اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی اور دیگر پارٹی قائدین کے خلاف مقدمات کو داخل دفتر کردیا۔

فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمندنے کی۔

اس موقع پر پولیس نے عدالت میں رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ پولیس کی جانب سے مقدمات کی نئے سرے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت سے کامیاب مذاکرت کے بعد تحریک لبیک کا دھرنا ختم

پولیس کا مزید کہنا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دوبارہ چالان جمع کرایا جائے گا۔

علاوہ ازیں پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ نیا چالان جمع کرائے جانے تک کیس کی سماعت نہ کی جائے، جس پر عدالت نے مقدمات پر مزید کارروائی روک دی۔

بعد ازاں عدالت نے پراسیکیوٹر کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔

داتا دربار دھرنا

یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے امیر خادم حسین رضوی فیض آباد معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے پر 2 اپریل سے لاہور کے داتا دربار کے باہر دھرنے کی قیادت کر رہے تھے، جو گزشتہ سال پاک فوج کے کردار ادا کرنے کے بعد حکومت اور تحریک لبیک یارسول اللہ (ٹی ایل وائی آر اے) کے قائدین کے درمیان طے پایا تھا۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2018 کو دھرنا دیا تھا، تاہم اس دھرنے کو ختم کرانے کے لیے حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس میں پاک فوج نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: خادم حسین رضوی کی گرفتاری میں مشکلات کا سامنا ہے، ترجمان پنجاب حکومت

تاہم لاہور میں ہونے والے حالیہ دھرنے میں 6 اپریل کو پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ جمعرات 12 اپریل تک ان کے مطالبات پورے نہ ہونے پر وہ اپنے احتجاج کا دائرہ کار ملک کے دیگر شہروں تک پھیلا دیں گے۔

11 اپریل کو 4 بجے کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد تحریک لبیک پاکستان کے سرپرست اعلیٰ پیر افضل قادری کی جانب سے کارکنوں کو سڑکوں پر آنے اور خادم رضوی کی طرف سے احتجاج ختم ہونے کے اعلان تک واپس نہ جانے کی ہدایت کی تھی۔

12 اپریل کو تحریک لبیک پاکستان اور پنجاب حکومت کے درمیان طویل مذاکرات کی کامیابی کے بعد لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جاری دھرنے ختم کردیے گئے تھے۔

تحریک کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت نے فیض آباد دھرنے کے معاہدے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرادی ہے، حکومت نے اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: فیض آباد معاہدے پر عمل نہیں ہواتوملک بھر میں احتجاج ہوگا، خادم رضوی

اس کے علاوہ تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنوں پر قائم مختلف مقدمات کو ختم کرنے پر بھی حکومت نے رضا مندی ظاہر کی تھی۔

دھرنے کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ ہی راولپنڈی میں فیض آباد دھرنے کے دوران ہونے والے پولیس آپریشن سے جاں بحق ہونے والے 4 افراد کا مقدمہ درج کرلیا گیا، یہ مقدمہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کے حکم کے بعد تحریک لبیک کے حفیظ اللہ علوی کی مدعیت میں تھانہ صادق آباد میں درج کیا گیا اور مقدمے میں قتل، اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئیں۔

فیض آباد دھرنا

واضح رہے کہ اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2017 کو دھرنا دیا۔

حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے بعد دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’ملزمان کی عدم پیشی کی صورت میں اشتہاری قرار دے دیا جائے گا‘

آپریشن کے خلاف اور مذہبی جماعت کی حمایت میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، 27 نومبر 2017 کو حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے، جس میں دوران آپریشن گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

بعد ازاں تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان کی رہائی کا آغاز ہوگیا اور ڈی جی پنجاب رینجرز میجر جنرل اظہر نوید کو، ایک ویڈیو میں رہا کیے جانے والے مظاہرین میں لفافے میں ایک، ایک ہزار روپے تقسیم کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔