’پاکستان ’انتہائی آبی عدم تحفظ‘ کے شکار ممالک میں شامل ہے‘

24 مارچ 2023
<p>رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی کی اکثریت اس وقت پانی سے غیر محفوظ ممالک میں رہتی ہے—فائل فوٹو:اے ایف پی</p>

رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی کی اکثریت اس وقت پانی سے غیر محفوظ ممالک میں رہتی ہے—فائل فوٹو:اے ایف پی

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی رپورٹ میں پاکستان کو پانی کے حوالے سے انتہائی غیر محفوظ ملک قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پانی، ماحولیات اور صحت کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ میں پاکستان کو 23 ممالک کی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جو پانی کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہیں۔

گزشتہ روز یو این یونیورسٹی کی جانب سے شائع ’گلوبل واٹر سیکیورٹی 2023 جائزہ رپورٹ‘ میں کہا گیا ہے کہ 3 جغرافیائی خطوں میں سے مجموعی طور پر 33 ممالک پانی سے محفوظ ہیں جب کہ تمام خطوں میں ایسے ممالک موجود ہیں جہاں آبی تحفظ بہت کم ہے۔

رپورٹ کے ساتھ جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اقوام متحدہ کے آبی ماہرین کی سربراہی میں تازہ ترین عالمی آبی جائزے سے پتا چلا کہ اب بھی نصف سے زیادہ عالمی آبادی کے لیے صاف پانی اور صفائی ستھرائی تک رسائی ایک خواب ہے جب کہ 70 فیصد سے زیادہ یا 5 ارب 50 کروڑ لوگوں کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق افریقا میں صاف پانی تک رسائی سب سے کم ہے جہاں خطے کی آبادی کے صرف 15 فیصد لوگوں کو اس تک رسائی حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے نئے عالمی آبی تحفظ کے جائزے سے انکشاف کیا کہ اس وقت دنیا میں “چار میں سے تین لوگ پانی کے عدم تحفظ کے شکار ممالک میں رہتے ہیں، پانی سے متعلق آفات کے مقابلے میں پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کی خدمات کی کمی سے زیادہ لوگ مرتے ہیں۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ماہرین نے دریافت کیا کہ دنیا کی آبادی کی اکثریت اس وقت پانی سے غیر محفوظ ممالک جیسے سولومن جزائر، اریٹیریا، سوڈان، ایتھوپیا ، افغانستان، جبوتی، ہیٹی، پاپوا نیو گنی، صومالیہ، لائبیریا، سینٹ کٹس، لیبیا، مڈغاسکر، جنوبی سوڈان، نائجر، سیرا لیون، یمن، چاڈ، کوموروس، سری لنکا اور پاکستان میں رہتی ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال بڑی تشویشناک ہے جب کہ پانی تک محفوظ رسائی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں پانی کی حفاظت کی حیثیت کے بارے میں مزید حقیقت پسندانہ سمجھ بوجھ کے لیے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں پانی کے تحفظ کا 10 پہلوؤں سے تجزیہ کیا گیا، ان پہلوؤں میں پینے کا پانی، صفائی، اچھی صحت، پانی کا معیار، پانی کی دستیابی، پانی کی قدر، پانی کا انتظام، انسانی تحفظ، معاشی تحفظ اور آبی وسائل کا استحکام شامل تھا۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ رپورٹ کے نتائج تشویشناک تھے جس کے مطابق عالمی آبادی کا 78 فیصد (6 ارب 10 کروڑ لوگ) اس وقت پانی سے غیر محفوظ ممالک میں رہتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانی تک رسائی نہ ہونے کے نتیجے میں پانی سے متعلق آفات میں ہلاک ہونے والوں سے زیادہ لوگ عالمی سطح پر محفوظ واش سروسز کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور خطرناک طور پر یہ صورتحال بہتر نہیں ہو رہی ہے، 2019 میں 164 ممالک میں محفوظ واش سروسز کی کمی کی وجہ سے منسوب اموات کی شرح 2016 کے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے پچھلے تخمینوں کے مقابلے میں بڑھی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں