بھارتی سوشل میڈیا پر ہندوتوا کی مقبولیت کا ’دھوکا‘

19 جنوری 2022
لکھاری صحافی ہیں
لکھاری صحافی ہیں

عرب بہار کی مقبولیت میں تیزی سے ہونے والے (اگرچہ مختصر مدت کے لیے) اضافے کے پیچھے بنیادی وجہ سوشل میڈیا تھی۔

اس حوالے سے واشنگٹن یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی تحقیق میں کہا گیا کہ ’۔۔۔سوشل میڈیا نے پورے شمالی افریقہ اور مشرق وسطی میں آزادی اور جمہوریت کے بارے میں بڑے پیمانے پر پیغامات پہنچائے اور سیاسی جدوجہد کی کامیابی کے حوالے سے لوگوں کی امیدوں میں اضافہ کیا۔ جمہوریت پر یقین رکھنے والے لوگوں نے اپنے وسیع سوشل نیٹ ورک بنائے اور سیاسی سرگرمیوں کو منظم کیا۔ اس آزادی کے حصول کے لیے سوشل میڈیا ان کا ایک اہم آلہ تھا‘۔

اس وقت کے بعد سے اب تک بہت کچھ بدل چکا ہے۔ آج دنیا میں تقریباً 3 ارب 80 کروڑ افراد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر کے لیے یہ معلومات اور خبروں کا بنیادی ذریعہ ہے۔

ہم جو کچھ سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں اسی سے ہم اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ اکثر افراد دوسروں کی رائے کو دیکھ کر اپنی رائے قائم کرتے ہیں، یوں جب ہم کئی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کسی خاص پیغام، نظریے یا خیال کا پرچار دیکھتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہی مقبول رائے ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس رجحان کو آپ کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیے: ہندوتوا کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

ظاہر ہے کہ آلات کے ساتھ یہی مشکل ہے کہ ایک مرتبہ دریافت کرلیا جائے تو انہیں کوئی بھی استعمال کرسکتا ہے۔ عرب بہار کے بعد ریاستی عناصر نے بھی اس آلے کو اپنا لیا اور اپنی سوشل میڈیا فوجیں اور ٹرول فارمز قائم کیے تاکہ مخالف خیالات کو دبایا جائے اور اختلافِ رائے کو ختم کیا جائے۔

یہ رجحان کسی بھی صورت عرب دنیا تک محدود نہیں ہے کیونکہ دنیا بھر میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر سوشل میڈیا کو اپنے بیانیے کے فروغ اور مخالف نظریات کو محدود رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جنگ کے میدان میں مخالف کو غیریقینی صورتحال سے دوچار کرنا اپنے آپ میں ایک جیت ہوتی ہے۔

آلات وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل اور مزید مؤثر بھی ہوتے جاتے ہیں۔ ان آلات یا یوں کہیے کہ ہتھیاروں کے ذخیرے میں تازہ اضافہ بھارت نے کیا ہے جہاں ’ٹیک فوگ‘ نامی ایک ’خفیہ‘ ایپلیکیشن سامنے آئی ہے۔ یہ ایپلیکیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بدنامِ زمانہ آئی ٹی سیل نے تیار کی ہے۔ اس اندرونی ایپلیکیشن کا سراغ بھارتی ویب سائٹ دی وائر نے اپنی تحقیق میں لگایا ہے۔

اس تحقیق کا آغاز ایک شخص کی جانب سے کی گئی ٹوئٹس سے ہوا تھا۔ اس شخص کا دعویٰ تھا کہ وہ بی جے پی کے آئی ٹی سیل کا رکن ہے۔ وہ اس بات پر ناراض تھا کہ اس سے جس نوکری کا وعدہ کیا تھا وہ اسے نہیں دی گئی۔ اپنی ٹوئٹس میں اس نے ٹیک فوگ اور اس کے علاوہ ایک اور جدید ایپلیکیشن کا ذکر کیا اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہ ایپلیکیشنز بی جے پی کا آئی ٹی سیل استعمال کرتا تھا۔

یوں دی وائر کی جانب سے 2 سال طویل تحقیقات کا آغاز ہوا جنہیں اب سلسلہ وار شائع کیا جارہا ہے۔ اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس ایپلیکیشن کو خفیہ طریقے سے ہندوتوا کے نفرت انگیز نظریات کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس ایپلیکیشن کے ذریعے ٹوئٹر اور فیس بک کے ٹرینڈ سیکشن کو ہیک کیا گیا اور ایپلیکیشن استعمال کرنے والے سوشل میڈیا صارفین پوسٹ اور ٹوئٹس کو خود بخود ری ٹوئیٹ اور پوسٹ کرتے رہے۔ یوں دائیں بازو کے بیانیے کا طوفان آگیا جو دیگر تمام بیانیوں کو بہا کر لے گیا۔ اس طرح سے دائیں بازو کے بیانیے کی مقبولیت کا سراب بھی قائم ہوا۔

مزید پڑھیے: ہندو راشٹریہ کے نمائندے مودی بھارت کو یہ نقصان کیوں پہنچا رہے ہیں؟

اس ایپلیکیشن کو بی جے پی قیادت کی طرف سے منظور شدہ اہداف کو مسلسل ہراساں کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا، اور اس مقصد کے لیے نجی شہریوں کا ایک ’وسیع اور پھرپور‘ ڈیٹا بیس بنایا گیا تھا۔

اس ڈیٹا بیس میں شہریوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا۔ ان زمروں میں ’ان کا پیشہ، مذہب، زبان، عمر، جنس، سیاسی وابستگی اور یہاں تک کہ جسمانی خد و خال بھی شامل تھے‘۔

ان میں سے آخری زمروں کو رعنا ایوب جیسی خاتون صحافیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا جو مودی حکومت کی ناقد ہیں اور 2002ء کے گجرات فسادات پر ایک کتاب بھی لکھ چکی ہیں۔ انہیں ویسے بھی مودی حکومت کی جانب سے ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔

رعنا ایوب کے خلاف یکم جنوری 2021ء سے 31 مئی 2021ء تک 22 ہزار 505 نامناسب ٹوئیٹس کی گئیں۔ اس کے علاوہ برکھا دت، ندھی رازدان اور روہنی سنگھ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ہراسانی کے لیے بنائی جانے والی اس ایپلیکیشن میں آسانی کے لیے ’خواتین صارفین کے لیے خودکار جواب‘ کی سہولت بھی دی گئی جس کے تحت جنس کی بنیاد پر بدسلوکی اور عصمت دری کی دھمکیاں خود بخود تیار ہوجاتیں اور زیادہ سے زیادہ اکاؤنٹس سے اس قسم کی زیادہ سے زیادہ ٹوئیٹس کی جاتیں۔ یوں یہ دھوکا دیا جاتا جیسے یہ ایک بے ساختہ اور رضاکارانہ ردِعمل ہے۔

مزید پڑھیے: بھارت میں جعلی ایپ پر مسلمان خواتین کی فروخت

یہ ایپلیکیشن صارفین کو غیر فعال واٹس ایپ اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے، مؤثر طریقے سے ان کو ہائی جیک کرنے اور پھر ان کو نفرت انگیز پیغامات اور پروپیگنڈا بھیجنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ واٹس ایپ کے فعال صارفین، خاص طور پر وہ جو حکومت کے ناقد سمجھے جاتے ہیں، ان کو اسپائی ویئر بھیجا جاتا ہے جس سے بی جے پی آپریٹرز کو ہدف کے فون تک اور ان کی رابطہ فہرستوں تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔ اس طرح اہداف کا دائرہ مسلسل بڑھتا جاتا ہے۔

بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے حوالے سے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ ان کی حکمتِ عملی ہی دہشت اور خوف پھیلانا ہے۔ انہوں نے بھارت جیسی متنوع ریاست کے اتحاد کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان تو کبھی کوئی بیرونی دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا تھا۔ لیکن دیگر لوگوں کی طرف سے اس طرح کی ناپاک حکمتِ عملیوں کو اپنانے میں کتنا وقت لگے گا؟ اگر ایسا ہوگیا تو کیا وہ یہ بات تسلیم کرنے کا وقت نہیں ہوگا کہ سماجی رابطوں کے یہ ذرائع اپنے آپ میں سماج دشمن ہیں؟


یہ مضمون 17 جنوری 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

تبصرے (0) بند ہیں