریڈنگ پر کوئی سزا ملی، نہ نااہلی ہوئی، بادی النظر میں ہارس ٹریڈنگ کے شواہد پر ووٹ دیکھا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: سینیٹ انتخابات ریفرنس: ’الیکشن کمیشن نے پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا‘

اس پر رضا ربانی نے کہا کہ قابل شناخت بیلٹ پیپرز آرٹیکل 226 کی خلاف ورزی ہوں گے، الیکشن کمیشن پر کوئی الزام نہیں لگانا چاہتا، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ’ڈیپ اسٹیٹ‘ کی رسائی بیلٹ پیپر تک ہوتی ہے، قابل شناخت بیلٹ پیپرز ڈیپ اسٹیٹ کی پہنچ میں ہوگا۔

ان کی بات پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا تھیلوں میں بند بیلٹ پیپرز تک رسائی ہوتی ہے، جس کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ ڈیپ اسٹیٹ کی رسائی اب ملک سے باہر بھی ہوگئی ہے، ڈیپ اسٹیٹ اراکین سینیٹ اور اسمبلی کو بلیک میل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اب تو انسان موجود نہ بھی ہو تو اس کی جعلی ویڈیو بن جاتی ہے، جس پر جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیے کہ کسی کی بھی ویڈیو بنانا اتنا آسان کام نہیں ہے، جیت ہمیشہ انصاف کی ہوتی ہے، جس کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ انصاف کے ملنے تک رکن اسمبلی خود کشی کرچکا ہوگا۔

جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ الیکشن لڑنے والے کو مضبوط اعصاب کا مالک ہونا چاہیے۔

سماعت کے دوران رضا ربانی نے بتایا کہ آئین کے تحت مجموعی طور پر بیس الیکشن ہوتے ہیں، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے انتحابات بھی آئین کے تحت ہوتے ہیں، آئین سازوں نے صرف وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کا الیکشن اوپن بیلٹ سے رکھا، جس پر جسٹس اعجاز نے پوچھا کہ مخصوص نشستوں پر الیکشن کیوں خفیہ نہیں ہوتا؟

ساتھ ہی جسٹس عمر نے کہا کہ کیا نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والے نظام کو چلنے دیا جائے گا، جہموریت میں انفردای پسند ناپسند اکثریتی رائے پر حاوی نہیں ہوتیں، اچھی جہموریت کے لیے سیاسی جماعتوں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ جہموری آدمی اور جاگیردارنہ نظام کے مخالف ہیں، جس پر رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ انتحابات اوپن بیلٹ سے کرانے کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔

اس پر جسٹس عمر نے ریمارکس دیے کہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انفرادیت کو مضبوط کرنے والا نظام چلانا چاہیے، جس پر رضا ربانی نے کہا کہ ساری زندگی اسٹیٹس کو کی مخالفت کی، خفیہ رائے شماری کا حق بھی چھینا گیا تو اراکین اسمبلی ڈیپ اسٹیٹ کے ہاتھوں مشکل میں ہوں گے، اونچ نیچ کے بعد عدلیہ میں استحکام آگیا ہے لیکن سیاست میں نہیں آسکا۔

رضا ربانی کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئرلینڈ کی سپریم کورٹ نے کہا ووٹ کاسٹ ہونے کے بعد ریاست کی ملکیت ہے، آئرش عدالت کے مطابق ریاست کاسٹ شدہ ووٹ کی مالک ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آسٹریلیا میں خفیہ ووٹنگ کو مکمل تحفظ حاصل ہے، جرمنی و دیگر یورپی ممالک میں بھی ووٹ کے خفیہ پن کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہے لیکن کچھ ممالک میں تحفظ نہیں۔

اسی دوران عمر عطا بندیال نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون میں انتخابات کے مکمل کوڈ نہیں، جمہوریت لوگوں کو منظم کرتی ہے، جمہوریت اجتماعیت کی بات کرتی ہے لیکن انفرادیت جمہوریت نہیں ہوتی۔

اس پر رضا ربانی نے کہا کہ میں اسٹیٹس کو کا حامی نہیں، سیاسی جماعتوں کا اپنا میکانزم ہے، ڈیپ اسٹیٹ اپنے طور پر کام کرتی ہے، جب ریاست کی بات ہو تو ہر کسی کو اپنے دائرے میں کام کرنا ہوتا ہے، آئین پاکستان ریاست کی ہر چیز کا احاطہ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات صدارتی ریفرنس: عدالت نے تشریح کی تو سب پابند ہوں گے، سپریم کورٹ

انہوں نے کہا کہ متعدد مرتبہ ہمیں مختلف صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے, ہمیں تمام پہلو کا احاطہ کرنا ہے، آئین بنانے والوں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے قانون موجود ہے، اس کے لیے قانون موجود ہے اور صدیوں سے قانون اپنا راستہ بناتا آرہا ہے۔

عدالت میں رضا ربانی کے دلائل پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ آپ جس سسٹم کو جاری رکھنا چاہتے ہیں وہ انفرادی ہیروازم کو فروغ دیتا ہے، جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ پارٹی سسٹم مضبوط ہو، جب تک ہم عرصہ دراز سے جاری طریقہ کار میں تبدیلی نہیں لائیں گے جمہوریت کی مضبوطی خواب رہے گی، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس حوالے سے بھی دلائل دیں۔

بعد ازاں عدالت نے ریمارکس دیے کہ تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیں گے جس کے بعد کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

پس منظر

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 23 دسمبر کو صدر مملکت کی منظوری کے بعد سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا تھا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کی وزیرِ اعظم کی تجویز کی منظوری دی تھی اور ریفرنس پر دستخط کیے تھے۔

عدالت عظمیٰ میں دائر ریفرنس میں صدر مملکت نے وزیر اعظم کی تجویز پر سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی تجویز مانگی ہے۔

ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ آئینی ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرنے کے لیے رائے دی جائے۔

مزید پڑھیں: سینیٹ انتخابات ریفرنس: 'جمہوریت برقرار رہتی تو شاید سیاست میں یوں پیسہ نہ چلتا'

وفاقی حکومت نے ریفرنس میں کہا تھا کہ خفیہ انتخاب سے الیکشن کی شفافیت متاثر ہوتی ہے اس لیے سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے منعقد کرانے کا آئینی و قانونی راستہ نکالا جائے۔

بعد ازاں قومی اسمبلی میں اس حوالے سے ایک بل پیش کیا گیا تھا جہاں شدید شور شرابا کیا گیا اور اپوزیشن نے اس بل کی مخالفت کی، جس کے بعد حکومت نے آرڈیننس جاری کیا۔

صدر مملکت نے 6 فروری کو سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے آرڈیننس پر دستخط کیے اور آرڈیننس جاری کردیا گیا تھا، آرڈیننس کو الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021 نام دیا گیا ہے جبکہ آرڈیننس کو سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے سے مشروط کیا گیا ہے۔

آرڈیننس کے مطابق اوپن ووٹنگ کی صورت میں سیاسی جماعت کا سربراہ یا نمائندہ ووٹ دیکھنے کی درخواست کرسکے گا، اور واضح کیا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ سے سینیٹ انتخابات آئین کی شق 226 کے مطابق رائے ہوئی تو خفیہ ووٹنگ ہوگی۔

علاوہ ازیں آرڈیننس کے مطابق عدالت عظمیٰ نے سینیٹ انتخابات کو الیکشن ایکٹ کے تحت قرار دیا تو اوپن بیلٹ ہوگی اور اس کا اطلاق ملک بھر میں ہوگا۔