سندھ ہائی کورٹ: 'اے آر وائی' کا این او سی منسوخ کرنے کا نوٹی فکیشن معطل

اپ ڈیٹ 13 اگست 2022
<p>وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق چینل کو سنے بغیر کارروائی نہیں کی جاسکتی—تصویر: اے آر وائی</p>

وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق چینل کو سنے بغیر کارروائی نہیں کی جاسکتی—تصویر: اے آر وائی

سندھ ہائی کورٹ نے نجی ٹی وی چینل ‘اے آر وائی نیوز’ کا نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) منسوخ کرنے کا نوٹیفیکیشن معطل کردیا۔

گزشتہ روز وفاقی وزارت داخلہ نے نجی ٹی وی چینل ‘اے آر وائی نیوز’ کا نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) منسوخ کردیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس ذوالفقار احمد خان نے نجی ٹی وی چینل ‘اے آر وائی’ کی نشریات کی بندش اور این او سی کی منسوخی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔

نجی ٹی وی چینل ‘اے آر وائی’ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 7 اگست کو چینل کی ٹرانسمیشن بند کردی گئی تھی، 8 اگست کو 9 محرم الحرام والے دن ہمیں 2 شوکاز نوٹس موصول ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزارت داخلہ نے ‘اے آر وائی نیوز’ کا این او سی منسوخ کردیا

درخواست گزار کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گل نے قومی اداروں کے خلاف بات کی ہے۔

اس دوران ‘اے آر وائی’ کے وکیل نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے جاری کیا گیا شوکاز نوٹس پڑھ کر عدالت میں سنایا۔

اے آر وائی کے وکیل کا مؤقف تھا کہ چھٹی والے دن شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور 3 دن میں جواب دینے کا کہا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ایک فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کاٹی گئی اور ‘اے آر وائی’ کے ہیڈ آف نیوز عماد یوسف کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔

اے آر وائی کے وکیل کا عدالت میں کہنا تھا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ہیڈ آف نیوز کو ڈسچارج کردیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 10 اگست کو شوکاز نوٹس اور چینل کی بندش کو چیلنج کیا، عدالت نے چینل کی بندش پر حکم امتناع جاری کیا تھا، عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوا جس پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی، ان کا کہنا تھا کہ پیمرا کے وکیل آج بھی آئے ہوئے تھے

مزید پڑھیں: این او سی کے بعد اے آر وائی کا لائسنس بھی منسوخ کردیا گیا

ان کا کہنا تھا کہ کل رات کو ایک خط واٹس ایپ پر موصول ہوا ہے، نوٹس پر دو مختلف تاریخیں درج ہیں، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ‘اے آر وائی’ لائسنس منسوخ کیا جاتا ہے۔

‘اے آر وائی’ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ستمبر 2018 میں چینل کے لائسنس کی تجدید کی درخواست دی تھی، این او سی 10نومبر 2021 کو دی گئی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق چینل کو سنے بغیر کارروائی نہیں کی جاسکتی، چینل کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے، معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔

پیمرا کی جانب سے خواجہ شمس اسلام ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

پیمرا کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ سب سے زیادہ نفرت اور زہر نجی ٹی وی چینل ‘اے آر وائی’ دیکھا رہا ہے، 2 تین دن کا ٹائم دے دیں اور پورا کیس سن کر فیصلہ کریں۔

پیمرا کے وکیل خواجہ شمس اسلام ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ‘اے آر وائی نیوز’ کے لائسنس منسوخی کی وجوہات بھی بتائی جائیں گی، یہ بہت ہی حساس معاملہ ہے تمام چیزیں عدالت کے سامنے رکھیں گے۔

پیمرا کے وکیل کا کہنا تھا کہ پچھلے کیس میں وزارت داخلہ کو فریق نہیں بنایا گیا تھا۔

پیمرا کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ حکم امتناع جاری نہ کیا جائے۔

عدالت نے نجی ٹی وی چینل ‘اے آر وائی’ کا ‘این او سی’ منسوخ کرنے کا نوٹیفیکیشن معطل کردیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے 17 اگست کے لیے فریقین کو نوٹس بھی جاری کردیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزارت داخلہ نے نجی ٹی وی چینل ‘اے آر وائی نیوز’ کا نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) منسوخ کردیا تھا۔

وفاقی وزارت داخلہ سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ‘اے آر وائی کمیونیکیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ (اے آر وائی) نیوز کو جاری این او سی منسوخ کردیا گیا ہے اور اس پر فوری عمل درآمد ہوگا’۔

نوٹیفیکیشن میں بتایا گیا تھا کہ ‘ایجنسیوں کی جانب سے ناسازگار رپورٹ کی بنیاد پر اے آر وائی نیوز کو جاری کیا جانے والا این او سی اگلے احکامات آنے تک فوری طور پر منسوخ کیا جا رہا ہے۔’

بعد ازاں، رات گئے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے اے آر وائی نیوز کا آپریٹنگ لائسنس بھی منسوخ کر دیا تھا۔

پیمرا کی جانب سے یہ فیصلہ اپنے 172ویں اجلاس کے دوران کیا گیا تھا جس کی صدارت دوبارہ تعینات ہونے والے چیئرمین سلیم بیگ نے کی۔

ریگولیٹری اتھارٹی کے ذرائع نے بتایا تھا کہ سلیم بیگ نے تین دیگر اراکین کی موجودگی میں اجلاس کی صدارت کی، جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین اور سیکریٹری داخلہ سمیت چار اراکین ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شامل ہوئے۔

اے آر وائی انتظامیہ نے پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیٹ ورک کو وفاقی حکومت کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ اقدام ‘نیوز چینل سے وابستہ 4ہزار سے زیادہ میڈیا کارکنوں کے معاشی قتل’ کے مترادف ہے، وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کو عدالتوں میں لے جایا جائے گا کیونکہ یہ بغیر کسی نوٹس کے جاری کیا گیا۔

ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز کے صدر اظہر عباس نے اسے ‘ضرورت سے زیادہ اقدام’ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ اس طرح کے اقدامات کبھی کام نہیں آئے، انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فیصلہ فوری واپس لے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (1) بند ہیں

Rizwan Aug 13, 2022 08:13pm
Excellent decision. This channel spread such a hate and divide in pakistan.