قندھار میں لوگوں کو گھروں سے بے دخل کرنے پر ہزاروں افراد کا طالبان کے خلاف احتجاج

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2021
سابق حکومتی عہدیدار کے مطابق طالبان نے قندھار میں آرمی کالونی کے 3 ہزار خاندانوں کو کالونی چھوڑنے کا کہا ہے۔ - فوٹو:اے ایف پی
سابق حکومتی عہدیدار کے مطابق طالبان نے قندھار میں آرمی کالونی کے 3 ہزار خاندانوں کو کالونی چھوڑنے کا کہا ہے۔ - فوٹو:اے ایف پی
سابق حکومتی عہدیدار کے مطابق طالبان نے قندھار میں آرمی کالونی کے 3 ہزار خاندانوں کو کالونی چھوڑنے کا کہا ہے۔ - فوٹو:اے ایف پی
سابق حکومتی عہدیدار کے مطابق طالبان نے قندھار میں آرمی کالونی کے 3 ہزار خاندانوں کو کالونی چھوڑنے کا کہا ہے۔ - فوٹو:اے ایف پی

ایک سابق حکومتی عہدیدار اور مقامی ٹیلی ویژن فوٹیج کے مطابق افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں ہزاروں افغانوں نے طالبان کے خلاف آرمی کالونی کو خالی کرنے کے احکامات جاری کرنے پر احتجاج کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مظاہرے کے عینی شاہد سابق حکومتی عہدیدار کے مطابق تقریباً 3 ہزار خاندانوں کو کالونی چھوڑنے کا کہنے کے بعد مظاہرین قندھار میں گورنر ہاؤس کے سامنے اکٹھے ہوئے۔

مقامی میڈیا کی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ لوگوں کے ہجوم نے شہر میں سڑک بلاک کردی ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان: خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتی ہیں، مخلوط تعلیم کی اجازت نہیں، طالبان

متاثرہ علاقے پر بنیادی طور پر ریٹائرڈ آرمی جنرلز کے خاندانوں اور افغان سیکیورٹی فورسز کے دیگر ارکان رہائش پذیر ہیں۔

عہدیدار نے بتایا کہ ان خاندانوں میں سے چند تقریباً 30 سالوں سے یہاں مقیم تھے اور انہیں خالی کرنے کے لیے تین روز کا وقت دیا گیا ہے۔

طالبان ترجمان نے فوری طور پر انخلا پر رائے دینے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل کابل پر قبضہ کرکے افغانستان میں اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالنے والے طالبان کے خلاف سامنے آنے والے مظاہرے جھڑپوں کے بعد ختم ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کو کھیلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، چیئرمین بورڈ

تاہم آج ہونے والے مظاہرے سے تشدد کی کوئی تصدیق شدہ اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

طالبان رہنماؤں نے بدسلوکی کے کسی بھی واقعے کی تحقیقات کے عزم کا اظہار کیا ہے لیکن مظاہرین کو احتجاج کرنے سے پہلے اجازت لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ طالبان کا پرامن احتجاج پر ردعمل تیزی سے پرتشدد ہوتا جا رہا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں