23 مارچ کو اسلام آباد میں لاکھوں لوگوں کا مہنگائی مارچ ہوگا، پی ڈی ایم

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2021
حافظ حمداللہ نے پی ڈی ایم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کی—فائل/فوٹو: ڈان نیوز
حافظ حمداللہ نے پی ڈی ایم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کی—فائل/فوٹو: ڈان نیوز

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی طرف مارچ سے قبل عوام کو متحرک کرنے کے لیے چاروں صوبوں میں کنونشنز اور جلسے ہوں گے اور حکومتی ترجمانوں کے بیانات کے باوجود 23 مارچ کو مہنگائی مارچ ہوگا۔

اسلام آباد میں پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حمداللہ نے کہا کہ یہ فیصلہ ہے کہ 23 مارچ کو اسلام آباد پہنچنا ہے، ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ حکومت کے جھوٹے ترجمانوں کا درجنوں کا ٹولہ کہتا ہے کہ 23 مارچ ایک قومی دن ہے اور پریڈ ہوگا۔

مزید پڑھیں: پی ڈی ایم کا آئندہ سال 23مارچ کو مہنگائی مارچ کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ تو قومی دن ہے تو کیا ہم پاکستانی قوم سے ایک علیحدہ مخلوق ہیں، ہم اسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں، اسی قومی دن کو جس کو یوم جمہوریہ کا نام دے سکتے ہیں، جمہوریت کے لیے لاکھوں لوگ آئیں گے کہ اس ملک میں نہ آئین ہے اور نہ اس ملک میں جمہوریت ہے اور نہ ہی سیاست ہے۔

انہوں نے کہا کہ 23 مارچ کا دن اسی لیے رکھا گیا کہ ہم حقیقی جمہوریت اور آئین کی عملداری چاہتے ہیں، پارلیمنٹ کو سپریم دیکھنا چاہتے ہیں، یہ 23 مارچ کی قرارداد مقاصد کی روح ہے اور اس کے مطابق موجودہ حکومت اور سیاست اس سےہٹ چکی ہے۔

حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ یہاں پہنچنے کے بعد فیصلہ ہوگا کہ ہم کتنے دن رہیں گے اور کب واپس جائیں گے۔

قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ میں مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف سے کہنا چاہتا ہوں کہ 23 مارچ افواجِ پاکستان کا عالمی سطح پر منایا جانے والا دن ہے جس میں ساری قوم شریک ہوتی ہے اور اس سے ایک کروڑ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے جذبات بھی وابستہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ 15 روز پہلے کرلیں یا 7 روز بعد کرلیں کیوں کہ یومِ پاکستان کی پریڈ کے لیے تمام سامان حرب بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد پہنچتا ہے اور زیادہ تر کور ہیڈ کوارٹرز بھی جی ٹی روڈ پر ہیں، اس دوران اسلام آباد کے بعض راستے بند کردیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ پھر اپوزیشن یہ اعتراض نہ کرے کہ ہمارے راستے بند کردیے گئے، میں 3 ماہ بعد اس پر بات کروں گا تا کہ اس کا حل نکالا جائے لیکن اپوزیشن کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہوں کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔

پی ڈی ایم کے ترجمان حافظ حمداللہ سے میڈیا کی جانب سے سوال کیا گیا کہ اسلام آباد میں 23 مارچ کے حوالے سے سیکیورٹی کے سخت اقدامات ہوتے ہیں اور لاکھوں میں لوگ آئیں تو مسئلہ نہیں ہوگا، جس پر انہوں نے کہا کہ یہ ہمیں پتہ ہے لیکن اس کے ذمہ دار ہم نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں: ملک اس وقت داخلی اور خارجی سنگین خطرات سے دوچار ہے، پی ڈی ایم

انہوں نے کہا کہ اسد عمر نے کہا پی ڈی ایم لانگ مارچ کی صورت آئے گی تو ان کو کٹھ پڑے گی تو یہ میدان بھی حاضر ہے اور یہ گھوڑا بھی حاضر ہے، ہم آئیں گے اسد عمر ہمیں روک کر دکھائیں پھر مقابلہ ہوگا۔

اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے حافظ حمداللہ نے کہا کہ گزشتہ روز سربراہی اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ آج اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا اور 23 مارچ کو مہنگائی مارچ کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس کا طریقہ کار اور حکمت عملی وضع کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں قیادت کے لیے سفارشات اور تجاویز مرتب کی جائیں گی جب ہم نے مہنگائی مارچ کو 23 مارچ کے لیے کیسے کامیاب اور مؤثربنانے کے لیے حکمت عملی بنائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں سے قافلے کب روانہ ہوں گے، یہاں کب پہنچنا ہوگا اور لانگ مارچ یا مہنگائی مارچ اسلام آباد پہنچنے میں ابھی ہمارے پاس تین سے ساٹھے تین مہینے ہیں، اس دوران عوام کو فعال کریں تاکہ لاکھوں لوگ اسلام آباد میں مہنگائی مارچ میں شریک ہوں اور آج کا اجلاس بنیادی طور پر اسی ایجنڈے کے تحت ہوا۔

پی ڈی ایم کے ترجمان نے کہا کہ بنیادی طور پر چاروں صوبوں میں کنونشنز ہوں گے، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور لاہور میں ہوں گے تاہم اس کی تاریخیں فی الحال طے نہیں کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کل کے فیصلے کے مطابق شہباز شریف لاہور میں پنجاب میں پی ڈی ایم کا اجلاس طلب کریں گے اور وہاں ہمیں تاریخیں بتائیں گے، پھر اسی کے مطابق اگر وہاں جلسے ہوں گے یا کنونشز ہوں گے، اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں بھی لانگ مارچ سے پہلے کنونشن ہوگا، شاہ اویس نورانی 8 جماعتوں کی صوبائی قیادت کا اجلاس بلائیں گے اور طے کریں گے کہ صوبائی سطح پر کنونشن کب ہوگا ہمیں بتائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سطح پر کوئٹہ میں پی ڈی ایم کی 8 جماعتوں کے کارکنوں کو فعال کرنے کے لیے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی بتائیں گے کہ کنونشن کب ہوگا۔

حافظ حمداللہ نے کہا کہ اسی طرح پشاور میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ذمہ داری لی ہے اور وہ حکمت عملی اور تاریخ کا تعین کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم کا لانگ مارچ ہو یا شارٹ مارچ گھبرانے والے نہیں ہیں، شاہ محمود قریشی

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں مرکزی کنونشن کی ذمہ داری بھی مولانا فضل الرحمٰن نے لی ہے، وہ وکلا، بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے بات کریں گے اور اسی کے مطابق پھر بھرپور کنونشن ہوگا جہاں مزدور، کسان، میڈیا، کاروباری برادری، ڈاکٹر اور وکلا، طلبہ، خواتین اور ٹرانسپورٹ سے منسلک افراد سمیت تمام طبقات شامل ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حکمت عملی اس لیے کہ ہم عوام کو شعور دیں کہ ملک میں ایسی حکومت مسلط ہے جو خطرناک بیماری سے کم نہیں ہے، جس کے وجہ سے 22 کروڑ عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے اور معیشت تباہ ہوگئی ہے، خارجہ پالیسی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان بھی نظر آرہا ہے اور نہ ہی پرانا پاکستان نظر آرہا اور نہ قائد اعظم کا پاکستان ہے، لوگ جھولی اٹھا کر بددعائیں دے رہے ہیں اس حکومت کا خاتمہ جلد از جلد ہو۔

حافظ حمداللہ نے کہا کہ پی ڈی ایم اس کا حل ایک صورت میں سمجھتی ہے کہ موجودہ مسلط کردہ سلیکٹڈ حکومت کا خاتمہ ہے کیونکہ یہ قوم اور غریبوں کی آواز بن چکی ہے، لہٰذا ڈنڈے کے زور پر مسلط حکومت کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں شفاف اور غیر جانب دارانہ انتخابات چاہتے ہیں اور جلد از جلد چاہتے ہیں، جس میں کسی قسم کی غیرجمہوری اور غیر سیاسی اشرافیہ کی مداخلت نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور اسٹبلشمنٹ اپنے دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں تو یہ ملک آباد بھی ہوگا اور خوش حال اور مستحکم ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں