تیل،اشیائے خورونوش کا درآمدی بل 64 فیصد اضافے کے ساتھ 32.32 ارب ڈالر ہوگیا

اپ ڈیٹ 21 جولائ 2022
<p>اعداد وشمار کے مطابق ٹیکسٹائل مشینری کی درآمد میں 29.13 فیصد اضافہ ہوا—فائل فوٹو: شٹراسٹاک</p>

اعداد وشمار کے مطابق ٹیکسٹائل مشینری کی درآمد میں 29.13 فیصد اضافہ ہوا—فائل فوٹو: شٹراسٹاک

پاکستان کا تیل اور کھانے پینے کی اشیا کا درآمدی بل مالی سال 22 میں 64 فیصد اضافے کے ساتھ 32 ارب 32 کروڑ ڈالر ہو گیا جو کہ گزشتہ مالی سال میں 19 ارب 69 کروڑ ڈالر تھا، درآمدی بل میں اضافے کی وجہ عالمی سطح پر ہونے والی مہنگائی اور روپے کی قدر میں بہت زیادہ گراوٹ ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب عالمی سطح پر طلب میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ٹیکسٹائل اور کپڑوں کی برآمدات بھی سالانہ 25.53 فیصد بڑھ کر 19 ارب 32 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔

پاکستان بیورو آف شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے کے مطابق دوا سازی کی مصنوعات کی درآمدات مالی سال 22 میں 192.29 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ارب 6 کروڑ ڈالر ہوگیا جو کہ ایک ارب 39 کروڑ ڈالر تھا، یہ کسی بھی ایک شعبے کی درآمدات کا سب سے بڑا اضافہ ہے جس کی بنیادی وجہ کورونا وائرس کی ویکسین کی درآمد میں اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اشیائے خورو نوش کے درآمدی بل میں 50 فیصد تک اضافہ

تیل کا درآمدی بل مالی سال 22 میں 105.31 فیصد سے بڑھ کر 23 ارب 31 کروڑ ڈالر ہو گیا جو گزشتہ سال کے اسی مہینوں کے مقابلے میں 11 ارب 35 کروڑ ڈالر تھا۔

اعداد وشمار کے مزید جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں قیمت کے لحاظ سے 133.90 فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 28.28 فیصد اضافہ ہوا۔

زیر جائزہ مدت کے دوران خام تیل کی درآمدات میں قیمت کے لحاظ سے 80.18 فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 5.26 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مائع قدرتی گیس کی قیمت میں 90.65 فیصد اضافہ ہوا، مائع پیٹرولیم گیس کی درآمدات مالی سال 22 میں قیمت کے لحاظ سے 39.70 فیصد بڑھ گئیں۔

مقامی پیداواری فرق کو کم کرنے کے لیے درآمدات کے باعث خوراک کا درآمدی بل مالی سال 21 میں 8ارب 34 کروڑ ڈالر سے مالی سال 22 میں 8 فیصد اضافے کے ساتھ 9 ارب ایک کروڑ ڈالر ہو گیا، خوراک کے درآمد بل میں سب سے زیادہ اضافہ گندم، چینی، خوردنی تیل، مسالے، چائے اور دالوں کی درآمد سے آیا۔

مزید پڑھیں: اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے اعتبار سے کراچی صارفین کیلئے سب سے مہنگا شہر

مشینری کا درآمدی بل مالی سال 22 میں 7.63 فیصد بڑھ کر 10 ارب 92 کروڑ ڈالر ہو گیا جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 10 ارب 14 کروڑ ڈالر تھا، اس شعبے کے درآمدی بل میں اضافے کا سب سے بڑا حصہ الیکٹریکل مشینری اور موبائل فونز کی درآمدکے باعث آیا۔

موبائل فون کی درآمدات مالی سال 22 میں 4.19 فیصد سالانہ کم ہوکر ایک ارب 97 کروڑ ڈالر رہ گئیں، موبائل فونز آلات کی درآمد میں سالانہ 33.65 فیصد اضافے کے ساتھ70 کروڑ 59 لاکھ ڈالر ہوگئیں۔

ٹیکسٹائل کی برآمدات

پی بی ایس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جون میں ٹیکسٹائل اور کپڑوں کی برآمدات میں سالانہ صرف 2.86 فیصد اضافہ ہوا، مالی سال 2022 کے آخری مہینے میں ٹیکسٹائل کی برآمدات میں سست روی کی وجہ توانائی کی بلند قیمت تھی۔

یہ بھی پڑھیں: درآمدات میں اضافے کے باعث ملک کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

حکومت نے حال ہی میں گزشتہ چند برسوں سے زیر التوا ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان کیا ہے۔

بجٹ 22-2021 میں حکومت نے برآمدی مصنوعات کی لاگت کو کم کرنے کے لیے خام مال کی درآمدات پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں زبردست کمی کردی تھی، ریفنڈز کی بروقت ریلیز اور کیش سبسڈی کی ادائیگی سے لیکویڈیٹی کے مسائل بھی بڑی حد تک حل ہو گئے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 22 میں ریڈی میڈ کپڑوں کی برآمدات میں قیمت کے لحاظ سے 28.75 فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 49.43 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بنے ہوئے کپڑے کی برآمدات میں قیمت کے لحاظ سے 34.23 فیصد اضافہ ہوا اور مقدار کے لحاظ سے 5.45 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

بیڈ ویئر کی برآمدات میں قیمت کے لحاظ سے 18.80 فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 11 فیصد اضافہ ہوا، تولیہ کی برآمدات میں قیمت کے لحاظ سے 18.54 فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 3.91 فیصد اضافہ ہوا جب کہ کاٹن کپڑے کی قیمت کے لحاظ سے 26.91 فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 3.81 فیصد اضافہ ہوا۔

اعداد وشمار کے مطابق زیر جائزہ مدت کے دوران ٹیکسٹائل مشینری کی درآمد میں مالی سال 22 میں 29.13 فیصد اضافہ ہوا جو ٹیکسٹائل کی صنعت میں وسعت یا جدت کا عکاس ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں