پنجاب پولیس کا عطا تارڑ کے گھر چھاپہ، تحقیقات میں تعاون کرنے کیلئے نوٹس لگا دیا

اپ ڈیٹ 13 اگست 2022
<p>— فوٹو: ڈان نیوز</p>

— فوٹو: ڈان نیوز

وزیر داخلہ پنجاب ہاشم محمد ڈوگر نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس نے آج صبح لاہور میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ کے گھر نوٹس دیا ہے کہ وہ تحقیقات کے لیے حکام کے سامنے پیش ہوں۔

صوبائی وزیر داخلہ نے ٹوئٹ میں انکشاف کیا کہ 'عطا تارڑ آپ پیش ہو جائیں قانون آپ کا انتظار کر رہا ہے، آج پولیس نے لاہور میں آپ کے گھر نوٹس دیا ہے، اگر قانون کی طاقت سمجھتے ہیں تو لاہور میں پیش ہو جائیں۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جب حکام عطا اللہ تارڑ کے گھر گئے تو وہ موجود نہیں تھے اور کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا۔

دوسری جانب عطا للہ تارڑ کا کہنا تھا کہ 'ہاشم ڈوگر صاحب میرا خیال تھا، آپ وزیر ہیں مگر آپ تو انتہائی غیر سنجیدہ کردار نکلے، جس گھر میں 15سال پہلے رہتا تھا، وہاں پولیس بھیج کر کسی راہگیر کو ہراساں کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: پولیس کو مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو ہراساں کرنے سے روک دیا گیا

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ حال ہے آپ کا، خاک وزارت چلانی ہے آپ نے، ملک دشمن بیانیے کے دفاع میں اتنا آگے نہ جائیں'۔

لاہور کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) غلام محمد ڈوگر نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ عطا اللہ تارڑ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا مشہود کو پنجاب اسمبلی حملہ کیس میں تحقیقات کے حوالےسے پیش ہونے کے لیے نوٹس بھیجے ہیں۔

یاد رہے کہ 16 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے اس وقت کے اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز سے شکست کے بعد ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے تھانہ قلعہ گجر میں درخواست دی تھی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے فوکل پرسن اظہر مشوانی نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے 25 مئی کے سلسلے میں عطا اللہ تارڑ کے گھر پر چھاپہ مارا۔

مزید پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، مقدمے کے اندراج کیلئے پرویزالہٰی کی درخواست

بعدازاں، فواد چوہدری نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ عطا اللہ تارڑ اور رانا ثنا اللہ کو تفتیش میں شامل کیا جا رہا ہے، اگر یہ لوگ اسلام آباد میں چھپ کربیٹھے رہیں گے تو قانون کےمطابق اشتہاری قرار دیے جائیں گے، اس لیے ان کو چھپنا نہیں چاہیے بلکہ آکر جواب دیں۔

25 مئی کو پی ٹی آئی کے مارچ کے دوران حکام نے دفعہ 144 نفاذ کیا تھا جو کہ اجتماعات روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جبکہ شرکا کا راستہ روکنے کے لیے کنٹینرز رکھ کر راستوں کو بند کر دیا گیا تھا۔

اس دوران مظاہرین پر آنسو گیس کے استعمال کے ساتھ لاٹھی چارج بھی کیا گیا تھا، پاکستان تحریک انصاف ان تمام واقعات کی ذمہ داری سابق صوبائی حکومت پر ڈالتی ہے، اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔

پاکستان تحریک انصاف اس حوالے سے خاص طور پر عطا اللہ تارڑ اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ پر الزام لگاتی ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے حامیوں کو روکنے کے لیے فسطائیت اور غیر جمہوری طریقے استعمال کیے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان آج پی ٹی آئی کے مستقبل کا لائحہ عمل دیں گے، فوادچوہدری

بعد ازاں گزشتہ مہینے پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت بننے کے بعد مارچ کے واقعات کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس حوالے سے رواں ہفتے کے آغاز میں حکومت پنجاب نے پی ٹی آئی کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی میں ملوث 25 اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز) کو معطل کر دیا تھا۔

قابل ذکر بات ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پنجاب پولیس کو پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں عطا اللہ تارڑ، رانا مشہود احمد اور ملک محمد احمد خان کو ہراساں کرنے سے روکنے کے ایک دن بعد یہ چھاپہ مارا گیا ہے۔

یہ حکم اس وقت دیا گیا تھا جب درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پولیس ہراساں کرنے کے لیے چھاپے مار رہی ہے، اگر مقدمات درج ہیں تو پولیس اس کا ریکارڈ فراہم کرے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں