خواتین میں لانگ کووڈ سے جسمانی کارکردگی متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ

16 نومبر 2021
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

لانگ کووڈ یا کورونا وائرس سے متاثر ہونے اور اسے شکست دینے کے بعد طویل المعیاد بنیادوں پر برقرار رہنے والی علامات کا سامنا متعدد افراد کو ہوتا ہے۔

ایسے مریضوں کو درجنوں علامات بشمول شدید تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے مگر اب ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والی خواتین کی جسمانی کارکردگی بیماری سے پہلے کی طرح بحال نہ ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

امریکا کی انڈیانا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کورونا کو شکست دینے کے بعد طویل المعیاد بنیادوں پر علامات کا سامنا کرنے والی خواتین ممکنہ طور پر ماضی کی طرح ورزش نہیں کرسکیں گی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کچھ خواتین نے کووڈ 19 کو شکست دینے کے بعد دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کو رپورٹ کیا، جس سے بھی جسمانی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والی خواتین میں دل اور پھیپھڑوں کے مسائل کی علامات کا تسلسل سانس لینے میں دشواری یا جوڑوں اور مسلز میں تکلیف کا باعث بنتا ہے۔

محققین کے مطابق مردوں میں کووڈ 19 کی سنگین پیچیدگیوں اور موت کی شرح زیادہ ہے مگر یہ پہلی بار ہے جب ایسے شواہد دریافت ہوئے جن کے مطابق بیماری کے بعد خواتین کو زیادہ جدوجہد کا سامنا ہوتا ہے۔

سابقہ تحقیقی رپورٹس میں بھی بتایا گیا تھا کہ کووڈ کو شکست دینے کے بعد ہر 3 میں سے ایک خاتون کو طویل المعیاد علامات کے علاج کے لیے ڈاکٹروں سے رجوع کرنا پڑا۔

اس نئی تحقیق میں لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والی خواتین کو 6 نٹ تک چہل قدمی کرنے کا کہا گیا اور پھر دیکھا گیا کہ ایسا کرنے کے بعد ان کی دل کی دھڑکن کب تک معمول پر آتی ہے۔

اس ٹیسٹ سے قبل محققین نے تمام رضاکاروں کی آرام کے وقت دھڑکن کی رفتار، بلڈ پریشر، خون میں آکسیجن کی مقدار اور سانس لینے میں دشواری کی جانچ پڑتال کم از کم 10 منٹ تک بیٹھے رہنے کے بعد کی تھی۔

ٹیسٹ کے دوران خواتین کو ہر ممکن تیزرفتاری سے چہل قدمی کی ہدایت کی گئی تھی اور ٹیسٹ کے فوری بعد دھڑکن کی رفتار، خون میں آکسیجن کی مقدار، سانس لینے میں دشواری اور دیگر عناصر کا ایک بار پھر جائزہ لیا گیا۔

پھیپھڑوں کی کسی بڑی بیماری، امراض قلب کی تاریخ یا تمباکو نوشی کرنے والی خواتین کو اس تجربے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے محققین کا ماننا ہے کہ لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والی خواتین کے لیے بحالی نو پروگرام کی ضرورت ہے، جس میں ان کے پھیپھڑوں کی کارکردگی کو دوبارہ بحال کرنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ بالخصوص درمیانی عمر کی مریض خواتین کے لیے یہ بہت ضروری ہے کیونکہ عمر بڑھنے سے خواتین میں پھیپھڑوں کی بے قاعدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عمر بڑھنے سے خواتین میں جسمانی معذوری کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹارگٹڈ بحالی نو کا پروگرام خواتین اور لانگ کووڈ سے متاثر دیگر گروپس کے لیے بہت زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحالی نو کے پروگرام سے ریکوری اور جسمانی حالت میں تنزلی کا خطرہ کم ہوگا۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ایکسپیرمنٹل فزیولوجی میں شائع ہوئے۔

تبصرے (0) بند ہیں