حدیبیہ پیپرز ملزریفرنس: لائیو پروگرامز میں کیس زیر بحث لانے پر پابندی عائد

اپ ڈیٹ 11 دسمبر 2017

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کو براہِ راست ٹیلی ویژن پروگرامز میں زیر بحث لانے پر پابندی عائد کردی۔

جسٹس مشیر عالم، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم خان میاخیل پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ لاہور ہائی کورٹ کے 2014 کے فیصلے کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس پر حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس سے متعلق لائیو ٹیلی ویژن پروگرامز میں بات چیت نہیں ہو سکتی تاہم اس کیس کے حوالے سے کورٹ رپورٹنگ ہو سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹر اتھارٹی (پیمرا) کو ہدایت جاری کی کہ وہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

خیال رہے کہ نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں کیس کے التواء کی درخواست دائر کی گئی تھی جس میں عدالت سے نئے پروسیکیوٹر کی تقرری تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس مشیرعالم نے درخواست پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کے التواء کی یہ کوئی بنیاد نہیں۔

مزید پڑھیں: حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس دوبارہ کھولنا نا انصافی ہے

نیب کے ڈپٹی پروسیکیورٹر جنرل عمران الحق نے اپنے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ نیب پروسیکیوٹر کا عہدہ خالی ہے لہٰذا مناسب ہوگا کہ اس اہم مقدمے میں پروسیکیوٹر خود پیش ہوں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا مذاق نہ اڑایا جائے، عدالت کے لیے ہر کیس انتہائی اہم ہوتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کا مذاق بنانے پر نیب کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اگر نیب کی جانب سے کوئی قانونی افسر اس کیس میں پیش نہیں ہوسکتا تو انہیں چاہیے کہ وہ استعفیٰ دے دیں، جس پر عمران الحق کا کہنا تھا کہ نیب پروسیکیوٹر کی سمری چیئرمین نیب کو ارصال کی جا چکی ہے، جو جلد منظور ہوجائے گی۔

نیب پروسیکیورٹر کے جواب پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ تو پھر ایسا کرتے ہیں کہ چیئرمین نیب کو ہی عدالت میں بلالیتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیس کے التواء کی درخواست کی ہدایت کس نے دی جس پر ڈپٹی پروسیکیورٹر جنرل نیب کا کہنا تھا کہ التواء کی درخواست کا فیصلہ چیئرمین نیب کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

جسٹس مشیر عالم نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیب پروسیکیوٹر کی تقرری سے عدالت کا کوئی تعلق نہیں اور اس موقع پر کیس کی سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: حدیبیہ کیس میں کب کیا ہوا؟ مکمل جائزہ

بعدِ ازاں حدیبیہ پیپرز ملز کیس کی سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو نیب کے ڈپٹی پروسیکیورٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت کے حکم کے مطابق دستاویزات عدالت میں جمع کرادی گئیں جس میں فریقین کے ملک سے روانگی، واپسی اور عوامی عہدے کی تفصیلات شامل ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ نواز شریف کو کس نے جلاوطن کیا اس شخص کا نام کیوں نہیں لے رہے، کیا قانون میں ایسا کوئی تصور ہے کہ کسی کو زبردستی جلا وطن کیا جائے جس پر ڈپٹی پروسیکیوٹر جنرل نیب کا کہنا تھا کہ قانون میں تصور نہیں ہے لیکن ملزم اور حکومت کے درمیان سمجھوتہ ہوا تھا اور وہ خود ملک سے باہر گئے تھے۔

جس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ اگر سابق وزیراعظم خود ملک سے باہر گئے تھے تو ان کے خلاف مفرور کی کارروائی ہونی چاہیے تھی۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کے اندر نئے قواعد بنائے گئے کیا کل حکومت کسی دوسرے ملزم کو معاہدہ کر کے باہر جانے دے گی؟

عدالت عظمیٰ کے جج کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے جج سمیت کسی کو اختیار حاصل نہیں کہ کسی ملزم کو اپنی مرضی سے جلا وطن کر دے لہٰذا عدالت کو بتایا جائے کہ کیا یہ ملک کسی قانون کے تحت چل رہا تھا یا کسی فردِ واحد کی مرضی سے چل رہا تھا؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے جلا وطنی کا تذکرہ کیوں نہیں کیا جبکہ عدالت کا سوال ہے کہ معاملہ سردخانے میں کیوں رکھا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز نے استفسار کیا کہ اٹک قلعے کے اندرکیس کیوں چلایا گیا اس کی وجوہات کیا ہیں، کیا وہاں بھی عدالت موجود ہے جس پر ڈپٹی پروسیکیورٹر نیب کا کہنا تھا کہ وجوہات میرے علم میں نہیں۔

جسٹس مشیرعالم نے استفسار کیا کہ ملزم اٹک میں تھا توطیارہ اغوا کیس کراچی میں کیسے چلا؟

جسٹس قاضی فائز نے استفسار کیا کہ ہارون پاشا کو 265 کے تحت بری کیا گیا لیکن وجوہات نہیں لکھی گئیں تو اس وقت پاکستان کو کون سی حکومت چلارہی تھی جس پر عمران الحق نے کہا کہ اس وقت ملک کے چیف ایگزیکٹو پرویز مشرف تھے۔

نوازشریف کی پاکستان واپسی کے حوالے سے ڈپٹی پروسیکیورٹر نیب کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ہی سابق وزیر اعظم واپس آئے تھے۔

جسٹس قاضی فائزعیسٰی کا کہنا تھا کہ اگرنوازشریف خود ملک سے باہر گئے تھے تو انہیں وطن واپسی کے لیے درخواست دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

جسٹس مشیرعالم نے استفسار کیا کہ ملزمان کی وطن واپسی پر انہیں گرفتارکیوں نہیں کیا گیا جس پر عمران الحق کا کہنا تھا کہ کیس چلنے کے بعد عدالت ہی گرفتاری کا حکم دے سکتی تھی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 17 جولائی 2011 کو اس وقت کے چیئرمین نیب کی جانب سے کیس بحالی کی دوبارہ درخواست دائر کی گئی تھی، جس کے بعد ملزمان نے 17 اکتوبر 2011 کو لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس کے ایک روز بعد ہی ملزمان کو حکم امتناعی دے دیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ اگرہائی کورٹ کا حکم کالعدم بھی کردیں پھر بھی ملزمان کے خلاف ریفرنس تو بحال نہیں ہوگا جس پر عمران الحق کا کہنا تھا کہ ریفرنس بحالی کی درخواست پراحتساب عدالت سماعت کرے گی۔

عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاناما پیپرز کیس کا معاملہ سامنے نہیں آتا تو نیب حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں کچھ نہیں کرتا۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ڈپٹی پروسیکیورٹر نیب سے کہا کہ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کا آپریٹو حصہ پڑھا جائے، اس فیصلے میں حدیبیہ پیپر ملز کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا جبکہ اس میں لکھا گیا ہے کہ جس وقت نیب کی جانب سے اس کیس میں اپیل دائر کی جائے گی تب ہی اسے دیکھا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب حکام اقلیتی فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں جو اس بینچ پر لازم نہیں اور اگر سپریم کورٹ نے اس کیس پر حکم دیا ہے تو پھر ہم سماعت کیوں کررہے؟

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حدیبیہ پیپر مل کیس کی سماعت کل (12 دسمبر) تک ملتوی کردی۔

پیمرا کی ہدایت

بعد ازاں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں تمام نجی سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو حدیبیہ پیپر ملز کو براہِ راست پروگرامز میں زیر بحث نہ لانے کی ہدایت جاری کردی۔

پیمرا کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ حکم کی خلاف ورزی کرنے والے چینلز کے خلاف پیمرا آرڈیننس 2002 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

تاہم حدیبیہ پیپر ملز سے متعلق کھلی عدالت کی کارروائی کی خبریں نشر کی جاسکیں گی، لیکن کوئی تجزیہ اور کیس کی اچھائی یا بُرائی کے حوالے سے کوئی بات شامل نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ رواں برس 10 نومبر کو حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق نیب کی اپیل پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا 3 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔

تاہم 13 نومبر کو حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی سماعت سے قبل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس کیس کی سماعت کے لیے تشکیل کیے گئے بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کر لی تھی۔

بعدِ ازاں اس کیس کی سماعت کے لیے بینچ دوبارہ تشکیل کرنے کا معاملہ واپس چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے جسٹس مشیر عالم، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم خان میاخیل پر مشتمل تین رکنی بینچ تشکیل دیا جس نے 28 نومبر کو اس کیس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ نے نیب سے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔

بعدِ ازاں نیب کی جانب سے نئے پروسیکیوٹر کی تقرری تک سپریم کورٹ میں کیس کے التواء کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور اسحٰق ڈار کے خلاف نیب نے ایک ارب 20 کروڑ روپے بد عنوانی کے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس 17 برس قبل سَن 2000 میں دائر کیا تھا، تاہم 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریفرنس خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نیب کے پاس ملزمان کے خلاف ثبوت کا فقدان ہے۔

پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کیس کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو حدیبیہ پیپر ملز کیس کا ریکارڈ جمع کرایا تھا، جس میں 2000 میں اسحٰق ڈار کی جانب سے دیا جانے والا اعترافی بیان بھی شامل تھا۔

اسحٰق ڈار نے اس بیان میں شریف خاندان کے کہنے پر ایک ارب 20 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کرنے اور جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے کا مبینہ اعتراف کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے اس بیان کو واپس لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ بیان ان سے دباؤ میں لیا گیا۔