21 ممالک کا بھارت پر ’مذہبی آزادی‘ کو یقینی بنانے پر زور

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2022
<p>اقوام متحدہ  کے 130 رکن ممالک نے 339 سفارشات پیش کیں جن میں بھارت میں انسانی حقوق سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا — فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

اقوام متحدہ کے 130 رکن ممالک نے 339 سفارشات پیش کیں جن میں بھارت میں انسانی حقوق سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

کم از کم 21 ممالک نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی آزادی اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی صورتحال کو بہتر کرے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ دیگر کئی ممالک نے بھارت میں بڑھتے ہوئے تشدد، نفرت انگیز تقاریر اور حکومت کی جانب سے اپنائے گئے تبدیلی مذہب مخالف جیسے قوانین اور امتیازی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

رواں ہفتے کے آخر میں جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں انسانی حقوق کی 6 عالمی تنظیموں نے نئی دہلی کو یاد دہانی کرائی کہ اسے اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں دی گئیں سفارشات پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں سفارشات میں اقلیتی برادریوں اور کمزور طبقات کے تحفظ، صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد سے نمٹنے، شہریوں کی بنیادی آزادیوں کو برقرار رکھنے، انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں کی حفاظت اور حراست میں تشدد کے خاتمے سمیت اس طرح کے دیگر اہم خدشات کا احاطہ کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں میں انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (ایف آئی ڈی ایچ)، ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر (او ایم سی ٹی)، کرسچن سالیڈیریٹی ورلڈ وائیڈ (سی ایس ڈبلیو)، عالمی دلت سالیڈیریٹی نیٹ ورک، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ شامل ہیں۔

ان تنظیموں نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت کو فوری طور پر ان سفارشات کو اپنانا اور ان پر عمل کرنا چاہیے جو اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے 10 نومبر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے یونیورسل پیریوڈک ریویو کے دوران دی تھیں۔

بھارت کے چوتھے جائزے کے دوران 130 رکن ممالک نے 339 سفارشات پیش کیں جن میں ملک میں انسانی حقوق سے متعلق انتہائی بنیادی خدشات کو اجاگر کیا گیا۔

2017 میں اپنے آخری جائزے کے بعد سے بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے تحت انسانی حقوق کی صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔

انسانی حقوق کی 6 تنظیموں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے آزاد اور جمہوری اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا دائرہ مزید بڑھا دیا ہے اور وہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں، صحافیوں، طلبہ، حکومتی ناقدین اور پرامن مظاہرین کو ہراساں کرنے کے لیے ڈریکونین انسداد دہشت گردی اور قومی سلامتی کے سخت قوانین کا استعمال کر رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملے، امتیازی سلوک اور اشتعال انگیزی بڑھ رہی ہے، اسی طرح سے پہلے سے پسی ہوئی اور پسماندہ دلت اور آدیواسی برادریوں کو انصاف اور مساوی تحفظ سے محروم رکھا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں سے بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کا جائزہ لینے والے 20 ممالک نے کہا کہ بھارت کو آزادی اظہار اور عوامی اجتماعات کے تحفظ کو بہتر بنانا چاہیے اور سول سوسائٹی کے گروپوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور میڈیا کو اپنا کام کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا چاہیے۔

ان میں سے کچھ ممالک نے انسداد دہشت گردی کے قانون، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ کو سماجی کارکنوں، صحافیوں اور مذہبی اقلیتی برادریوں کے ارکان کے خلاف استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔

تبصرے (0) بند ہیں