کراچی کے علاقے کلفٹن زمزمہ پارک کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا چینی باشدہ ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا جبکہ ایک راہگیر زخمی ہوگئے۔

کراچی کے علاقے کلفٹن میں زمزمہ پارک کے قریب نامعلوم ملزمان نے 46 سالہ چینی باشندے شین زو کی کار پر فائرنگ کی جس کو پولیس نے ٹارگٹڈ حملہ قرار دے دیا۔

ابتدائی طور پر کلفٹن کے ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ شین زو کراچی میں قائم ایک شپنگ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے اور حملے کے وقت وہ اکیلے تھے تاہم بعد میں یہ بات سامنے آئی کی جب ملزمان نے فائرنگ شروع کی تو اس وقت کار میں دو چینی موجود تھے تاہم دوسرا شخص وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا لیکن وہ تاحال نہیں مل پایا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو عملہ موقع پر پہنچا اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا۔

مزید پڑھیں: مغوی چینی باشندوں کا تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف ہونے کا انکشاف

قبل ازیں پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے میں چینی باشندہ شین زو شدید زخمی ہوا اور دوسرے شخص حسن علی کو معمولی زخم آئے ہیں تاہم جائے وقوع سے گولیوں کے 9 خالی خول برآمد ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں جناح پوسٹ گریجویٹ ہسپتال میں شعبہ ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ چینی باشندے کو سر اور ٹانگ میں گولیاں لگی ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔

سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے زمزمہ پارک کے قریب مبینہ فائرنگ سے چینی باشندے کے زخمی ہونے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس جنوبی کو واقعے کی انکوائری کے احکامات جاری کیے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ سے دو چینی باشندے اغوا

وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں۔

خیال رہے کہ کراچی میں چینی شہری پر حملے سے دومہینے قبل ہی چینی حکومت نے پاکستان میں کام کرنے والے اپنے تمام شہریوں کی سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسلام آباد میں قائم چینی سفارت خانے کی ویب سائٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں چینی باشندوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی اطلاعات ہیں جبکہ اپنے شہریوں کو بلا ضرورت باہر گھومنے سے منع کرتے ہوئے گھروں کے اندر محدود ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ 2017 میں بلوچستان میں کوئٹہ سے ایک چینی جوڑے کو اغوا کے بعد قتل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

اس وقت کے وزیرداخلہ چوہدری نثار کو بریفنگ میں کہا گیاتھا کہ کوئٹہ میں اغواہونے والے چینی شہری کوئٹہ میں تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔

چوہدری نثار نے کوئٹہ میں دو چینی باشندوں کے اغوا کے واقعے پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مختلف منصوبوں کے لیے پاکستان کے مختلف حصوں میں موجود چینی باشندوں کا ڈیٹا بینک بنانے کی ہدایت کی تھی۔