راکاپوشی پر پھنسے کوہ پیماؤں کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن تیسرے روز بھی جاری

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2021
مقامی کوہ پیما واجداللہ نگری نے جمہوریہ چیک کے جیکب وِسیک اور پیٹر ماسیک کے ہمراہ 9 ستمبر کو راکاپوشی کی چوٹی سر کی تھی— فوٹو: جمیل نگری
مقامی کوہ پیما واجداللہ نگری نے جمہوریہ چیک کے جیکب وِسیک اور پیٹر ماسیک کے ہمراہ 9 ستمبر کو راکاپوشی کی چوٹی سر کی تھی— فوٹو: جمیل نگری

نگر کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کا کہنا ہے کہ 7 ہزار 788 میٹر بلند چوٹی 'راکاپوشی' کے کیمپ تھری میں پھنسے 3 کوہ پیماؤں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیسرے روز بھی جاری ہے جبکہ کوہ پیماؤں کو خوراک دیگر ضروری ساز و سامان ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچا دیا گیا ہے۔

ڈی سی نگر ذوالقرنین حیدر نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے کوہ پیماؤں کو رسی، کھانا، ادویات اور رابطے کے لیے وائرلیس سیٹ بھیجے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریسکو آپریشن میں ماہر کوہ پیماؤں کی ٹیم بھی شامل ہے اور انتظامیہ کی جانب سے مرحوم علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔

ذوالقرنین حیدر کا کہنا تھا کہ 6 ہزار میٹر کی بلندی پر پہنچنے پر کوہ پیماؤں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کرلیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: 15 سالہ لڑکی نے بھائی، والد کے ہمراہ خسر گنگ چوٹی سر کرلی

مقامی کوہ پیما واجد اللہ نگری نے جمہوریہ چیک کے جیکب وِسیک اور پیٹر ماسیک کے ہمراہ 9 ستمبر کو راکاپوشی کی چوٹی سر کی تھی۔

وہ واپسی پر پھنس گئے تھے اور موسم کی خرابی کے باعث اتوار کو ریسکیو آپریشن روک دیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ امدادی کارروائی کے پہلے مرحلے میں پائلٹس 6 ہزار میٹر سے زائد بلندی تک ہیلی کاپٹرز لے کر گئے تھے لیکن پہاڑ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور تیز ہوا چل رہی تھی، جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹرز واپس گلگت آگئے تھے جہاں ان میں ایندھن بھرا گیا۔

چوٹی پر موسم کی خرابی کے باعث دوسرا مرحلہ بھی کامیاب نہیں ہوا تھا لیکن پھنسے ہوئے کوہ پیما سیٹلائٹ کمیونی کیشن کے ذریعے اپنے اہل خانہ سے رابطے میں ہیں۔

الپائن کلب پاکستان کے سیکریٹری قرار حیدری نے ڈان کو بتایا تھا کہ 'واجد اللہ نگری کی صحت ٹھیک ہے اور وہ ہم سے رابطے میں ہیں تاہم جمہوریہ چیک کا ایک کوہ پیما سرمازدگی کا شکار ہے اور دوسرا بیمار ہے'۔

مزید پڑھیں: کے-2 مہم جوئی کے دوران لاپتا کوہ پیما علی سدپارہ کی موت کی تصدیق

قرار حیدری کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریہ چیک کے دو کوہ پیماؤں نے بغیر اجازت چڑھائی کی جو ان کے لیے مشکلات کا باعث بنی کیونکہ بغیر اجازت چڑھائی کرنے سے ریسکیو آپریشن کے لیے بیوروکریسی کے پروٹوکولز پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔

راکاپوشی دنیا کی 27ویں اور پاکستان کی 12ویں بلند ترین چوٹی ہے۔

واجداللہ نگری، راکاپوشی سر کرنے والے دوسرے پاکستانی کوہ پیما ہیں، 40 سال قبل شیر خان نے پہلی مرتبہ اس چوٹی کو سر کیا تھا۔

اے سی پی کے مطابق راکاپوشی دنیا کا واحد پہاڑ ہے جس کی چوٹی، بیس کیمپ سے عمودی طور پر 5 ہزار میٹر بلند ہے۔

ضرور پڑھیں

رُوداد ایک مقدمے کی

رُوداد ایک مقدمے کی

وہ سب کچھ بیج کر کینیڈا چلے گئے جہاں وہ اپنی نئی بیوی کے ساتھ مل کر ایک ریسٹورنٹ چلاتے ہیں اور کوئی بھی بات نہیں بھولتے۔

تبصرے (0) بند ہیں