ترکیہ کا عراق اور شام میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملہ، 12 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2022
<p>ترکیہ کے وزیر دفاع اور دیگر حکام کرد جنگجوؤں کے اڈوں پر فضائی حملے کے لیے ہدف کا انتخاب کر رہے ہیں — فوٹو: اے ایف پی</p>

ترکیہ کے وزیر دفاع اور دیگر حکام کرد جنگجوؤں کے اڈوں پر فضائی حملے کے لیے ہدف کا انتخاب کر رہے ہیں — فوٹو: اے ایف پی

ترکیہ کی حکومت نے ایران اور شام میں کالعدم کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کردیے جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق ترک حکومت نے کہا ہے کہ عراق اور شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی آپریشن کا آغاز کردیا ہے کیونکہ یہ علاقے استنبول میں دہشت گرد حملوں میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔

ترکیہ نے فضائی آپریشن کو ’کلا سورڈ‘ کا نام دیا ہے جو کہ گزشتہ ہفتے استنبول کی مصروف ترین مارکیٹ میں بم حملے کے بعد شروع کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے استنبول کی مصروف ترین مارکیٹ میں بم دھماکے میں 6 افراد ہلاک اور 81 زخمی ہوگئے تھے جبکہ ترکیہ کی حکومت نے اس کا ذمہ دار کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کو قرار دیا تھا۔

ترک وزیر دفاع ہلوسی اکار نے ایئر فورس آپریشن مرکز سے جنگی جہازوں کی روانگی سے قبل کہا کہ ہم ابھی سے آپریشن ’کلا سورڈ‘ کا آغاز کر رہے ہیں۔

ایک ویڈیو میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیر دفاع حملے کی اجازت دینے کے بعد صدر رجب طیب اردوان کو بریفنگ دیتے نظر آرہے ہیں، تاہم ایک نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ ترکیہ کے فضائی حملوں میں 12 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترکیہ کے وزیر دفاع نے کہا کہ فضائی حملوں سے کردستان ورکرز پارٹی اور کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ہمارے اپنے دفاع کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے عراق اور شام کے شمال میں ان علاقوں پر فضائی آپریشن کلا سورڈ شروع کیا گیا جو ہمارے ملک پر دہشت گردوں کے حملوں کے لیے اڈوں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

ترکیہ کی حکومت نے استنبول میں پانچ سال بعد ہونے والے حالیہ مہلک بم دھماکے کا ذمہ دار کردستان ورکرز پارٹی کو قرار دیا، جس نے 2015 اور 2017 کے درمیان مہلک حملوں کی یادیں تازہ کردی ہیں، جن کا تعلق براہ راست کرد جنگجؤوں اور داعش کے ساتھ تھا۔

تاہم کردستان ورکرز پارٹی اور کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس نے استنبول میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کردیا ہے جبکہ تاحال کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

’بدلے کا وقت آگیا ہے‘

بعدازاں ترکیہ کی پولیس نے بم دھماکے کی مرکزی ملزمہ الحام البشیر نامی شامی خاتون گرفتار کیا تھا جن کا تعلق مبینہ طور پر کرد جنگجوؤں کے ساتھ ہے۔

ترکیہ کی وزارت دفاع نے آپریشن کے آغاز کے لیے روانہ ہونے والے جنگی جہاز کی تصویر کے ساتھ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ بدلے کا وقت آگیا ہے، بدمعاشوں کے حملوں کا حساب لیا جارہا ہے۔

وزارت دفاع نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے حملوں سے تباہ ہو گئے، جہاں ایک ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک ہدف کو فضائی حملے سے نشانہ بنایا جارہا تھا جس کے بعد ایک دھماکا ہوا۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے شامی مبصر گروپ نے کہا کہ ترکیہ نے شام کے صوبوں رقہ، حلب اور حسکے میں 20 سے زیادہ حملے کیے ہیں۔

مبصر گروپ نے کہا کہ فضائی حملوں میں کرد زیر قیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز کے کم از کم 6 ارکان جبکہ حکومت کے حامی 6 فوجی اہلکار بھی مارے گئے۔

تاہم کردستان ورکرز پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ فضائی حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ترکیہ کی فوج عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے اڈوں کو باقاعدگی سے نشانہ بناتی رہتی ہے اور رواں برس اپریل سے ترکیہ کی فوج نے عسکریت پسندوں کے تعاقب میں شمالی عراق میں ’کلاک لاک‘ آپریشن کیا تھا۔

’بمباری سے پورے خطے کو خطرہ ہے‘

اگرچہ ترکیہ نے آپریشن کی تفصیلات نہیں بتائیں لیکن امریکی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی شام میں کوبانی شہر کو ترکیہ کے فضائی حملوں میں ہدف میں شامل کیا گیا ہے۔

ایس ڈی ایف کے ترجمان فرہاد شامی نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ کوبانی وہ شہر ہے جس نے داعش کو شکست دی تھی اور اب اس کو ترکیہ کی فضائی بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایس ڈی ایف نے داعش کے خلاف امریکا کی قیادت میں ہونے والے آپریشن کے دوران بہت مدد کی مگر ترکیہ، کردش پیپلز پروٹیکشن کو کردستان ورکرز پارٹی کا حصہ تسلیم کرتا ہے۔

ترکیہ کے وزیر داخلہ سلیمان صویلو نے کہا کہ ترکیہ سمجھتا ہے کہ استنبول میں بم دھماکے کا حکم کوبان شہر سے دیا گیا تھا جو کہ شامی اور کرد جنگجوؤں کے زیر کنٹرول ہے۔

امریکی اتحادی ایس ڈی ایف کے چیف کمانڈر مظلوم عبدی نے ٹوئٹر پر اپنے بیان می کہا کہ ’ہمارے محفوظ علاقوں پر ترکیہ کی طرف سے فضائی بمباری سے پورے خطے کو خطرہ ہے۔‘

چیف کمانڈر مظلوم عبدی نے کہا کہ یہ بمباری کسی پارٹی کے حق میں نہیں ہے اور ہم بڑی تباہی سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کیونکہ جنگ شروع ہوئی تو سب متاثر ہوں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعے (18 نومبر) کو ترکیہ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو شمالی شام اور عراق کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

ترکیہ نے 2016 سے کرد جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ داعش کے دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ہوئے شام پر حملہ کیے ہیں جہاں ترکیہ اور اس کی حمایت یافتہ فورسز نے شام کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے پر قبضہ کرلیا ہے۔

رواں برس مئی میں رجب طیب اردوان نے شمالی شام میں ایک نیا آپریشن شروع کرنے کی دھمکی دی تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں