بھارت میں ’دی کشمیر فائلز‘ کی نمائش کے دوران ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگ گئے

فلم کو گزشتہ ہفتے جاری کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ
فلم کو گزشتہ ہفتے جاری کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ

پاکستان اور مسلم مخالف بولی وڈ فلم ’دی کشمیر فائلز‘ کی نمائش کے دوران بھارتی ریاست تلنگانہ کے سینما میں ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگنے سے ہندوستانی شائقین برہم ہوگئے۔

’نیوز 18‘ کے مطابق ریاست تلنگانہ کے شہر عادلپور کے علاقے بھکتاپور میں نترج سینما میں 18 مارچ کو متنازع فلم ’دی کشمیر فائلز‘ کو دکھائے جانے کے وقت وہاں موجود دو افراد نے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے۔

پاکستان مخالف فلم کی نمائش کے دوران ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والے دونوں افراد کو سینما میں موجود افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا اور سینما میں جنگ کا ماحول ہوگیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ انتہاپسند ہجوم کے ہاتھوں سے نکل جانے کے بعد سینما انتطامیہ نے پولیس کو بلایا تو معاملہ ٹھنڈا ہوا، تاہم اس وقت تک ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والے افراد وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔

پولیس کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دشمن ملک کے زندہ باد کے نعرے لگانے والے افراد کون تھے اور ان پر تشدد کرنے والے افراد کی بھی تلاش جاری ہے۔

پولیس نے سینما انتظامیہ سے سی سی ٹی وی فوٹیجز لے کر معاملے کی تفتیش شروع کردی، تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مسلم مخالف فلم کے دوران ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والے افراد کون تھے؟

سوشل میڈیا پر مذکورہ واقعے کی ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے، جس میں سینما کے اندر جھگڑے کے مناظر کو دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’دی کشمیر فائلز‘: بولی وڈ فلم نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھادی

’دی کشمیر فائلز‘ کی نمائش کے دوران ہاکستان کی حمایت میں نعرے لگنے سے قبل اسی فلم کے دوران بھارت بھر میں مسلم مخالف نعرے لگائے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں اور بھارتی میڈیا کے مطابق مذکورہ فلم کی نمائش کے بعد وہاں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

’دی کشمیر فائلز‘ کو کچھ دن قبل ریلیز کیا گیا تھا، جس کی کہانی 1990 میں مقبوضہ کشمیر میں کی گئی نسل کشی پر مبنی ہے لیکن حیران کن طور پر فلم میں مسلمانوں کے بجائے پنڈتوں کی نسل کشی کو دکھایا گیا ہے اور مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

’دی کشمیر فائلز‘ کی کہانی اور ہدایات وویک رنجن نے دی ہیں جب کہ وہ فلم کے شریک پروڈیوسر بھی ہیں۔

وویک رنجن کی اہلیہ اداکارہ پلوی جوشی نے بھی فلم میں اہم کردار ادا کیا ہے جنہیں ایک طرح سے پاکستانی مہرے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان مخالف بولی وڈ فلم میں فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ شامل کردی گئی

فلم کو ریلیز کیے جانے کے بعد جہاں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت دیکھی گئی، وہیں دنیا بھر میں فلم پر حقائق کو غلط پیش کرنے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہےکہ پروپیگنڈا کے تحت بنائی گئی مذکورہ فلم میں پاکستان کے معروف شاعر فیض احمد فیض کی ظلم کے خلاف لکھی گئی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے، جسے انتہاپسند مسلمانوں کے کردار ادا کرنے والے اداکاروں پر فلمایا گیا ہے۔

پاکستان اور مسلم مخالف فلم میں پاکستانی شاعر کی نظم کو شامل کیے جانے پر بھی ’دی کشمیر فائلز‘ کی ٹیم پر تنقید کی جا رہی ہے۔

تبصرے (1) بند ہیں

انجنیئر حا مد شفیق Mar 20, 2022 09:47pm
ان فلموں کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ اور ابھر کر سامنے آئے گا