سی این جی مافیا

04 دسمبر 2012

ای میل

سی این جی اسٹیشن۔ فوٹو آن لائن۔
سی این جی اسٹیشن۔ فوٹو آن لائن۔

سی این جی اسٹیشنز مالکان کے ساتھ کچھ غیر معمولی ہورہا ہے۔ اس معاملے میں حکومت، سپریم کورٹ اور میڈیا منفرد اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات پر متفق نظر آرہے ہیں کہ سی جی این اسٹیشنز مالکان کی طرف سے ناجائز منافع بٹورنے کا دور اب ختم ہوجانا چاہیے۔

اس کے رد عمل میں ان مالکان نے اپنے اسٹیشنز بند کردیے ہیں۔ جو دو چار کھلے ہیں، اُن پر اتنی لمبی قطاریں ہیں کہ جس نے سڑک پر ٹریفک کی روانی میں بُری طرح خلل ڈال دیا ہے۔

اب جنگی حدود کی سرحدیں کھنچ چکی ہیں اور تمام شرائط واضح ہیں۔ بہت بڑے پیمانے پر لوگوں کے استعمال کی شے کی قیمت کم کرکے حکومت کی طرف سے یہ سستی مقبولیت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں ہے۔

اس کے برعکس، یہ ایسا منفرد موقع ہے کہ جب ریاست کے متعدد عناصر، میڈیا کی حمایت کے ساتھ، وسیع تر معاشی تناظر میں، عوام کو منفی معاشی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط فیصلے کے مرحلے میں ہیں۔

یہ اہم بات ہے کہ اس مرحلے پر تمام فریقین اس 'مافیا' کے خلاف متحد ہو کر، انہیں گلے سے پکڑ لیں۔

گیس اسٹیشنز کو طویل عرصے تک بند رکھنے کا سب سے زیادہ منفی اثر ان کے مالکان پر ہی پڑے گا۔ جہاں تک عام لوگوں کی بات ہے وہ تو آنے والے دنوں میں اپنے لیے اس کا متبادل حل ڈھونڈنا شروع کر ہی دیں گے۔

حکومت نے بھی اس صورتِ حال میں کافی دیر تک چُپ کا روزہ رکھے رکھا مگر اب اس نے بھی اپنی طویل خاموشی توڑکر لب کشائی کی ہے۔

گیس نرخوں کو باقاعدہ بنانے کے ذمہ دار ادارے اور وزارتِ پٹرولیم کو چاہیے کہ وہ اپنے ضابطوں اور قانون  کے تحت اس طرح اسٹیشنز بند کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے اور ان پر جرمانے عائد کرے۔

وزارتِ پیٹرولیم کے انچارج ڈاکٹر عاصم حسین طویل عرصے سے سی این جی کو بطور ایندھن گاڑیوں میں استعمال کرنے کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں۔

انہوں نے کھلے عام کہا ہے کہ اگر سی این جی اسٹیشنز مالکان نے عدالتی احکامات اور حکومتی اقدامات کی خلاف ورزی کی تو انہیں سخت کارروائی اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس 'مافیا' کے زیادہ تر ارکان گیس چوری کرتے ہیں، اپنے حق سے زیادہ گیس کا کوٹہ حاصل کرتے ہیں اور بعض اوقات اُس گیس کی قیمت بھی حکومت کو ادا نہیں کرتے جو وہ صارفین کو بیچ چکے ہوتے ہیں۔

اب ان کے الفاظ پر عمل کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔

مثال کے طور پر، جمعرات کی شب انہوں نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں کہا کہ پورے مُلک کے ڈی سی اوز کو ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں بند کیے جانے والے گیس اسٹیشنز کی فہرست آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ارسال کریں، تاکہ اتھارٹی ان کے لائسنس منسوخ کرنے کا عمل شروع کرسکے۔

میں یہ کہتا ہوں کہ ڈی سی اوز صاحبان اس رپورٹ کی تیاری میں کس بات کے منتظر ہیں؟

مجھے یقین ہے کہ اوگرا یہ رپورٹ گیس تقسیم کرنے والی پبلک کمپنیز یعنی ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل سے بھی حاصل کرسکتی ہے کہ کون سے اسٹیشنز بند اور کون سے کھلے ہیں، تو وہ خود یہ کام کیوں نہیں کرلیتی؟

آخر جب کوئی اسٹیشن بند ہوتا ہے اور گیس استعمال نہیں کرتا تو کمپنی کے نظام میں اس کا میٹر زیرو پر چلا جاتا ہے۔ تو وہ مالکان جو پبلک کپنیوں سے گیس حاصل نہیں کررہے، انہیں نوٹسز جاری کرکے کارروائی شروع کردینی چاہیے۔

عوامی مفاد میں ایک اور قدم اُن سی این جی اسٹیشنز کے مالکان کے خلاف بھی اٹھانا چاہیے جو حکومت سے گیس خرید کر تو بیچ رہے ہیں مگر اس کی ادائیگی نہیں کررہے۔

ہم جانتے ہیں کہ اس طرح کی ایک فہرست موجود ہے، جس کی تیاری کی ہدایت بذاتِ خود مشیرِ پیٹرولیم نے دی تھی۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ چند سال قبل ایس این جی پی ایل نے ملک بھر کے تمام بڑے بڑے نادہندہ سی این جی اسٹیشنز مالکان کی بھی ایک فہرست تیار کی تھی۔

تو دیر کس بات کی ہے، اس فہرست کو اپ ڈیٹ کیجیے اور اُن کے نام شائع کردیجیے۔

چند اسٹیشنز مالکان کے خلاف سخت کارروائی کرکے انہیں دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بنانا ضروری ہے تاکہ وہ آئندہ حکومت کی ہدایت اور احکامات سنجیدگی سے لیں۔

اگر ایک بار چند مالکان کے خلاف سخت کارروائی ہوجائے، ان پر جرمانے عائد ہوں، لائسنس معطل یا منسوخ ہوں، گیس کی فراہمی روک دی جائے اور ان سے بقایا جات تمام واجبات کے ساتھ وصول کرلیے جائیں تو پھر دوسروں کی بھی آنکھیں کھل جائیں گی۔ وہ ایک بار ضرور یہ سوچیں گے کہ یہ کھیل بدستور جاری رکھیں یا راہ راست پر آجائیں۔

جہاں تک سی این جی اسٹیشنز مالکان کی بات ہے تو وہ دعویٰ کررہے ہیں کہ نقصان میں کاروبار جاری رکھنا ان کے لیے ناممکن ہے۔

اگر موجودہ نرخوں پر کاروبار نقصان میں ہے تو پھر کمپنیوں کے اپنے اسٹیشنز کس طرح بدستور کاروبار کررہے ہیں؟

سی این جی کی حالیہ ہڑتال کے دوران ٹیلی وژن پر ایک رپورٹ نشر ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو کے پاس وہ دستاویزات موجود ہیں، جس کے مطابق سن دو ہزار نو میں نئے سی این جی اسٹیشنز لگانے پر پابندی کے حکم کے باوجود، چار سو نئے اسٹیشنز کے لیے لائسنس جاری کیے گئے۔

یہ لائسنس اوگرا کے سابق چیئرمین کے دور میں جاری کیے گئے تھے، جس پر اُن سے لازمی یہ سوال کرنا چاہیے کہ انہوں نے یہ لائسنس کس کے حکم پر جاری کیے تھے۔

اگر ٹیلی وژن کی مذکورہ بالا رپورٹ غلط ہے اور سن دو ہزار نو میں پابندی کے بعد اوگرا نے نئے لائسنس جاری نہیں کیے تو پھر انہیں اس بات کی تصیح اور وضاحت کرنی چاہیے۔

موثر کارروائی کا وقت آ پہنچا ہے۔ سی این جی اسٹیشنز مالکان جو عوام سے مال بٹور کر ایک طرف ان پر رعب جھاڑتے ہیں تو دوسری طرف حکومت کو آنکھیں دکھاتے ہیں۔ اب انہیں طے کرلینا چاہیے کہ وہ اپنے مفاد اورعیش و آرام کے لیے کب تک صارفین کو، ملک کے نہایت قیمتی قدرتی وسیلے کو استعمال کرتے ہوئے، اپنا یرغمال بناسکتے ہیں۔

حکومت، عدالت اورمیڈیا کا اٹھایا ہوا متفقہ قدم اگر عوام کے بے صبرے پن، جھلاہٹ اور بڑھتے غصے کی بنا پر واپس لیا گیا تو یہ نہایت شرمناک اقدام ہوگا۔

سپریم کورٹ یہ کہنے میں بالکل بجا ہے کہ  پرائسنگ فارمولا میں کچھ ایسے بھی اخراجات ہیں، جنہیں ختم کرنا چاہیے۔

مثال کے طور پر، موجود پرائس فارمولا کے تحت اسٹیشنز مالکان نے ملازمین کی تنخواہوں کو اخراجات کی علیحدہ مد میں ظاہر کیا ہے، جس کا بوجھ صارفین پر ڈالا گیا ہے اور وہ گیس قیمت میں اسے شامل کرکے صارفین سے اینھٹتے  ہیں۔

جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، زیادہ تر کاروبار اپنی آمدنی سے اس طرح کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔

سی این جی اسٹیشنز مالکان کو صارفین سے گیس کی جو قیمت وصول کرنے کی اجازت ہے، وہ گیس شعبے میں اصلاحات سے پہلے کی ہے۔ جس سے اس قیمتی قدرتی وسیلے میں تیزی سے کمی آتی جارہی ہے۔

یہ بات سچ ہے کہ آج اس شعبے میں جو گڑبڑ اور انتشار ہے وہ جنرل مشرف کے دورِ حکومت کا پیدا کردہ ہے۔

گاڑیوں میں بطور ایندھن قدرتی گیس کے استعمال کا پروپوزل سن اُنیّسو اکیانوے سے قبل کا ہے تاہم یہ نواز شریف کی پہلی حکومت تھی جب پہلی بار اس پروپوزل پراس سوچ کے تحت عمل شروع ہوا کہ ملک میں اس ایندھن کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ اُس وقت چوہدری نثار علی وزیرِ پٹرولیم تھے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں وقتی طور پر عوام کو سستا ایندھن فراہم کرنے اور گیس کے بل پر پیداوار میں اضافے کے لیے بنا سوچے سمجھےدوڑ لگادی گئی،  جس کے نتیجے میں ملک میں 'سی این جی اسٹیشنز مالکان مافیا' نے جنم لیا۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم ماضی میں کی گئی غلطیوں کا ازالہ کریں اور ان کو سدھاریں۔ اس کام لیے جو سازگار وقت اب میسر ہے شاید آئندہ نہ مل سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس اہم لمحے پر اپنی گرفت مضبوط کردے۔

 


مضمون نگار کراچی میں مقیم صحافی ہیں، اور بزنس کے معاملات پر لکھتے ہیں۔

[email protected]

ترجمہ: مختار آزاد