وکلاء برادری کا جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف درخواست پر تحفظات کا اظہار

24 مارچ 2018

ای میل

اسلام آباد: بلوچستان کی وکلاء برادری نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تقرری کے خلاف درخواست کی سماعت پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اپنی 3 سالہ مدت پوری کرچکے ہیں اور اب وہ سپریم کورٹ میں جج کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

بلوچستان بار کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایڈووکیٹ ریاض راہی کی درخواست پر نہ صرف تحفظات کا اظہار کیا گیا بلکہ ان کی جانب سے اس معاملے پر بار ایسوسی ایسشن کے تمام نمائندگان کی کانفرنس بلانے پر غور کیا جارہا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے 17 ججوں میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ واحد جج ہیں جو بلوچستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: جوڈیشل کونسل کی کھلی عدالت میں کارروائی،معاملہ چیف جسٹس کے حوالے

اس حوالے سے بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین حاجی عطااللہ نے ڈان کو بتایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مختلف حلقوں کی کمزوریوں کو نمایاں کرنے میں اہم کام کیا جبکہ وہ 8 اگست 2016 کو ہونے والے سانحہ کوئٹہ کی تحقیقات کرنے والے ایک رکنی کمیشن کے سربراہ بھی تھے۔

واضح رہے کہ 8 اگست 2016 کو سانحہ کوئٹہ میں دہشتگردوں کے حملے میں وکلاء سمیت 74 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بار کونسل معزز جج کے خلاف اس اقدام پر ایک قرارداد بھی منظور کرنے کا سوچ رہا، تاہم اس بارے میں حتمی تاریخ بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان کی کانفرنس میں کیا جائے گا۔

جوڈیشل کمیشن پاکستان میں بلوچستان بار کونسل کی نمائندگی کرنے والے بار کے رکن منیر کاکر کی جانب سے بھی قرار داد پاس کرنے کے فیصلے کی حمایت کی گئی، ساتھ ہی ان جانب سے اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ ’ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقرری پر کیوں سوال اٹھ رہے جبکہ وہ بطور چیف جسٹس بلوچستان اپنی 3 سالہ مدت پوری کرچکے اور اب وہ سپریم کورٹ میں جج کے فرائض انجام دے رہے‘۔

یاد رہے کہ 13 مارچ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چیمبر میں سماعت کے دوران ایڈووکیٹ ریاض راہی کی درخواست پر سپریم کورٹ رجسٹرار کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی تھی درخواست کو برقرار رکھنے کے حوالے سے سپریم کورٹ بینچ فیصلہ دے گی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ رجسٹرار کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ بادی النظر میں سپریم کورٹ رولز 1980 کے رول 5 کی آرڈر 27 کی تشریح کے تحت نامناسب ہے۔

جلد سماعت

اس سے قبل ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے درخواست گزار ریاض راہی کا کہنا تھا کہ وہ سوچ رہا ہے کہ اس معاملے کی جلد سماعت کے لیے ایک درخواست دے، جس میں وہ استدعا کرے گا کہ عدالت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی 5 اگست 2009 کو بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور یکم ستمبر 2014 کو سپریم کورٹ میں تقرری کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔

یہ بھی پڑھیں: حدیبیہ پیپرز ملزریفرنس: لائیو پروگرامز میں کیس زیر بحث لانے پر پابندی عائد

انہوں نے زور دیا کہ صوبے کے چیف جسٹس کی براہ راست تقرری کا آئین میں کوئی اختیار نہیں اور آئین کے آرٹیکل 196 اور 200 میں جو طریقہ کار بتایا گیا اس پر عمل نہیں کیا گیا۔

اسی طرح جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تقرری کے لیے آئین کے آرٹیکل 105 کے تحت وزیر اعلیٰ کی تجویز لازمی ہے اور قائم مقام گورنر اعلیٰ عدالت کے جج کا نام آگے بھیجنے کا مجاز نہیں ہوتا۔

درخواست گزار کی درخواست کے مطابق اس عمل سے سپریم کورٹ میں کام کرنے والے دیگر ججوں کی سنیارٹی متاثر ہوئی جو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقرری سے پہلے ہائی کورٹ میں کام کر رہے تھے۔

درخواست میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سپریم کورٹ میں تقرری سے ان سے زیادہ تجربہ رکھنے والے ان کے جونیئر بن گئے تھے۔


یہ خبر 24 مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی