مہوش حیات ’یوکے مسلم فلم‘ کی فلاحی سرپرست مقرر

مہوش حیات نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے بھی تصدیق کی—فائل فوٹو: انسٹاگرام
مہوش حیات نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے بھی تصدیق کی—فائل فوٹو: انسٹاگرام

حال ہی میں امریکی ویب سیریز ’مس مارول‘ میں عائشہ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ مہوش حیات کو برطانیہ کی فلاحی تنظیم ’یو کے مسلم فلم‘ نےاپنے فلاحی منصوبوں کی پہلی اعزازی سرپرست مقرر کردیا۔

’یو کے مسلم فلم‘ نامی تنظیم کا مقصد مسلمانوں کو اسکرین پر مثبت کرداروں میں دکھانا اور اسلام سے نفرت دلانے والے مواد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

مذکورہ تنظیم کو کچھ عرصہ قبل ہی برطانوی صحافی، فلم ساز، لکھاری اور میڈیا پرسنلٹی ساجد وردا نے بنایا تھا، جس کا مقصد آن اور آف اسکرین مسلمان اداکاروں، فلم سازوں، تکنیکی عملے اور انفلوئنسرز کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

مذکورہ تنظیم دنیا بھر کے مسلمان فلم لکھاریوں کو مالی معاونت بھی فراہم کرتی ہے، جس کے لیے وہ دنیا بھر سے لکھاریوں کو اپنے خیالات بھیجنے کی دعوت دیتی ہے اور پھر جیوری فیصلہ کرکے اچھی کہانی کو منتخب کرکے اسے فنڈ فراہم کرتی ہے۔

اسی تنظیم کے تحت جلد ہی برطانیہ میں پہلے ’عالمی مسلم فلم فیسٹیول‘ کا انعقاد بھی ہوگا، جس میں دنیا بھر کے مسلمان فلم سازوں اور شوبز شخصیات کو اپنا کام پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

اسی تنظیم نے حال ہی میں مہوش حیات اور کینیڈین نژاد امریکی مسلمان لکھاری لینا علی کو اپنے فلاحی منصوبوں کے لیے پہلے سرپرست کے طور پر مقرر کیا، جس کا اعلان تنظیم نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کیا جب کہ مہوش حیات نے بھی اس ضمن میں سوشل میڈیا پوسٹس شیئر کیں۔

اسی حوالے سے مہوش حیات نے شوبز ویب سائٹ ’ورائٹی‘ سے بات کرتے ہوئے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ عالمی تنظیم نے اپنا سرپرست مقرر کیا اور انہیں امید ہے کہ ان کی شمولیت سے تنظیم سمیت ابھرتے ہوئے مسلمان شوبز شخصیات کو بھی فائدہ ملے گا۔

مہوش حیات کا کہنا تھا کہ مین اسٹریم میڈیا اور عالمی سینما میں مسلمانوں کو منفی انداز میں پیش کیے جانے اور اسلام سے متعلق غلط تصور پیش کیے جانے کی وجہ سے ہی دنیا کے پر امن ترین مذہب سے متعلق غلط خیالات پائے جاتے ہیں۔

ان کے مطابق انہیں یقین ہے کہ ’یوکے مسلم فلمز‘ کے بینر تلے ابھرتے ہوئے مسلمانوں کی کہانیوں کو مثبت اور منفرد انداز میں پیش کیے جانے سے عالمی سطح پر ’اسلاموفوبیا‘ یعنی اسلام سے نفرت میں کمی آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ’مس مارول‘ 2 ارب مسلمانوں کی نمائندگی ہے، مہوش حیات

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ مسلمانوں کو چھوٹی اور بڑی اسکرینز سمیت مختلف کرداروں میں مثبت انداز میں پیش کرکے اسلام اور مسلمانوں کا تشخص بحال کیا جائے۔

مہوش حیات کی طرح لینا خان نے بھی ’یوکے مسلم فلم‘ کی سرپرست مقرر ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔

لینا خان پہلے ہی ’یوکے مسلم فلم‘ کی ٹیم کا حصہ ہیں اور وہ تنظیم میں لکھاری اور ہدایت کارہ کے طور پر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں