ملکی دفاع پر پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے، شاہ محمود قریشی

14 اکتوبر 2021
قومی اسمبلی میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج عقیدت پیش کرنے کی مشترکہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی— فائل فوٹو: ڈان نیوز
قومی اسمبلی میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج عقیدت پیش کرنے کی مشترکہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی— فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ملکی دفاع پر ہر دور میں قومی رہنماؤں نے یکجہتی کو برقرار رکھا اور پاکستان کے دفاع سمیت چند امور پر پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کا تعزیتی سیشن منعقد ہوا جس میں محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز ملک اور معروف کامیڈین عمر شریف کے انتقال پر بھی تعزیت کی گئی۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ناصرف ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ انہوں نے سائنسدانوں کی ایک کھیپ تیار کی جو اس پروگرام کا تحفظ بھی کر سکے اور مستقبل کی ذمے داریاں بھی سنبھال سکے۔

مزید پڑھیں: محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان 85 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوا ہے جہاں اس میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی محنت، لگن اور جستجو کا بہت بڑا کردار ہے وہیں اس پر قومی اتفاق رائے کے لیے پاکستان کی قیادتوں نے مختلف ادوار میں اپنا کردار ادا کیا۔

شاہ محمود نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف سمیت دیگر رہنماؤں نے اس پر قومی یکسوئی اور یکجہتی کو برقرار رکھا اور پاکستان کے دفاع سمیت چند امور ایسے ہیں جس پر پوری قوم متفق ہے اور اس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے۔

انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے، ایک خلا ہے لیکن یہ جہان فانی ہے اور جو بھی آیا ہے اس نے جانا ہے البتہ ڈاکٹر عبدالقدیر ایسی قدریں اور ایسا نام چھوڑ کر گئے ہیں جو ہمیشہ یاد رہے گی۔

اس موقع پر وزیر خارجہ نے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے انتقال پر بھی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک عرصہ پارلیمنٹ میں ساتھ رہے، اکٹھے وقت گزارا اور ایوان کے دونوں طرف بیٹھ کر دیکھا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر عبدالقدیر خان: مغرب کا ناپسندیدہ ترین پاکستانی ہیرو

انہوں نے کہا کہ پرویز ملک آج ہم میں نہیں ہیں، میں ان کے اہلخانہ سے تعزیت کرنا چاہوں گا اور ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا بھی کرنا چاہوں۔

شاہ محمود قریشی نے معروف کامیڈین عمر شریف کے انتقال پر بھی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور دیگر احباب نے ان کے علاج کے لیے ہر ممکن کوشش کی لیکن زندگی نے مہلت نہ دی اور وہ آج ہم میں نہیں ہیں۔

اس سے قبل محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج عقیدت پیش کرنے کی مشترکہ قرارداد پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ایوانِ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے پر ڈاکٹر عبدالقدیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہے، عبدالقدیر خان نے نامساعد حالات میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا اور ان کی وفات قومی نقصان ہے۔

ایوان میں ممتاز سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک اور معروف اداکار عمر شریف کے انتقال پر دعائے مغفرت بھی کی گئی۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا وفات سے قبل ’ایم ڈی کیٹ‘ کو چیلنج کرنے کا ارادہ تھا

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ محمد پرویز ملک اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر بہت دکھ ہوا اور ان کی وفات پر پورا ایوان اظہار تعزیت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان محسنِ پاکستان تھے، ان کی خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں جبکہ پرویز ملک اگرچہ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی تھے مگر وہ انتہائی ملنسار تھے۔

انہوں نے کہا کہ معروف کامیڈین عمر شریف بھی پاکستان کے لیجنڈ تھے اور ان کی خدمات کو بھی ایوان سراہتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں بات کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ان کی قومی خدمات کا اعتراف عملاً کرنے کے بجائے پرویز مشرف کے دور آمریت میں جو بدسلوکی ان کے ساتھ روا رکھی گئی وہ ہماری قومی تاریخ کا سیاہ باب اور افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بدولت پاکستان ناقابل تسخیر بنا، آج ہم ان کو خراج تحسن پیش کررہے ہیں لیکن انہوں نے اپنی زندگی کے آخری سال ایک طرح سے نظر بندی میں گزارے، یہ بطور قوم ہمارے لیے باعث شرم بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) لاہور کے صدر و رکن قومی اسمبلی پرویز ملک انتقال کر گئے

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم اپنی قوم کے لیے کام کرنے والوں کو رسوا کرتے ہیں تو پھر آنے والی نسل میں مایوسی آتی ہے لہٰذا نئی نسل میں جذبہ پیدا کرنے کے لیے ڈاکٹر عبدالقدیر کی قومی خدمات کی ملی خدمات کے اعتراف میں ایسے اقدامات کیے جانے چاہئیں جس سے پتا چلے کہ یقینی طور پاکستان کی ریاست ان کی مقروض اور احسان مند ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے اپنے ساتھی پرویز ملک کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال پاکستان کے ہر اس شخص کا نقصان ہے جو ملک میں ووٹ کی عزت پر یقین رکھتا ہے اور جو اس ملک میں آئین کی حکمرانی اور سول بالادستی پر یقین رکھتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ ہم نے ذوالفقار علی اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان دونوں کو ان کی زندگی وہ اعزاز نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے اور آج ہم بعدازمرگ ان کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں