بھارت میں آندھرا پردیش بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایگزامینیشن کی جانب سے گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کے نتائج کے اعلان کے بعد 9 طالب علموں نے خودکشی کرلی۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 11ویں اور 12ویں جماعت کے امتحان میں 10 لاکھ طلبہ نے شرکت کی۔

گیارہویں جماعت کے امتحان میں کامیابی کا تناسب 61 فیصد اور 12ویں جماعت میں 72 فیصد رہا۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آندھرا پردیش بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی جانب سے 26 اپریل کو گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانی نتائج کا اعلان کیا گیا جس کے بعد اگلے 48 گھنٹوں کے دروان 9 بچوں کی خودکشی کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ دیگر 2 طلبہ نے خودکشی کی کوشش کی۔

خودکشی کرنے والے طالب علموں کی عمر 17 سے 18 برس تھی، تمام طلبہ امتحان میں فیل ہونے کی وجہ سے مایوسی کا شکار تھے۔

خیال رہے کہ بھارت میں امتحان میں فیل ہونے کے بعد مایوسی کے شکار بچوں کے خودکشی کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

اس سے قبل بھارت کے شہر حیدرآباد کے علاقے مادھا پور میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں فیل ہونے کے امکانی خوف سے ایک لڑکی نے خودکشی کی تھی۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کاکہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 10 فیصد نوعمر بچے ذہنی پریشانی کا شکار ہیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 15 سے 19 سال کی عمر کے افراد میں خودکشی موت کی چوتھی بڑی وجہ ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار تعلیمی اداروں کے لیے ویک اپ کال ہے کہ طلبہ میں خراب ذہنی صحت ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

یونین وزیر مملکت برائے تعلیم سبھاس سرکار کے مطابق رواں سال اب تک اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 6 طلبہ خودکشی کر چکے ہیں۔

گزشتہ سال 16 طالب علموں نے خودکشی کی تھی، اس کے علاوہ سنہ 2021 میں 7، 2020 میں 5 ، 2019 میں 16 اور 2018 میں 11 طالب علموں نے خودکشی کی۔

پچھلے 5 سالوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کل 55 طالب علم خودکشی کر چکے ہیں۔

حال ہی میں ایک 18 سالہ طالب علم نے بمبئی میں اپنے ہاسٹل کی عمارت کی ساتویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے تعلیمی دباؤ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے اب تمام کورسز علاقائی زبانوں میں متعارف کرائے گئے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں