افغان وزیر کے پاکستان میں تعلیم و تحقیق میں اشتراک کیلئے مذاکرات

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2021
افغان وزیرتعلیم کی قیادت میں 8 رکنی وفد نے ایچ ای سی کا دورہ کیا—فوٹو: طاہر خان
افغان وزیرتعلیم کی قیادت میں 8 رکنی وفد نے ایچ ای سی کا دورہ کیا—فوٹو: طاہر خان

افغانستان کے عبوری وزیربرائے اعلیٰ تعلیم عبدالباقی حقانی نے پاکستان میں تعلیم اور تحقیق کے میدان میں دونوں ممالک کے ممکنہ اشتراک کے حوالے سے مذاکرات شروع کردیے۔

افغان وزیرتعلیم عبدالباقی حقانی کی سربراہی میں ایک وفد گزشتہ روز پاکستان پہنچا تھا جبکہ افغانستان میں لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے مطالبہ کیا جارہا ہے جہاں طالبان کی حکومت نے صرف چھٹی جماعت تک بچیوں کے اسکول کھولنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

مزید پڑھیں: افغان وزیر خارجہ نے پاکستان اور ٹی ٹی پی کے جنگ بندی معاہدے کو خوش آئند قرار دے دیا

اعلامیے کے مطابق افغانستان کے وزیربرائے اعلیٰ تعلیم کے ہمراہ 8 رکنی وفد نے اسلام آباد میں ہائیرایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا دورہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ عبدالباقی حقانی کی سربراہی میں وفد میں نائب وزیربرائے تعلیم اور کابل یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر اسامہ عزیز بھی شامل ہیں۔

ایچ ای سی کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر شائسہ سہیل نے وفد کا استقبال کیا اور انہیں ایچ ای سی کے بنیادی اقدامات مختلف پروگراموں سے آگاہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ افغان وفد نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹریننگ کمیشن کا بھی دورہ کیا جہاں کمیشن کے چیئرمین جاوید حسین نے ان کا خیرمقدم کیا اور وفد کو اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

عبدالباقی حقانی کی سربراہی میں وفد نے نیشنل کریکولم کونسل کا بھی دورہ کیا اور یہاں ان کو سنگل کریکولم اور دیگر پروگراموں پر بریفنگ دی گئی۔

بعد ازاں وفد نے مذہبی تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ جنرل میں ڈائریکٹر میجر جنرل (ر) غلام قمر اور رحمت اللعالمین اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز اکرم سے ملاقات کی اور انہیں مذکورہ اداروں کے مقاصد سے آگاہ کیا گیا۔

ڈان ڈاٹ کام کو افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے مثبت انداز میں جاری ہیں۔

منصور احمد خان نے کہا کہ افغان وزیر تعلیم کی سربراہی میں وفد دونوں ممالک کی اعلیٰ تعلیم اور جامعات کے شعبوں میں مزید تعاون راستے تلاش کرنےکی کوششیں کرے گا۔

خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد افغان وزیر تعلیم کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ افغانستان کے وزیرخارجہ امیر خان متقی اور وزیرصحت ڈاکٹر قلندر عباد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جو طالبان کے کسی وزیر کا پہلا غیرملکی دورہ تھا۔

مزید پڑھیں: افغان وزیر خارجہ 3 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

امیر خان متقی نے اسلام آباد میں آئی ایس ایس آئی میں سیمینار سے خطاب میں پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات کے لیے سہولت کاری کی بھی تصدیق کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ امید ہے آنے والے دنوں میں مذاکرات مزید آگے بڑھیں گے، توقع کرتے ہیں عارضی جنگ بندی مستقل امن معاہدے میں تبدیل ہو۔

افغان وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ اس وقت افغان سرزمین میں پاکستان مخالف عناصر موجود نہیں اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں