کاروبار، انسانی حقوق کیلئے حکومت کا نیشنل ایکشن پلان

اپ ڈیٹ 17 دسمبر 2021
عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ یورپی یونین نے اپنی مارکیٹوں تک ڈیوٹی فری رسائی فراہم کی ہے — فوٹو:کرسچن ٹرنر ٹوئٹر
عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ یورپی یونین نے اپنی مارکیٹوں تک ڈیوٹی فری رسائی فراہم کی ہے — فوٹو:کرسچن ٹرنر ٹوئٹر

وزارت انسانی حقوق نے کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق پہلے نیشنل ایکشن پلان کا اجرا کردیا جو تاجر برادری اور ملازمین کے درمیان تعلق کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے تعاون سے منصوبے کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام کام کے حالات میں احترام و تحفظ اور انسانی حقوق کی تکمیل کی خواہشات پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نے اپنی مارکیٹوں تک ڈیوٹی فری رسائی فراہم کی ہے اور اس کے متبادل کے طور پر پاکستان نے اچھے کاروباری اقدار نافذ العمل کرنے تھے، تاہم ایس ایم ایز پر اب بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں: 'سخت ایکشن لینے کا وقت آگیا، حکومت کی توجہ قوانین کے نفاذ پر ہے'

وزارت انسانی حقوق کے اقدامات کو سراہتے ہوئے عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کی تیاری اور اس کے نفاذ سے ملک میں زندگی کا معیار بہتر ہوگا اس کے ذریعے تجارتی برادری کے اسٹیک ہولڈرز اور ملازمین کے درمیان اچھا تعلق قائم ہوگا۔

انہوں نے کاروباری اداروں کے ذمہ دارانہ طرز عمل کو فروغ دینے کے لیے ایکشن آئٹمز کا خیر مقدم کیا اور اسے جی ایس پی پلس درجے کے تحت پاکستان کے وعدوں کی تکمیل میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

پروگرام کی افتتاحی تقریب میں یو این ڈی پی کی ڈپٹی ریزیڈنٹ نمائندہ الیونا نیکولیتا سمیت مختلف ممالک کے سفرا نے بھی شرکت کی۔

اس موقع وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ حکومت نے انسانی حقوق کو اولین ترجیح کے طور رکھا اور پاکستان جنوبی ایشیا کا پہلا ملک جہاں انسانی حقوق کو نیشنل ایکشن پلان کے طور پر شروع کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: انسانی حقوق کے لیے قائم قومی کمیشن سال بھر سے فعال نہ ہوسکا

انہوں نے کہا کہ بین الوزرا کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں تمام تاجر برادری، چیمبر آف کامرس اور لیبر یونینز کو اعتماد میں لیتے ہوئے مقررہ وقت میں منصوبے کو نافذ کرنے کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ملازمت کے مقام پر خواتین اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے فکر مند ہے اور کام کے دوران ہراساں کرنے کے عمل کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں