آئی ٹی برآمدات سالانہ 5 ارب ڈالر تک فوری لے جاسکتے ہیں، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 08 دسمبر 2022
<p>وزیراعظم اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کر رہے ہیں —فوٹو: ڈان نیوز</p>

وزیراعظم اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کر رہے ہیں —فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم شہبازشریف نے ملک میں آئی ٹی کے شعبے کو مزید فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس شعبے کی برآمدات سالانہ 5 ارب ڈالر تک فوری لے جا سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں ایشیائی پیسفک آئی سی ٹی الائنس کی ایوارڈز تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آئی ٹی فیلڈ میں پاکستان کے پاس بہت زیادہ قابلیت ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پچھلی دہائی میں ہمارے پاکستانی کاروباری لوگوں نے اپنی انفرادی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے آئی ٹی کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے بہت بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان ایسی کوششوں کی مدد کرنے لیے پیش پیش رہی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ آج دنیا بھر میں پاکستان کے پاس فری لانسرز کی بہت بڑی تعداد ہے جبکہ آئی ٹی شعبے نے پاکستانی نوجوانوں کو صلاحیتوں سے نوازا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جہاں ان کے لیے مواقع بھی ہیں تو چیلنجز بھی مگر ہمیں اس کو مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے کوشش کرنی ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب دس برسوں میں صحت، زراعت، روینیو جیسے شعبوں میں آئی ٹی کو فروغ دیا اور ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو لاکھوں کی تعداد میں لیپ ٹاپ بھی فراہم کیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس صلاحیت اور گنجائش بہت زیادہ ہے اور ہماری کل برآمدات ڈھائی ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں جو کہ ہماری صلاحیت اور پاکستان کی حیرت انگیز اور بڑی طاقت کی عکاسی نہیں کرتی کیونکہ ہمارا ہدف اربوں ڈالرز سالانہ ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 7 ماہ میں تین سے چار اجلاس کیے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کو کس طرح خودمختار بنایا جائے اور آئی ٹی کے شعبے کو کیسے فروغ دیا جائے جس کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہم اپنی یہ برآمدات سالانہ 5 ارب ڈالر تک فوری لے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہم کر سکتے ہیں اور شاید اس سے بھی زیادہ کر سکتے ہیں مگر ہم نے اعداد و شمار اسی کے درمیان رکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں طلبہ، آئی ٹی ماہرین اور وزیر آئی ٹی کو دعوت دیتا ہوں کہ آگے بڑھیں اور ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کوئی منصوبہ تشکیل دیں جو کہ آسانی سے ممکن ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مسائل بہت زیادہ ہیں جن کو حل کرنے کی کوششیں کی جائیں گی اور آج کے فورم سے ہماری کوششوں کو بہت زیادہ تقویت ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پکٹا کے اراکین کے ساتھ آئی سی ٹی کے شعبے میں تعاون اور شراکت کو بڑھانے کی تائید کرتا ہے تاکہ مل کر کام کریں اور پکٹا ممالک کے درمیان ڈیجیٹل تقسیم کم کریں اور رکن ممالک کے درمیان آئی سی ٹی صنعت، ٹیکنالوجی، تجارت کی ترقی کو بڑھا سکیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں