14سالہ لڑکی کے ریپ کا مقدمہ، لیگ اسپنر یاسر شاہ پر سہولت کاری، دھمکانے کا الزام

اپ ڈیٹ 20 دسمبر 2021
کرکٹر یاسر شاہ پر ریپ کے مقدمے میں دوست کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
کرکٹر یاسر شاہ پر ریپ کے مقدمے میں دوست کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

قومی کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار لیگ اسپنر یاسر شاہ کے دوست کے خلاف مبینہ طور پر 14 سالہ لڑکی کے ریپ کا مقدمہ درج کردیا گیا جبکہ قومی کرکٹر پر دوست کی معاونت اور لڑکی کودھمکانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اسلام آباد کے تھانہ شالیمار میں یاسرشاہ کے دوست فرحان کو 14سالہ لڑکی کے مبینہ ریپ کے مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے جہاں ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ فرحان نے میٹرک کی طالبہ کا ریپ کیا اور یاسر شاہ نے اس سلسلے میں ان کی بھرپور معاونت اور مدد کی۔

مزید پڑھیں: بابراعظم کے خلاف مبینہ ہراسانی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم

متاثرہ لڑکی کی خاتون رشتے دار کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کی 14سالہ بھانجی سے یاسر شاہ کےدوست فرحان نے اس کا فون نمبر لیا اور کچھ دن بعد دوستی کا دعویٰ کرنے لگا۔

ان کا کہنا تھا کہ فرحان ان کی بھانجی کی یاسر شاہ سے بھی واٹس ایپ پر بات کرواتا تھا اور دونوں نے مجھے بہلا پھسلا کر شیشے میں اتارا۔

انہوں نے کہا کہ 14 اگست کو جب ان کی بھانجی ٹیوشن جارہی تھی تو فرحان نے اسے ٹیکسی میں بٹھایا اور ایف الیون میں واقع فلیٹ پر لے جا کر دست درازی کی کوشش کی۔

ایف آئی آر کے مطابق جب متاثرہ لڑکی نے مزاحمت کی تو فرحان نے گن پوائنٹ پر اس سے جنسی زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ دھمکی بھی دی کہ اگر اس واقعے کا کسی سے ذکرکیا تو وہ ویڈیو وائرل کر کے جان سے مار دے گا۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ مشتبہ ملزم فرحان نے کرکٹر یاسر شاہ سے بھی دھمکی دلوائی اور یاسرشاہ نے کہا تھا کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹرہے لہٰذا شکایت کی صورت میں کسی بھی مقدمے میں پھنسا دے گا۔

شکایت گزار کے مطابق فرحان نے ان کی بھانجی کو بلیک میل کر کے ایک مرتبہ پھر فلیٹ پر لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ اس دوران فرحان اپنے دوست یاسر شاہ سے بھی فون پر بات کرواتا اور ان سے بھی تعلقات استوار کرنے پر مجبور کرتا۔

لڑکی کی رشتے دار نے کہا کہ جب مجھے اس معاملے کا علم ہوا تو میں نے 11 ستمبر کو واٹس ایپ پر یاسر شاہ سے رابطہ کیا، اس وقت وہ ویسٹ انڈیز میں تھے لیکن یہ بات سننے کے بعد انہوں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ’مجھے کمسن لڑکیاں پسند ہیں اور میں اس کی فرحان سے شادی کرا دیتا ہوں تو ہم دونوں کا کام چلتا رہے گا‘۔

درخواست گزار کے مطابق یاسر شاہ نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ وہ بہت بااثر ہے اور اعلیٰ افسران سے دوستی بھی ہے، وہ مجھے کسی مقدمتے میں پھنسا دے گا یا گھر میں گھس کر جان سے مار دے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: جوڑے کو ہراساں کرنے کے کیس میں ایک ملزم کی ضمانت منظور

ان کا کہنا تھا کہ جب میں نے پولیس درخواست دینے کا کہا تو یاسر شاہ نے کہا کہ جو ہونا تھا وہ ہوگیا، میں لڑکی کے نام فلیٹ کرادوں گا اور 18 سال تک اخراجات بھی برداشت کروں گا، فرحان سے نکاح کرلو۔

ایف آئی آر کے مطابق چند دن قبل یاسر شاہ نے فرحان سے مل کر معاملات طے کرنے کو کہا اور ایک جاننے والے صحافی کے سامنے دھمکیاں بھی دیں کہ اگر کسی کو بتایا تو یاسر شاہ کا پیغام ہے کہ جان سے جاؤ گی۔

ان کا کہنا تھا کہ فرحان نے مجھے 22دسمبر کو یاسر شاہ سے اسلام آباد میں ملنے کا کہا ، مجھے کہا کہ ’میں اپنی بھانجی کو لے کر فلیٹ پر آؤں ، وہ مجھے خوش کرے گی تو میں معاملات طے کروں گا‘۔

درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ یاسر شاہ اور فرحان ملی بھگت سے اپنے شیشہ سینٹر پر نوعمر اور معصوم بچیوں کو پھنساتے ہیں ، جنسی زیادتی کر کے ویڈیو بناتے ہیں اور ملیک میل کر کے مزید لڑکیاں پھنسانے کا گندا کام کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بابر اعظم پر سنگین الزامات عائد کرنے والی خاتون پر قاتلانہ حملہ

انہوں نے کہا کہ انہیں، ان کی بھانجی اور گھر والوں کی جان کو دونوں ملزمان سے خطرہ لاحق ہے لہٰذا دونوں کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کر کے فوری کارروائی کی جائے۔

تھانہ شالیمار پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 292۔بی، 292۔سی اور 376 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

پی سی بی کا تبصرے سے گریز

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ حقائق اکٹھے ہونے تک تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ہمارے علم میں آیا ہے کہ ہمارے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کرکٹر پر چند الزامات عائد کیے گئے ہیں اور بورڈ فی الحال اس حوالے سے معلومات اکٹھی کررہا ہے۔

پی سی بی نے کہا کہ جب تک اس سلسلے مین مکمل حقائق سامنے نہیں آ جاتے، ، اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔

تبصرے (0) بند ہیں