اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیوی سیلنگ کلب گرانے کا حکم دے دیا

اپ ڈیٹ 07 جنوری 2022
—فائل فوٹو: ڈان
—فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد ہائی کورٹ نے راول جھیل کے کنارے قائم نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دے کر اسے 3 ہفتوں میں گرانے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے شہری زینت سلیم کی درخواست پر اپنا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سابق نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی اور دیگر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

عدالت نے گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیوی کا اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی بھی تعمیراتی منصوے میں شامل ہو، عدالت کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو بھی اختیار نہیں تھا کہ وہ نیول فارمز کو این او سی جاری کرتی۔

عدالت نے کہا کہ فوج کا منصب اہم ہے اور اس کا مینڈیٹ آئین میں بتایا گیا ہے، تعمیرات کے کاروبار کے لیے ادارے کا نام استعمال نہیں کیا جاسکتا، نیوی نے نیشنل پارک پر تجاوزات قائم کیں، سیلنگ کلب غیر قانونی ہے اسے 3 ہفتوں کے اندر منہدم کیا جائے۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد ہائیکورٹ کا راول ڈیم کے کنارے پاکستان نیوی سیلنگ کلب سیل کرنے کا حکم

عدالت نے کہا کہ سابق نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے غیر قانونی عمارت کا افتتاح کر کے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی اور اپنی آئینی ذمہ داریوں سے تجاوز کیا۔

عدالت نے غیر قانونی عمارت میں ملوث افراد کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی کا حکم بھی دیا۔

گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں عدالت نے نیوی سیلنگ کلب کے لیے این او سی جاری کرنے پر سی ڈی اے کے رکن سے استفسار کیا کہ اگر قانون میں کسی کو اجازت نہ ہو تو کیا آپ اس کو بھی این او سی جاری کردیتے ہیں؟

عدالت نے کہا کہ مثال کے طور پر ہائی کورٹ کاروبار نہیں کرسکتی، اگر ہم بھی درخواست دیں تو کیا این او سی جاری کردیں گے؟

عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ آئین کے تابع نہیں ہیں؟ ایسی درخواست آنے پر آپ کا پہلا اعتراض ہی یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم ایسی درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کرسکتے۔

عدالت نے دریافت کیا کہ کیا 1993ء میں زون فور میں تعمیرات ہوسکتی تھیں؟ اس پر سی ڈی اے کے ممبر اسٹیٹ نے جواب دیا کہ اُس وقت وہاں فارم ہاؤسز کی اجازت تھی۔

سی ڈی اے کے ممبر پلاننگ نے کہا کہ نیوی سیلنگ کلب تاحال سربمہر ہے، انہوں نے مزید کہا کہ بلڈنگ بائی لاز 2020ء کے تحت غیر قانونی عمارت کو منہدم بھی کیا جاسکتا ہے۔

نیوی سیلنگ کلب کے معاملے کا پس منظر

خیال رہے کہ جولائی 2020ء میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو اس کی غیرقانونی اور غیرمجاز تعمیر کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔

سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کلب کی عمارت کی غیرقانونی اور غیرمجاز تعمیر کو فوری طور پر روکے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ 'اتھارٹی کے نوٹس میں ایک مرتبہ پھر یہ آیا کہ غیرقانونی تعمیراتی سرگرمیاں پھر بحال کردی گئی ہیں اور کلب کو فعال کردیا گیا ہے، یہ سی ڈی اے (بائی لاز) کی صریح خلاف ورزی ہے جسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے'۔

ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا تھا کہ 'آپ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ غیرقانونی/غیرمجاز تعمیراتی کام اور پاکستان نیوی سیلنگ کلب کی فعال سرگرمیوں کو فوری طور پر روکیں'۔

مزید پڑھیے: نیوی کلب کیس: آئی بی اور ایف آئی اے بھی ہاؤسنگ سوسائٹیز کا کام کر رہی ہیں، عدالت

بعد ازاں راول جھیل کے کنارے تعمیرات کے معاملے میں پاکستان نیول فارمز سے متعلق شکایت کنندہ زینت سلیم کی عدالت عالیہ میں دائر کردہ درخواست پر معاملہ مزید ابھرا تھا اور پھر 16 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے 'غیرقانونی تعمیرات' کے خلاف درخواست پر اس وقت کے چیف آف نیول اسٹاف، اٹارنی جنرل برائے پاکستان اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو نوٹسز جاری کیے تھے۔

جس کے بعد 23 جولائی کی سماعت میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے راول ڈیم کے کنارے غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کیس میں پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو سیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کردی تھی۔

عدالتی حکم کے بعد 30 جولائی کو ہونے والی کیس کی سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیول حکام کی جانب سے نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر پر جواب نہ جمع کروانے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

علاوہ ازیں 6 اگست کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی جس میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین عامر علی احمد، سیکریٹری کابینہ ڈویژن احمد نواز سکھیرا اور اس وقت کے چیف آف نیول اسٹاف ظفر محمود عباسی کے خلاف نیوی سیلنگ کلب سیل کرنے کے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

بعد ازاں 7 اگست کو مرکزی درخواست پر سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیوی سیلنگ کلب کی نئی رکنیت کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے نیول حکام کو 19 اگست تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

19 اگست کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ یہاں پر قانون کی کوئی حکمرانی نہیں ہے، ہر روز ایک نئی درخواست آتی ہے کہ قانون پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔

جس کے بعد اس وقت کے چیف آف نیول اسٹاف نے ’پرتعیش کلب‘ کی تعمیر سے متعلق عدالت میں اپنا جواب جمع کروایا تھا جس میں انہوں نے اس کلب کی تعمیر کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا تھا کہ یہ کھیلوں کی سہولت گاہ ہے جسے ماحولیاتی ماہرین سے منظوری لینے کے بعد وفاقی حکومت کی ہدایت پر قائم کیا گیا۔

چیف آف نیول اسٹاف ظفر محمود عباسی نے وکیل اشتر اوصاف علی اور راجا اظہار الحسن کے توسط سے جمع کروائی گئی تحریری رپورٹ میں کہا تھا کہ ’نیشنل واٹر اسپورٹس سینٹر (این ڈبلیو ایس سی) ’روایتی لحاظ سے کلب ہے اور نہ ہی کمرشل ادارہ ہے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’چیف آف نیول اسٹاف نے سابق افسر کو پاکستان میں پانی کے کھیلوں کی تمام سرگرمیوں بشمول بادبانی، کشتی رانی، واٹر اسکینگ اور پیڈل سے چلنے والی کشتیوں کا پیٹرن ان چیف مقرر کیا تھا'۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں