شارخ جتوئی صحت کی خرابی کے باعث جیل سے ہسپتال منتقل

اپ ڈیٹ 11 فروری 2018

ای میل

سپریم کورٹ کی جانب سے شاہ زیب قتل کے مقدمے میں ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرنے کے بعد دوبارہ گرفتار ہونے والے شارخ جتوئی کو صحت کی خرابی کے باعث جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ڈان کو ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ شارخ جتوئی کو طبیعت کی خرابی کے باعث کراچی سینٹرل جیل سے جناح ہسپتال لایا گیا تھاجہاں انھیں علاج کے لیے داخل کرلیا گیا ہے۔

جے پی ایم سی کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹرسیمی جمالی کا کہنا تھا کہ وہ شارخ جتوئی کی صحت کی خرابی کی وجہ نہیں بتا سکتیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مریض کو اس وقت تک ہسپتال میں داخل نہیں کیا جاتا جب تک ضروری نہ ہو یا ان کی بیماری کی کیفیت ایسی نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:شاہ زیب قتل کیس: سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا

خیال رہے کہ شارخ جتوئی کو دسمبر 2017 میں رہا کیا گیا تھا اس سے قبل وہ قریب اڑھائی سال تک جناح ہسپتال میں داخل رہے تھے جہاں وہ زیر علاج تھے۔

شارخ جتوئی کے لیے ہسپتال کو سب جیل کا درجہ دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 23 دسمبر 2017 کو کراچی کی ایک سیشن عدالت کی جانب سے رہائی کے حکم کے بعد شازیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت تین ملزمان کو رہا کردیا گیاتھا۔

شاہ رخ جتوئی کو جناح ہسپتال جبکہ دیگر دو ملزمان کو جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے یکم فروری کو شاہ زیب قتل کیس میں متفرق درخواستوں کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شاہ رخ جتوئی سمیت 3 ملزمان کو دی جانے والی ضمانت اور مذکورہ کیس دوبارہ سول عدالت میں چلانے کا فیصلہ معطل کرکے ملزمان کی دوبارہ گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے شاہ زیب قتل کیس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس میں 28 نومبر کو سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے دیا جانے والا فیصلہ معطل کرتے ہوئے پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا۔

عدالت عظمیٰ نے تینوں ملزمان کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم بھی دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر ملزمان ضمانت کی درخواست دائر کریں گے تو اس پر سندھ ہائی کورٹ سماعت آئندہ 2 ماہ کے اندر نیا بینچ قائم کرکے اس کی سماعت کا آغاز کرے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے ملزمان کو کمرہ عدالت سے گرفتار کیا اور انہیں متعلقہ تھانے میں منتقل کیا گیا۔

اس کے علاوہ عدالت نے تمام دائر درخواستوں کو از خود نوٹس میں تبدیل کردیا اور ریمارکس دیئے کہ اس کسی اک تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

ڈان نیوز کے مطابق ملزمان، شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور اور سراج علی تالپور کو بعد ازاں سندھ پولیس کے حوالے کیا جائے گا اور سندھ پولیس انہیں حراست میں لے کر متعلقہ عدالت سے ان کے راہداری ریمانڈ کی استدعا کرے گی۔

شاہ زیب قتل

یاد رہے کہ 24 دسمبر 2012 میں کراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں 20 سالہ نوجوان شاہ زیب شاہ رخ جتوئی اور سمیت 4 ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت نے نوجوان شاہ زیب کو قتل کرنے کے جرم میں شارخ جتوئی اور سراج علی تالپور کو سزائے موت سنادی تھی جبکہ سجاد علی تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

مزید پڑھیں: شاہ زیب قتل کیس: سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

عدالت کی جانب سے سزائے موت سنانے کے چند ماہ بعد شاہ زیب کے والدین نے معافی نامہ جاری کردیا تھا جس کو سندھ ہائی کورٹ نے منظور کیا تھا۔

شاہ زیب کے والدین کی جانب سے معافی نامہ جاری کرنے کے بعد سزائے موت دہشت گردی کی دفعات کے باعث برقرار تھی تاہم 11 نومبر 2017 کو سندھ ہائی کورٹ نے سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ تفتیش کا حکم جاری کردیا تھا جس کا اطلاق گزشتہ ماہ سے ہوچکا ہے۔