ویڈیو ریکارڈ کروالی، جس میں سازش کرنے والوں کے نام لیے ہیں، عمران خان

اپ ڈیٹ 15 مئ 2022
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں عوام کا سمندر آئے گا—فوٹو: ڈان نیوز
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں عوام کا سمندر آئے گا—فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے خلاف قتل کی سازش تیار ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویڈیو ریکارڈ کروالی جس میں تمام کرداروں کے نام لیے ہیں۔

سیالکوٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ آج نواز شریف کی ن لیگ نے جو حرکت کی ہے، نواز شریف جتنے بڑے بزدل تم ہو اتنی تمہاری پارٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک دفعہ بھی ان کے جلسے یا ان کا لانگ مارچ روکنے کی کوشش نہیں کی، ہر 3 مہینے کے بعد یہ حکومت گرانے آتے تھے اور تمہارے ساتھ ملک کی بڑی بیماری زرداری بھی تھا اور اس کے علاوہ ڈیزل کے پرمٹ بیچنے والا بھی تھا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یہاں پہنچنے کے لیے ایک گھنٹہ لگا کیونکہ سارے راستے بند ہیں، اس طرف قافلے آرہے اس طرف لیکن پہنچ نہیں سکتے کیونکہ انہوں نے سازش کے تحت بڑے گراؤنڈ میں جلسہ کرنے سے روکا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج تک دنیا کی تاریخ میں کبھی کوئی انقلاب کو نہیں روک سکا، یہ سیاست نہیں ہو رہی ہے، یہ انقلاب آرہا ہے، قوم تحریک آزادی کے بعد دوسری آزادی کے لیے تیار ہے اور اپنی حقیقی آزادی کی کوشش کر رہی ہے۔

حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی ہے، ہم نے ہمیشہ پرامن احتجاج کیا اور اسلام آباد پہنچ کر پرامن رہیں گے لیکن جو حرکت آج کی ہے اگر یہی حرکت کروگے اور انتشار پھیلانے کی کوشش کروگے تو تمہیں پاکستان میں کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

'میری جان لینے کی بند کمروں میں سازش، ویڈیو میں نام لے لیا'

انہوں نے کہا کہ میرے خلاف بند کمروں کے اندر ملک سے باہر اور ملک کے اندر ایک سازش ہو رہی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کی جان لے لی جائے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس سازش کا مجھے پہلے پتہ تھا اور چند دن پہلے مجھے پورا علم ہوچکا ہے، میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے، ویڈیو محفوظ جگہ پر رکھ دی ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو یہ ویڈیو سامنے لائی جائے گی اور اس ویڈیو میں پچھلی گرمیوں سے میرے خلاف جو سازش ہوئی اور جو اس سازش میں ملوث ہیں، اس میں ایک،ایک کا نام لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے، جس میں سازش کا ذکر یہ ہے اور انہوں نے سمجھا ہے کہ یہ عمران خان ہمارے راستے میں رکاوٹ ہے اور اس کو ہٹانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے مارنے کی سازش ہے اور اس لیے میں نے یہ ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے کیونکہ میں اس کو سیاست نہیں بلکہ جہاد سمجھتا ہوں اور اپنے اللہ کے لیے لڑتا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو سارے پاکستانیوں کو چاہتا ہوں کہ آپ کو پتا چلے کہ کون کون اس سازش میں ملوث تھا، باہر بیٹھ کر کون اس سازش کا کردار تھا اور میرے ملک میں بیٹھ کر کس کس نے سازش کی ہے، سب کے نام لیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سب کے نام لیے ہیں، جنہوں نے یہ منصوبہ بندی کی، ایک،ایک کا نام میرے دل پر لکھا ہوا ہے کہ انہوں نے کیسے پوری منصوبہ بندی کرکے بیرون ملک سازش کی، جس میں اس ملک کا کرپٹ ٹولا مل کر اور کون کون مزید ان کے ساتھ تھے، انہوں نے جو میری حکومت گرائی ہے اور یہ آگے جو کرنے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کی تاریخ ہے کہ کبھی طاقت ور کو قانون کے نیچے نہیں لایا جاتا، کبھی طاقت ور کا احتساب نہیں ہوتا، ہمیشہ طاقت ور بچ جاتا ہے اور جو بھی قتل ہوتا ہے، کسی اور کے نام لگ جاتا ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ویڈیو ریکارڈ کرکے اس لیے محفوظ رکھی ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس ملک کا انصاف کا نظام، اس ملک کی تاریخ ہے کہ کبھی انہوں نے طاقت ور مجرم کو نہیں پکڑا، اس لیے لیاقت علی خان کے زمانے سے اب تک کوئی طاقت ور مجرم نہیں پکڑا گیا، اس لیے چاہتا ہوں قوم کے سامنے سب کی شکلیں آئیں کہ کون کون غداری کر رہا تھا۔

'جنہوں نے انصاف کرنا ہے کرپشن کو برا نہیں سمجھتے'

انہوں نے کہا کہ میں نے ساڑھے تین سال میں پوری کوشش کی کہ جو30 سال سے ملک کو لوٹ رہے تھے ان کو سزائیں ہوں ، ان کے خلاف کارروائی ہو لیکن جو جو اس ملک کے طاقت ور عہدوں پر بیٹھے تھے جنہوں نے انصاف کرنا تھا وہ کرپشن کو برا نہیں سمجھتے تھے، وہ طاقت ور کی کرپشن کو کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔

کسی کا نام لیے بغیر طاقت ور عہدوں پر بیٹھے افراد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تسلیم کر بیٹھے ہیں اس ملک میں طاقت ور لوگ چوری کریں گے اور کوئی پکڑے گا نہیں۔

جلسے کے شرکا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو اسلام آباد جلسے کے لیے جو بلایا ہے اس کی ایک وجہ ہے کہ اگر آپ ان ڈاکوؤں کے خلاف نہیں نکلیں گے جو سازش کے تحت آج ملک کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں، تو یہ ملک تباہ ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ان کے خلاف جہاد نہ کیا تو آپ اور آپ کے بچوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے، جب میں 20 مئی کے بعد کال دوں گا سب کو اسلام آباد پہنچنا ہے۔

'تحریک پاکستان میں لاکھوں لوگ قربان ہوئے، اپنی قوم سے وہی قربانی مانگ رہا ہوں'

ان کا کہنا تھا کہ گرمی کی فکر نہیں کرنی ہے، جب پاکستان آزاد ہوا تھا تو بھارت سے ہجرت کرجو لوگ آئے تھے، ان کی کہانیاں اپنے بڑوں سے سنیں، جو بھی وہاں سے آئے تھے، مسلمانوں کا جو قتل عام ہوا تھا، اس ملک کو بنانے کے لیے عورتوں، بچوں کی اور لاکھوں لوگ قربان ہوئے تھے اور آج اپنی قوم سے وہی قربانی مانگ رہا ہوں، اپنے آپ کو ان چوروں اور امریکی غلاموں سے حقیقی آزادی کے لیے۔

عمران خان نے کہا کہ آپ نے نہ گرمی دیکھنی ہے اور نہ راستے میں رکاوٹیں اور کنیٹینر کو دیکھنا ہے، نوجوانو! آپ کا جنون ان سارےکنٹینرز اور جو بھی رکاوٹیں ہیں وہ بہا کر لے جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپنے نوجوانوں سے خاص طور پر کہہ رہا ہوں تیاری کریں، انہوں نے دو دن پہلے ٹرانپسورٹ بند کردینی ہے، پیٹرول، انٹرنینٹ بند کردینا ہے، اس لیے اس سے پہلے تیاری کریں۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر وزرا سے کہا کہ سب تیار ہوجاؤ، اسلام آباد عوام کا سمندر آنے والا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ آج اپنی عدلیہ سے بڑی عاجزی سے ایک سوال پوچھ رہا ہوں، بڑا اچھا کیا اتوار کو آپ نے از خود نوٹس لے لیا، آپ کو عمران خان سے کوئی بڑا خطرہ ہوگا، 12 بجے عدالتیں کھول دیں چلیں ٹھیک ہے، میں بہت خطرناک اور ملک سے کوئی بڑی غداری کرنے جا رہا تھا کہ رات کے 12 بجے عدالتیں کھول دیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنی عدلیہ سے بڑی عاجزی سے پوچھتا ہوں کہ بڑا معصومانہ سا سوال ہے کہ شہباز شریف اور اس کا بیٹا حمزہ شہباز اور مفرور بیٹا سلمان شہباز پر ایف آئی اے کے 24 ارب روپے کے کیسز ہیں۔

'ڈاکٹر رضوان پر حمزہ شریف نے دباؤ ڈالا'

عمران خان نے کہا کہ میں ڈاکٹر رضوان کو سلام پیش کرتا ہوں، جو ایف آئی اے کا ایک زبردست افسر، جس میں دلیری تھی، جس نے شریف مافیا کے خلاف کارروائی کرکے، مقصود چپڑاسی اور نوکروں کے بینک اکاؤنٹ پر 16 ارب روپے پکڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ پھر کیا ہوا، ڈاکٹر رضوان کے اوپر دباؤ ڈالا گیا، حمزہ شریف نے اس کو دھمکیاں دیں اور وہ ڈاکٹر رضوان شدید دباؤ میں تھا، اس کو دل کا دورہ پڑا اور مرگیا۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا افسر جو شہباز شریف کے ایف آئی اے کے کیس کی تفتیش کر رہا تھا، اس کا نام ندیم اختر تھا، اس کو کل دل کا دورہ پڑا، یہ کیسے ہیں جو مافیا کی تفتیش کرتا ہے، ان کے اوپر کس طرح کا دباؤ ہے۔

'عدلیہ سے سوال ہے کہ اداروں کی حفاظت کون کرے گا'

سابق وزیراعظم نے کہا کہ کدھر ہیں میری عدالتیں، ان کی حفاظت کرنا آپ کا کام ہے، کون آگے سے اس ملک کے کون سے سرکاری نوکر، کون سی ایف آئی اے، کون سی ایف بی آر، کون سے پولیس افسر کبھی بھی آپ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کے ادارے کیسے طاقت ور مجرموں کے سامنے کھڑے ہوں گے، اپنی عدلیہ سے سوال پوچھتا ہوں کون اس ملک کے اداروں کی حفاظت کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں بڑی عاجزی سے اپنی عدالتوں سے پوچھتا ہوں کہ یہ آپ کے سامنے ہمارے ملک کی تباہی ہو رہی ہے، جب ادارے ختم ہوتے ہیں تو ملک تباہ ہوجاتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ میں اگلا سوال پوچھتا ہوں کہ یہ جو ہمارے جیلوں میں چھوٹے چور بھرے ہوئے ہیں، کیا ان کا یہ قصور ہے کہ وہ چھوٹے چور ہیں، کیا یہ سبق مل رہا ہے کہ ملک میں ڈاکا مارو تو بڑا ڈاکا مارو نہیں تو جیل چلے جاؤگے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے ان کو نہیں پکڑنا تو میں کہتا ہوں کہ پاکستان کے جیل کھول دیں، ان غریبوں کو باہر نکالیں، ان غریب چوروں کی پوری چوری ملا کر وہ ایک مقصود چپڑاسی کے بینک میں جو 4 ارب آئے تھے وہ کم ہیں۔

'یہ ملک کا دیوالیہ نکال رہے ہیں'

سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ ملک کا دیوالیہ نکال رہے ہیں، روپیہ گر رہا ہے، ذخائر نیچے جا رہے ہیں، اب یہ امریکا کے پاس جائیں اور ان سے بھیک مانگیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول امریکا جا رہا ہے، بلاول یہ یاد رکھنا، ان کی ایجنسیوں کو پتا ہے کہ تمہارے بینک اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ہیں۔

عمران خان نے اپنے کارکنوں سے ایک مرتبہ پھر کہا کہ اسلام آباد آنے کے لیے جو بھی رکاوٹیں ہوں گی، اس سے تحریک پاکستان کی طرح اپنی آزادی کی جنگ سمجھنی ہے، میرے لیے یہ ایک جہاد ہے اور آپ کے لیے بھی جہاد ہے، خوف کی زنجیریں توڑ دیں۔

کارکنوں سے انہوں نے کہا کہ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، عزت ذلت اور رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، پھر ڈر کس چیز کا، آپ کے سامنے کھڑا ہوں، آپ کے سامنے وہ آدمی کھڑا ہے، جس کو قرآن میں اللہ کہتا ہے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اللہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ کوئی خوف نہیں ہے اور آپ کو بھی کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے، تیاری کریں اور اسلام آباد میں ملاقات ہوگی۔

تبصرے (0) بند ہیں