حکومتی نظام کی وجہ سے ملک کی بدنامی، مالی نقصان بھی ہوا، براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیشن

اپ ڈیٹ 02 اپريل 2021
حکومت نے جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کو براڈ شیٹ کمیشن کا سربراہ مقرر کیا تھا —فائل/فوٹو: ڈان
حکومت نے جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کو براڈ شیٹ کمیشن کا سربراہ مقرر کیا تھا —فائل/فوٹو: ڈان

برطانوی کمپنی براڈ شیٹ سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے معاہدے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ پر مشتمل ایک رکنی کمیشن نے حکومتی اداروں پر تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی نظام کی وجہ سے ملک کی بدنامی اور مالی نقصان بھی ہوا۔

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد براڈشیٹ کمیشن کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے، جس میں کمیشن نے بیوروکریسی کی جانب سے عدم تعاون کی قلعی کھول دی ہے۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری کے خلاف سوئس اکاؤنٹس کیس دوبارہ کھل سکتا ہے، فواد چوہدری

رپورٹ میں کئی محکموں حتیٰ کہ دوسرے براعظم تک ریکارڈ غائب کرنے کا بھی انکشاف کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ سیاسی کرپٹ لوگوں کی فہرست براڈ شیٹ کو دی گئی جبکہ فہرست کی سیاہی خشک ہونے سے قبل ہی نواز شریف اور ان کے خاندان کو رات کے اندھیرے میں بیرون ملک بھجوا دیا گیا۔

براڈشیٹ تحقیقاتی کمیشن رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیب کے سوا تمام متعلقہ حکومتی اداروں نے کمیشن سے تعاون نہیں کیا، براڈشیٹ کا ریکارڈ تقریباً ہر جگہ بشمول پاکستان لندن مشن سے غائب تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے سربراہ نے طارق فواد اور کاوے موسوی کا بیان ریکارڈ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا، براڈشیٹ سے ایسٹ ریکوری معاہدہ حکومتی اداروں کی بین الاقوامی قانون کو نہ سمجھنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیشن نے کہا کہ حکومتی اداروں کے عدم تعاون پر موہن داس گاندھی کو فخر محسوس ہوا ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیوروکریسی نے ریکارڈ چھپانے اور گم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، ریکارڈ کو کئی محکموں حتیٰ کہ دوسرے براعظم تک غائب کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید براڈشیٹ انکوائری کمیٹی کے سربراہ مقرر

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کاوے موسوی سزا یافتہ شخص ہے اور اس نے بعض شخصیات پر الزامات لگائے ہیں، ان کے الزامات کی تحقیقات کمیشن کے ٹی او آرز میں شامل نہیں لیکن حکومت چاہے تو کاوے موسوی کے الزامات کی تحقیقات کروا سکتی ہے۔

براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیشن نے کہا کہ سوئس کیسز کا 12 ڈپلومیٹک بیگز میں ریکارڈ نیب کے پاس موجود ہے، نیب جائزہ لے کہ ریکارڈ اس کے کام آسکتا ہے یا نہیں۔

براڈشیٹ کمیشن نے رولز آف بزنس میں ترمیم کی سفارش کرتے ہوئے رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ حکومتی نظام کی وجہ سے ملک کی بدنامی اور مالی نقصان بھی ہوا، سیاسی دباؤ عام طور پر حکام سے غلط فیصلے کرانے کا باعث بنتا ہے۔

رپورٹ میں جسٹس (ر) عظمت سعید کا نوٹ بھی شامل ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مارگلہ کے دامن میں رپورٹ لکھتے وقت، گیدڑ بھبکیاں مجھے کام کرنے سے نہیں روک سکتیں۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں براڈشیٹ کمیشن کی رپورٹ جاری کرنے کی منظوری دی گئی تھی، جس کے بعد وفاقی حکومت نے براڈشیٹ کمیشن رپورٹ پبلک کردی ہے۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ براڈ شیٹ کمیشن کی رپورٹ جاری کی گئی اور کابینہ نے 5 لوگوں کے خلاف فوری طور پر کریمنل کارروائی کا حکم دیا ہے، جن میں احمر بلال صوفی اور حسن ثاقب شیخ شامل ہیں، جو اس وقت ایف بی آر میں ہیں، غلام رسول بھی شامل ہیں جو وزارت قانون کے جوائنٹ سیکریٹری تھے، برطانیہ میں سابق ڈپٹی ہائی کمشنر عبدالباسط، شاہد علی بیگ جو اس وقت لندن سفارت خانے میں ڈائریکٹر آڈٹ اینڈ اکاؤئنٹس تھے، طارق فواد ملک جنہوں نے یہ معاہدہ کروایا تھا ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید پڑھیں: براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیشن کو 1990 سے میگا اسکینڈلز کی تحقیقات کا اختیار مل گیا

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ان 5 افراد کو مرکزی ملزمان قرار دیا ہے، اس کے علاوہ کمیشن نے 2011 سے 2017 کے دور کو نیب کا تاریک ترین دور قرار دیا ہے، اس وقت قمر زمان اور دیگر پراسیکیوٹر کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سوئس اکاؤنٹس اور ان کی دستاویزت غائب ہوگئیں اور لوگوں کو پتا بھی نہیں چلا۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کی تجاویز کے مطابق سابق چیئرمین نیب قمر زمان اور نیب کے اس وقت کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا اور آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کی دیگر قیادت اس وقت اس لیے بری ہوئی تھی کہ نیب کے پاس سوئس اکاؤنٹس کا اصلی ریکارڈ نہیں ہے جو ایک جھوٹ بات تھی لیکن جسٹس عظمت سعید شیخ نے اوریجنل ریکارڈ دریافت کیا جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اب سوئس اکاؤنٹس کے حوالے سے اوریجنل ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہے اور اس کی بنیاد پر سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس اکاؤنٹس دوبارہ کھولے جا سکتے ہیں اور اس کے لیے ہمارے قانونی ماہرین جائزہ لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن نے کہا ہے کہ شہادتوں کو ضائع کرنا یا چھپانا مجرمانہ فعل ہے لہٰذا اس کے وقت کے ڈائریکٹر جنرل نیب اور پراسیکیوٹر جنرل اور دیگر لوگوں کے خلاف بھی کریمنل کارروائی کو قابل عمل بنایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس جنوری میں وفاقی کابینہ نے براڈشیٹ معاملے کی تحقیقات اور اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کے تعین کے لیے 5 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے بعد بعد وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'کمیٹی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ایک سابق جج، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، اٹارنی جنرل کے دفتر سے ایک سینئر افسر، ایک سینئر وکیل اور وزیر اعظم کے نامزد کردہ افسر پر مشتمل ہوگی۔

انہوں نے کہا تھا کہ کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) تیار کر لیے گئے ہیں جس کے تحت وہ 45 دن کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرے گی۔۔

بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان نے جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کو براڈشیٹ انکوائری کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا تھا اور کمیشن کو 1990 سے منظر عام پر آنے والے میگا کرپشن کیسز کی تحقیقات کا اختیار دیا گیا تھا۔

ٹی او آرز میں کہا گیا تھا کہ کمیشن مقامی اور بین الاقوامی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات اور اسکینڈل مثلاً پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف سرے محل اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کے ساتھ ساتھ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ان کیسز کی دوبارہ تحقیقات کرے گا جن کا ذکر برطانوی اثاثہ برآمدگی کمپنی براڈ شیٹ نے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیشن کو گہرائی کے ساتھ تحقیقات کا اختیار حاصل

مرکزی شق میں کہا گیا تھا کہ کمیشن حکومت پاکستان کی جانب سے سال 1990 سے کی جانے والی ان قانونی کارروائیوں اور برآمدگی کی کوششوں سے متعلق واقعات اور کیسز کی شناخت کرے گا جو بیرونِ ملک غیر قانونی طور پر منتقل کیے گئے اثاثوں اور رقم کے لیے کی گئی لیکن بعد میں بند کردی گئی، چھوڑ دی گئی یا بغیر کسی ٹھوس وجہ کے واپس لے لی گئیں جس کے نتیجے میں ملک کو بڑا نقصان پہنچا۔

حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ انکوائری کمیشن کو کرپشن کے خطرے اور اعلیٰ سرکاری عہدوں کے حامل افراد کی بدعنوانیوں کی تحقیقات کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے جس کے نتیجے میں اربوں ڈالر پاکستان سے بیرونِ ملک محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے اور پاکستان کے عوام کو ناقابل تلافی مالی نقصان پہنچا۔

تحقیقات کے حوالے سے واضح کیا گیا تھا کہ کمیشن ان معاملات میں کارروائی کرے گا جس میں پاکستان کے عوام غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک بھیجی گئی رقوم کی واپسی اور قانون کے مطابق نتیجہ خیز احتساب کی خواہش رکھتے ہوں۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے براڈ شیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے جسٹس (ر) عظمت سعید کا تقرر مسترد کردیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں