سیکریٹری بلدیات سندھ کے اسسٹنٹ کا بڑے پیمانے پر کرپشن کا اعتراف، نیب

10 مئ 2018

ای میل

—فائل/فوٹو:امتیاز علی
—فائل/فوٹو:امتیاز علی

قومی احتساب بیورو (نیب) کی زیرحراست سندھ لوکل گورنمنٹ (ایل جی) کے سیکریٹری کے ذاتی معاون نے اطلاعات کے مطابق محکمہ میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے انکشافات کیے ہیں۔

نیب ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ کرپشن سے مستفید ہونے والے افراد کی فہرست لمبی ہے جس میں افسر کی سطح سے وزیر کی سطح تک ملوث ہیں۔

یاد رہے کہ 15 برس سے زائد عرصے تک سیکریٹری محکمہ بلدیات کے ذاتی معاون رہنے والے محمد رمضان سولنگی کو 18 اپریل کو سندھ سیکیریٹریٹ میں ان کے دفتر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

نیب کی تفتیشی رپورٹ کے مطابق انھوں نے نیب ٹیم کے سامنے ‘صاف صاف اعتراف کیا کہ وہ سندھ کے محکمہ بلدیات میں جاری وسیع کرپشن کا متحرک حصہ تھے’۔

رپورٹ کے مطابق انھوں نے پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے نیب ٹیم کو گارڈن کے علاقے میں اپنے گھر لے کر گئے جہاں نقد، بونڈ، بینک ٹریول سرٹیفیکیٹس، زیورات، سونا اور دیگر قیمتی اشیا کو چھپایا ہوا تھا جس کو ان کے فلیٹ میں بنائی گئیں الماریوں سے برآمد کرلیا گیا۔

ان سے برآمد اشیا کی مالیت 33 ملین سے سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:سندھ: بد عنوانی میں ملوث محکمہ بلدیات کا ملازم گرفتار، کروڑوں روپے برآمد

تفتیشی رپورٹ کے مطابق زیرحراست ملزم سے تفتیش کے دوران کرپشن کی کڑیاں دیگر شخصیات سے ملی جس میں ‘سیکریٹری بلدیات، وزیر بلدیات اور دیگر سیاسی شخصیات بھی اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں’۔

نیب ٹیم نے ان کے قبضے سے ایک چٹ بھی برآمد کی ہے جس میں ملزم نے ‘وزیر اور محکمہ کے دیگر عہدیداروں، ایک رکن قومی اسمبلی اور دیگر کے درمیان کرپشن کےماہانہ حصے کا اندراج’ کر کے محفوظ کیا ہوا تھا۔

نیب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محمد رمضان سولنگی نے انکشاف کیا ہے کہ سیکریٹری ایل جی نے مبینہ طور پر ‘فنڈز کی خطیر رقم سولڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ اور واسا حیدر آباد اور حیدرآباد کی دیگر مختلف ترقیاتی اسکیموں کو منتقل کیا اور بعد ازاں ان فنڈز میں سے ایک بڑا حصہ غبن کیا’۔

زیرحراست عہدیدار نے محکمہ لوکل گورنمنٹ میں 600 گھوسٹ ملازمین کا بھی انکشاف کیا جن کی تنخواہوں کے غبن میں محکمے کے مختلف عہدیدار ملوث ہیں۔

انھوں نے نیب کے تفتیش کار کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن (ڈی ایم سی) کراچی ویسٹ کے بجٹ سے ماہانہ بنیادوں پر 100 ملین روپے غبن کیا جا رہا تھا۔

نیب کی تفتیشی رپورٹ کے مطابق انھوں نے ڈی ایم سی کے ماتحت فیول کی مد میں ماہانہ 20 ملین روپے کرپشن کی نذر ہونے کا بھی انکشاف کیا۔

تفتیشی رپورٹ کے مطابق زیرحراست ملزم نے ڈی ایم سی کراچی ویسٹ کے افسران کی جانب سے ٹھیکیداروں کے ساتھ ملی بھگت کو ‘مستقل کرپشن’ سے تعبیر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ‘ترقیاتی کاموں کے لیے جاری ہونے والے فنڈز کا 50 فیصد ان کرپٹ عناصر کو جاتا ہے’۔

نیب نے تفتیش کے دوران سیکریٹری ایل جی کے 21 مختلف بےنامی اکاونٹ کا بھی سراغ لگایا ہے اور نیب تفتیش کار کو اس حوالے سے تفصیلات ان کے بینک ریکارڈ اور چیک بک سے حاصل ہوئیں۔